Thursday , May 25 2017
Home / شہر کی خبریں / کیا چیف منسٹر ‘ کودنڈا رام کو بھی بے اثر کرنا چاہتے ہیں

کیا چیف منسٹر ‘ کودنڈا رام کو بھی بے اثر کرنا چاہتے ہیں

ٹی جے اے سی میں دراڑیں ‘ریاست میں نئے سیاسی مخالف کو ابھرنے پر کے سی آر فکرمند
حیدرآباد 2 مارچ ( این ایس ایس ) ریاست میں اپوزیشن جماعتوں کو عملا ختم کردینے کے بعد کیا چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اب اپنے پیادوں کو پروفیسر کودنڈا رام کی قیادت والی تلنگانہ جے اے سی کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ریاست میں کوئی متبادل سیاسی مخالف کے طور پر ابھر نہ سکیں ؟ ۔ یہ سوال سیاسی حلقوں میں اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے کیونکہ ٹی جے اے سی میں دراڑیں پیدا ہو رہی ہیں۔ واضح رہے کہ ریاستی انتظامیہ نے کودنڈا رام کی معلنہ بیروزگاری کے خلاف ریلی کو پولیس مشنری کو استعمال کرکے ناکام بنادیا ۔ نہ صرف کودنڈا رام بلکہ کئی دوسرے قائدین کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریلی کے موقع پر ٹی آر ایس کے کئی قائدین نے جنہوں نے تلنگانہ تحریک کے دوران کودنڈا رام کی ستائش کی تھی اور ان کے احتجاجی پروگراموں میں حصہ لیا تھا اچانک ہی وہ خود کودنڈا رام کے خلاف ہوگئے کیونکہ انہوں نے کے سی آر اور حکومت کی نوجوانوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کے خلاف آواز بلند کی تھی ۔ ٹی آر ایس کے یہ وہی قائدین اور کارکن ہیں جنہوں نے کودنڈا رام کی قیادت میں کئی احتجاج کئے ‘ دھرنے دئے ‘ ریل روکو احتجاج کیا اور ملین مارچ میں حصہ لیا تھا اور خود کو گرفتاری کیلئے تک پیش کیا تھا لیکن اب یہی قائدین علیحدہ ریاست کے قیام اور ٹی آر ایس کے برسر اقتدار آتے ہی اپنا لہجہ بدل چکے ہیں۔ اب ٹی آر ایس کے یہ قائدین ٹی جے اے سی اور کودنڈا رام کے خلاف تنقیدیں کر رہی ہیں کیونکہ وہ حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرنے لگے ہیں۔ ٹی آر ایس اور ملازمین تنظیموں کے قائدین نے تلنگانہ تحریک کے دوران پولیس کے استعمال پر سابقہ کانگریس کو نتقید کا نشانہ بنایا تھا لیکن اب بیروزگاروں کی ریلی کو ناکام بنانے کیلئے پھر اسی بہیمانہ طاقت کا استعمال کیا گیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ریاستی انتظامیہ اور پولیس کے بعض حکام نے طلبا اور نوجوانوں کو جو سابق میں کئی احتجاجوں میں حصہ لے چکے ہیں تخریب کار اور غیر سماجی عناصر تک قرار دیدیا ہے ۔ کودنڈا رام کی ریلی کو ناکام بنادینے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ یہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ ٹی جے اے سی میں پھوٹ ڈالی جائے اور کودنڈا رام اور ان کی پالیسیوں کو نشانہ بنایا جائے ۔ چونکہ ریاست میں اپوزیشن جماعتیں عملا بے اثر ہوگئی ہیں ایسے میں کودنڈا رام کی قیادت والی ٹی جے اے سی اچانک ہی ایک طاقت بن کر ابھری ہے تاکہ کے سی آر کو نشانہ بنایا جاسکے ۔ چیف منسٹر کے سی آر آپریشن آکرشن کے بعد بلاشبہ سیاسی طاقت بن گئے ہیں لیکن لگتا ہے کہ انہیں کودنڈا رام کی قیادت سے خطرہ محسوس ہونے لگا ہے ۔ چونکہ اپوزیشن کودنڈا رام کی تائید میں اتر آئی ہیں اس لئے کے سی آر نے کودنڈا رام کو بھی اپنا سیاسی حریف بننے سے روکنے مہم شروع کردی ہے ۔ یہ اشارہ اس حقیقت سے ملتا ہے کہ ٹی جے اے سی میں دراڑیں آ رہی ہیں اور کچھ عناصر کودنڈا رام پر جاگیردارانہ سوچ کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT