Friday , August 18 2017
Home / مضامین / کیا کانگریس نے سالانہ امتحان

کیا کانگریس نے سالانہ امتحان

( الیکشن 2019) کی تیاری کرلی ہے ؟

مجید صدیقی
آج کل ہندوستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے ‘ حتی کہ ایمرجنسی میں بھی ملک کی حالت ایسی نہ تھی ۔ شائد آزادی کے بعد سے پہلے موجودہ دور میں جو ملک میں ہر طرف لاقانونیت ‘ افراتفری اور خوف و ہراس کی فضاء پہلے نہیں دیکھی گئی ہے ۔ حکمراں جماعت بی جے پی کے قائد وزیراعظم نریندر مودی اپنی شاطرانہ چالوں سے ایک کے بعد ایک قلعے فتح کرتے جارہے ہیں اور سیکولرازم اور جمہوریت کے قلعہ پامال کرتے جارہے ہیں ۔ الیکشن مہم کے دوران مودی نے کہا تھا ’’ آپ نے کانگریس کو 50سال دیئے ہیں اور مجھے صرف 5 سال دیجئے دیکھئے میں کیا کردکھاتا ہوں ‘‘ ۔ یقیناً ہندوستانی عوام کی بہت بڑی غلطی تھی کہ انہوں نے مودی جی کی باتوں میں آکر انہیں اپنا نیتا چن لیا اور اب اس کا خمیازۃ بھی بھگت رہے ہیں ۔ پارلیمانی جمہوریت میں پارٹیںا ‘ شخصیتیں آتی ہیں ‘ حکومت کرتی ہیں اور چلی جاتی ہیں لیکن مودی سرکار کی پالیسیاں اور ریشہ دوانیاں موجودہ دور میں اپنے عروج کو پہنچ چکی ہیں ۔
مودی نے بڑی ہوشیاری سے ہندوستانی عوام کو بیوقوف بناکر اقتدار تو حاصل کرلیا لیکن وہ صحیح اور سچی حکمرانی قائم کرنے میں ناکام رہے ۔ کیا ملک کا وزیراعظم سب سے زیادہ طاقتور آدمی ہوتا ہے بلالحاظ عہدہ ‘ وہ پارلیمنٹ میں تین اہم موقعوں پر مون ورت رکھ سکتا ہے ۔ پہلی مرتبہ دادری میں اخلاق حسین کے گاؤ رکھشکوں کے ہاتھوں قتل کے موقع پر ‘ اس سے قبل متنازعہ حرکات پر ان کی سنگھ پریوار کی تنظیموں کی وجہ سے جیسے لوجہاد ‘ گھر واپسی ‘ پاکستان چلے جانے کی دھمکیاں دینے اور مذہب کی تبدیلی کیلئے باضابطہ مہم چلانے پر تیسری دفعہ نوٹ بندی پر ایک عرصہ تک خاموش رہے ۔ ایک مرتبہ ملک میں عدم روادی کی لہر چلنے پر بھی ان سے بیان دینے کہا گیا تھا لیکن وہ چپ رہے ‘ اس کے بعد گائے پر سیاست شروع ہوئی اور گاؤ رکھشکوں کو مسلمانوں کو ہجوم کی شکل میں قتل کردینے کی چھوٹ دے دی گئی ۔ پھر آیا بھارت ماتا کی جئے نعرہ لگانے والے ہی محب وطن کہلائے اور یہ نعرہ نہیں لگانے والوں پر غداری کا الزام لگایا جانے لگا ۔ مسلمان تو وہ ہیں جنہوں نے ملک کی آزادی میں اپنا تن من دھن اور آخر میں اپنی جان بھی قربان کردی اور شہید بھی ہوکر عظیم قربانیاں دیں ۔

