Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / کیا ملک سے رواداری معدوم ہوگئی ہے؟

کیا ملک سے رواداری معدوم ہوگئی ہے؟

اُمید کہ ’’مہا مایا ‘‘شرپسند طاقتوں کا مکمل خاتمہ کریگی : پرنب مکرجی

بیربھوم ۔ 19 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) عدم رواداری کی لہر میں شدت کے درمیان صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے آج اس بات پرگہری تشویش اور اندیشوں کا اظہار کیا کہ آیا ملک میں رواداری اور اختلاف کو قبول کرنے کی روایت معدوم ہوچکی ہے؟۔ صدر مکرجی نے کہا کہ ’’معاشرتی تکثیر اور انسانیت کو کسی بھی صورت میں ترک نہیں کیا جانا چاہئے۔ سماج میں بدی کی طاقتوں کے خلاف مزاحمت کیلئے ہمیں اپنی اجتماعی طاقت کا استعمال کرنا چاہئے۔ ایک دوسرے میں شیروشکر کی طرح گھل مل جانا ہندوستانی سماج کی ایک منفرد اور نمایاں خصوصیت ہے‘‘۔ صدر پرنب مکرجی نے ایک مقامی ہفتہ واری ’نیا پرجنما‘ کے زیراہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر گہری تشویش اور اندیشوں کا اظہار کیا کہ ’’آیا اختلافات کو قبول کرنے یا رواداری کی روایات معدوم ہوچکی ہیں؟‘‘۔ انہوں نے شرکاء کو رام کرشنا پدم ہمسا کی تعلیمات یاد دلایا اور ’’جاٹو ماٹ ٹاٹو پاٹھ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جہاں کئی عقائد ہیں وہیں کئی راستے بھی ہیں‘‘۔ صدرجمہوریہ نے مزید کہا کہ ’’ہندوستانی تہذیب و تمدن اپنی رواداری کی وجہ گذشتہ 5000 سال سے زندہ جاوید ہے۔ (ہندوستانی تمدن) نے ہمیشہ ہی اختلاف و ناراضگی کو قبول کیا ہے، جہاں بے شمار زبانیںہیں۔ 1600 بولیاں ہیں اور سات مختلف مذاہب بقائے باہم کے جذبہ کے ساتھ باقی و برقرار ہیں۔ ہمارے پاس ایک ایسا دستور ہے جو تمام اختلافات کو قبول کرتا ہے‘‘۔ ہندوستانی سماج میں تکثیری جذبہ اور مخالفانہ رائے کا احترام برقرار رکھنے کیلئے صدر پرنب مکرجی نے یہ پرزور ریمارکس دراصل حالیہ چند ناخوشگوار واقعات کے تناظر میں کئے ہیں۔ مرکز اور مہاراشٹرا میں حکمراں بی جے پی کی حلیف جماعت شیوسینا نے حال ہی میں پاکستان کے افسانوی غزل گلوکار غلام علی کا پروگرام زبردستی منسوخ کروادیا تھا۔ پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمد قصوری کی کتاب کی رسم اجرائی تقریب کا اہتمام کرنے والے دانشور و جہدکار سدھیندر کلکرنی کے چہرہ پر کالک پوت دی گئی تھی۔ نیز آج ہی شیوسینا کے کارکنوں نے ہندوپاک کرکٹ بورڈس کے ذمہ داروں کے مابین بات چیت کے موقع پر پرتشدد احتجاج کیا تھا۔ علاوہ ازیں دادری میں گائے کا گوشت کھانے کی افواہوں پر ایک مسلم شخص کو ہندوتوا کے جنونی عناصر نے بے رحمانہ انداز میں مار مار کر ہلاک کردیا تھا جس کے بعد صدر پرنب مکرجی نے رواداری اور تکثیری معاشرہ پر مبنی ہندوستانی تمدن کے اعلیٰ اقدار کی برقراری کیلئے پرزور اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ کثرت میں وحدت اور رواداری کے جذبہ نے ہندوستان کو صدیوں سے متحد رکھا ہے جس کو ضائع نہیں کیا جاسکتا۔ صدرجمہوریہ نے عدم رواداری اور تنگ نظری کے واقعات کی ایک ایسے وقت سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جب آج ہی دہلی پریس کلب میں چند سخت گیر ہندوتوا عناصر نے جموں و کشمیر کے ایک آزاد رکن اسمبلی شیخ عبدالرشید کے چہرہ پر موبِل آئیل ڈال کر کالک پوت دیا تھا۔ شیخ رشید نے اس ماہ کے اوائل میں سرینگر میں بیف پارٹی کا اہتمام کیا تھا جس پر جموں و کشمیر اسمبلی میں بی جے پی ارکان نے ان (رشید) کو زدوکوب کیا تھا۔ صدر پرنب مکرجی نے درگا پوجا تقاریب کے موقع پر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنی اس امید کا اظہار کیا کہ تمام مثبت طاقتوں کی مجموعہ ’’مہا مایا‘‘ ملک میں تخریب کار اور انتشار پسند قوتوں ’آسورا‘ کا مکمل خاتمہ کردیں گی۔

TOPPOPULARRECENT