تاریخ اُٹھاکر دیکھئے انگریزوں کے وفادار کون تھے ‘ کن لوگوں نے گرفتاری اور شزاؤں کے خوف سے انگریزوں کو حلف نامے لکھ کر دیئے تھے ‘ آج وہی ملک سے وفاداری کی بات کرتے ہیں ۔ ملک کے ان حالات میں دستور کا حلف لینے والے وزیراعظم اپنے فرائض سے کوتاہی برت رہے ہیں ‘ اسی لئے ملک میں تشدد پروان چڑھ رہا ہے اور ملک کے طول و رض میں تشدد کی لہر چل رہی ہے ۔ ملک کے وزیراعظم کی وارننگ کے باوجود گاؤ رکھشک بڑے ڈھیٹ طریقے سے ہجوم بناکر منصوبہ بند طریقہ سے معصوم مسلمانوں کو زدوکوب کررہے ہیں ‘ کبھی گھر میں گھس کر انہیں باہر لاکر ‘ کبھی ٹرین کے ڈبے میں ( جنید اور ان کے بھائیوں پر حملہ ) اور کبھی موٹر کاروں اور ٹرالیوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں ہلاک کر کے ان کی موٹریں بھی جلا دے رہے ہیں ۔ اس کے باوجود وزیراعظم کے دل میں رحم نام کی کوئی چیز نہیں ہے وہ گاؤ رکھشکوں کو وارننگ دیتے ہوئے انہیں پس پردہ آن کی ہمت افزائی کررہے ہیں جیسے ’’ گائے ہماری ماں کے جیسی ہے ‘ اس کی حفاظت بھی ضروری ہے لیکن کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ‘‘ وغیرہ ۔ یہاں مودی کے دوہرہ معیارات دیکھے جاسکتے ہیں ‘ انہوں نے ہندوستان کی نبض اور مزاج کو دیکھ لیا ہے جو کہ مہاتما گاندھی کو ہمیشہ اپنے دل میں رکھتے ہیں ان کے اصولوں پر چلتے اور دوسرے ملک کا ایک بڑا طبقہ سیکولر مزاج کا حامل ہے اور انہیں سیکولر شراب پلاکر ہی اپنا کام نکالا جاسکتا ہے ۔ اسی وجہ سے وہ سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر ہمیشہ سیکولرازم کی بات کرتے ہیں ‘ جمہوریت کی بات کرتے اور مہاتما گاندھی کے آدرش پر چلنے کی بات کرتے ہیں ‘ حالانکہ درپردہ وہ آر ایس ایس کے خفیہ ایجنڈے پر اپنی پوری توانائیاں صرف کررہے ہیں اور اسی پر عمل کررہے ہیں ۔انہیں ملک اور ملک کے عوام سے زیادہ اپنی پارٹی عزیز ہے اور وہ ہمیشہ کسی نہ کسی بہانے پارٹی کا کام کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔

 

اب تو وہ صاف سیاسی ریشہ دوانیوں اور منصوبہ بند سازش پر اتر آئے ہیں ۔ اس سے قبل منی پور اور گوا میں ان کی پارٹی بی جے پی اقلیت میں ہونے کے باوجود توڑ جوڑ کر دوسرے آزاد ممبران اور کانگریسی ممبران اسمبلی کو ساتھ لیکر حکومت بناچکے ہیں اور اب ان کا اگلا نشانہ حکومت بہار تھی جہاں انہوں نے ایک منصوبہ بند طریقہ سے لالو پرساد یادو کے فرزند تیجسوی یادو ( آر جے ڈی ) کو نشانہ بناکر سی بی آئی دھاوے کرواکر اور ان کے غیر معینہ اثاثہ جات کی جاچن کی گئی اور ان پر دولت کے اخفاء اور انکم ٹیکس کے دو کیس عائد کردیئے ہے ۔دوسری طرف لالو پرساد یادو ( صدر آر جے ڈی ) پر مزید و کیس قائم کردیئے گئے ۔ اس طرح نتیش کمار چیف منسٹر بہار و مہاگٹھ بندھن کے اپوزیشن کے اہم قائد تھے انہیں اپنے جال میں پھانس کر بہار کی مخلوط حکومت جس میں آر جے ڈی شامل تھی الگ کردیا گیا اور نتیش کمار نے وقتی مطلب پرستی سے کام لیتے ہوئے بہار میں بی جے پی کی تائید سے سرکار بنائی ۔ اس طرح اپوزیشن کو خصوصاً کانگریس کو بہار میں ایک اور دھکا لگا ۔
نتیش کمار کو ہندوستان کے عوام ایک ایماندار اور سچا سیاستداں مانتے تھے ‘ وہ بھی مودی کے چال میں پھنس گئے جس سے اپوزیشن خصوصاً کانگریس کی مشلات اور بڑھ گئیں ‘ یہ مودی جی کا کارنامہ ہے ۔ اس طرح سے بی جے پی اب اپنی نچلی سیاست پر اتر آئی ‘ بقول راہول گاندھی کانگریس نے اس ردوبدل کی سختی سے مذمت کی ہے کیونکہ وہ بھی اس مہاگٹھ بندھن کا بہار میں ایک حصہ ہے ۔ اس دوران کانگریس کو جو اپوزشین کی سب سے بڑی جماعت ہے ‘ پئے در پئے جھٹکے لگ رہے ہیں ۔ مودی کانگریس کو ہر معاملہ میں شکست دیتے چلے آرہے ہیں ۔ ایک مثال حال ہی میں ہندوستان کے 14ویں صدر جمہوریہ کے انتخاب کے معاملہ میں بی جے پی کے صدارتی امیدوار رام ناتھ کوند کا ایک بڑے مارجن انتخاب اور دوسری طرف اپوزیشن کی ماہر سیاست داں اور تجربہ کار سابق اسپیکر لوک سبھا میرا کمار کی بری طرح شکست نے بھی کانگریس کے حواس اڑا دیئے ہیں ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ مقابلہ دلت vs دلت ہوچکا تھا لیکن کانگریس کی اس بار وہی غلطی رہی جو اس سے پہلے اس نے کی تھی یعنی صدارتی امیدوار کا تاخیر سے اعلان ۔ اگر میرا کمار کا نام رام ناتھ کوند سے پہلے مشہور کیا جاتا تو ہوسکتا ہے وہ کامیاب بھی ہوجاتیں کیونکہ وہ دلت قائد بابو جگجیون رام کی پوتری ہیں ۔ بہرحال ایک عرصہ سے کانگریس کی قسمت میں ناکامی ہاتھ آرہی ہے ۔
مودی کا اب اگلا نشانہ عدلیہ ( جوڈیشری) ہے کیونکہ ان کے فرقہ پرستانہ عزائم کی راہ میں بس وہی ایک رکاوم ہے ۔ اس سے قبل بھی وہ جوڈیشری پر حملہ کرچکے ہیں ۔ اس طرح سے کہ ججس کے انتخاب کے کالجیم سسٹم کو نیشنل جوڈیشیل آفیسر سلکشن کمیشن سے بدلنے کی بھرپور کوششیں کرچکے ہیں لیکن عدالت العالیہ نے اس کوشش کو ناکام کردیا تھا ‘ ورنہ سپریم کورٹ ‘ ہائی کورسٹ ( تمام ملک کے ) میں مودی اور بی جے پی کے منتخبہ اور پسندیدہ ججس ہوتے تھے ۔ یہ ایک انتہائی مذموم کوشش تھی جو ناکام ہوگئی ۔ مسلمانوں اور اقلتیوں کیلئے انصاف کی ایک کرن اب صرف عدالتیں ہی رہ گئیں ہیں ۔ اب ملک کے اعلیٰ عہدوں پر آر ایس ایس ( بی جے پی) سے تعلق رکھنے والے قائدین نظر آرہے ہیں جیسے وزیراعظم مودی ‘ صدر جمہوریہ کوند ‘ نائب صدر وینکیا نائیڈو ۔ کانگریس موجودہ دور میں ایک سنگین بحران سے گزر رہی ہے جس کی مثال اس کے قیام کے بعد سے اب تک نہیں ملتی ۔ اس سے قبل بھی کانگریس پر کئی مصیبتیں آئیں لیکن اس نے ہر مشکلات کا مقابلہ کیا اور پھر اور زیادہ طاقتور بن کر ابھری تھی ۔
موجودہ حالات میں کانگریس کا المیہ یہ ہے کہ اس کے پاس سوائے سونیا گاندھی کے کوئی ماہر سیاست اور سمجھدار قائد نہیں ہے ۔ وہ اب عمر رسیدہ ہوچکی ہیں اور اکثر بیمار بھی رہتی ہیں ۔ اس لئے وہ اس ذمہ داری کو اپنے فرزند راہول گاندھی کو سونپنا چاہتیہیں لیکن تقریباً 8سال کے دوران بھی راہول گاندھی میں اتنا سیاسی شعور پیدا نہ ہوسکا جس کی اب نریندر مودی کے قابل ضرورت ہے ۔ سونیا گاندھی کے شہزادے راہول گاندھی کی رگوں میں اس میں شک نہیں کہ عظیم رہنماؤں ‘ سیاستدانوں کا خون ہے لیکن ابھی بھی وہ پختہ شعور ‘ دوربینی اور مدبرانہ سیاست میں بچے ہی کہلائے جارہے ہیں ۔ ابھی انہیں مزید ٹریننگ کی ضرورت ہے ۔ اس کے برعکس ان کی بہن پرینکا گاندھی میں پختہ سیاسی شعور اور ذہانت و فطانت بھری ہوئی ہے ۔ کانگریس اگر 2019ء میں اپنا یہ ٹرمپ کارڈ استعمال کرسکتی ہے توکامیاب ہوسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT