Monday , May 22 2017
Home / مضامین / کیا ہم کشمیر ہار چکے ہیں ؟

کیا ہم کشمیر ہار چکے ہیں ؟

شیکھر گپتا
کیا ہم کشمیر ہار چکے ہیں ؟ ۔ اس کا جواب ہے نہیں۔ لیکن ہمیں تمام حالات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔
ہم 1947 سے کئی بار کشمیر کو ’ ہار ‘ چکے ہیں۔ پہلی مرتبہ اس وقت جب پاکستانی حملہ آور سرینگر ائرپورٹ پر قبضہ کرنے والے تھے جب لیفٹننٹ جنرل ( اس وقت کے لیفٹننٹ کرنل ) ہر بخش سنگھ کی افواج وہاں پہونچ گئیں۔ اس وقت کی صورتحال کا پتہ چلانے کیلئے کسی لائبریری سے لیفٹننٹ جنرل لیونل پروٹپ کی تحریر پڑھنے کی ضرورت ہے ۔
دوسری مرتبہ ہم 1965 میں کشمیر ’ ہار ‘ گئے ۔ اس وقت پاکستان کے عزائم منطقی انجام کو پہونچے تھے جن کی شروعات 1962 ( ہندوستان کی چین کے خلاف شکست ) میں ہوئی تھی ۔
درگاہ حضرت بال سے مقدس اشیا کی چوری کے بعد وادی میں بڑے پیمانے پر عوامی برہمی پیدا ہوئی تھی ۔ اس وقت پنڈت نہرو کے زوال کی شروعات میں نئی دہلی کا موقف کمزور تھا اور پھر بالآخر ایوب خان نے آپریشن جبرالٹر شروع کیا تھا ۔ اس میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی فوج کے باقاعدہ سپاہی وادی میں گھس آئے تھے ۔ اس کے بعد چمب میں آپریشن گرانڈ سلام بھی تقریبا کامیاب ہوگیا تھا ۔
اس وقت ہم کشمیر ہارنے کے کتنے قریب پہونچ چکے تھے اس کا جائزہ لینے جنرل ہربخش سنگھ کے جنگی خطوط پڑھنے کی ضرورت ہے ۔ اس وقت ہمارے پاس پیشہ ور ‘ ماہر ‘ سپاہیانہ ‘ دانشورانہ اور موثر جنرلس تھے ۔ اب جو دوسری صلاحیت دیکھنے میںآ رہی ہے وہ پرائم ٹائم ٹیلی ویژن جنگ ہے جو ماضی میں نہیں تھی ۔ ان خطرناک وقتوں کے جنرلس نے اپنی زندگیاں حقیقی دشمنوں کے خلاف حقیقی جنگیں لڑتے ہوئی گذاری تھیں نہ کہ کچھ ریت کے نمونوں کے خلاف ۔ ایسے میں ہندوستان 1965 میں فوجی اعتبار سے آخری مرتبہ کشمیر ہارنے کے درپہ تھا ۔ اس کے بعد سے 52 سال گذر چکے ہیں۔ تو ہمیں فکرمند ہونے کی ضرورت کیا ہے ؟ ۔
ہمیں اس حقیقت کے تعلق سے فکرمند ہونے کی ضرورت ہے کہ جب آخری فوجی خطرہ کو ختم کئے 52 سال گذر چکے ہیں کشمیر پر ہماری سوچ و فکر اس قدر فوجی نوعیت کی ہوگئی ہے جتنی ماضی میں ہوا کرتی تھی جب دیش بھکتی کو ہوا دی جا رہی تھی اور اسکولس کی اسمبلیوں میں یہ پڑھا جاتا تھا کہ ’’ ہوشیار ‘ تم کو اپنے کشمیر کی رکشا کرنی ہے ‘‘ ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ماضی میں فوجی خطرہ کا خیال حقیقی تھا ۔

اس وقت میں کشمیری عوام کو بھی وسیع تر قوم پرستی اور قابل بھروسہ سمجھا جاتا تھا ۔ یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ 1965 میں در اندازوںکو مقامی عوام نے دھتکار دیا تھا اور ان کی اطلاع دی تھی ۔ آج تقریبا کوئی فوجی خطرہ نہیں ہے لیکن ہم نے اپنے آپ کو ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں خود اپنے عوام کو فوجی خطرہ سمجھا جا رہا ہے ۔ یہی اصل فرق ہے ۔ ایسے میں یہ ایک قابل غور نکتہ ہوسکتا ہے کہ علاقائی اعتبار سے کشمیر محفوظ ہے لیکن ہم بہت تیزی کے ساتھ جذباتی اور نفسیاتی اعتبار سے اس کو ہار رہے ہیں۔ یہاں تین سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ہم یہ کس طرح جانتے ہیں ؟ ‘ کیا ہمیں اس کی پرواہ ہے ؟ اور آخر میں کیا ہمیں پرواہ کرنی چاہئے ؟ ۔ ہمیں دوسرے سوال کا جواب پہلے دینا چاہئے کیونکہ یہ مختصر ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نہیں ‘ ہم پرواہ نہیں کرتے ۔ اس کی وجہ بھی مختصر ‘ اور واضح ہے جیسا دوسرے حب الوطنی کے دلائل ہوتے ہیں۔ ان افراد کی محبت حاصل کرنے کی فکر و پرواہ کیوں کی جائے جو آپ سے نفرت کرتے ہوں ‘ جو لوگ کئی دہوں سے وفادار نہیں ہیں جو پاکستان کا حلف لیتے ہیں اور آپ کے سپاہیوں پر سنگباری کرتے ہیں ؟ ۔ ایک ابھرتا ہوا ہندوستان اس کھلی غداری کو کس طرح برداشت کرسکتا ہے جب عام افراد کو اپنے ہی ملک میں کسی سنیما ہال میں قومی ترانہ کے وقت وقت پر کھڑے نہ ہونے پر جیل بھیج دیا جاتا ہے یا زد و کوب کیا جاتا ہے ؟ ۔ جو کشمیری ہندوستان کو پسند نہیں کرتے وہ پاکستان جاسکتے ہیں ۔ پہلے سوال کا جواب خود ظاہر ہے ۔ کئی مہینوں سے کشمیری عوام ہزاروں کی تعداد میں لاٹھی ‘ گولی اور پیلیٹ گنس سے بے خوف ہوکر سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ جب مزید وقت گذر جائیگا تو یہ لوگ انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کئے جانے پر اپنے ساتھی کشمیریوں کی قربانی میں پس و پیش کو بھی ختم کردینگے ۔ سرینگر کے ضمنی انتخاب میں صرف 7 فیصد نے ووٹ دیا ہے ۔ آپ کو اب کوئی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے کہ زمین پر آپ کی گرفت مستحکم ہے لیکن آپ لوگوں کو ہار رہے ہیں۔ تیسرا سوال ‘ کیا ہمیں پرواہ کرنی چاہئے ‘ بہت پیچیدہ ہے ۔ اگر آپ آج کے معمول کے ہائپر نیشنلسٹ ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ غداروں کو پاکستان جانے دیا جائے ۔ پھر وادی کو نیشنلسٹوں ( ہندووں ) کو دوسری ریاستوں سے لا کر بھر دیا جائے ۔ یا پھر برسر اقتدار پارٹی کے کچھ ذمہ دار قائدین کی تجویز کے مطابق کشمیریوں کو وہاں سے نکالا جائے اور انہیں دور دراز کیمپوں میں ( جیسے ٹاملناڈو ) میں آباد کیا جائے ۔ جس طرح مچھلی کو نکال کر تالاب کو خالی کیا جاتا ہے ۔
یا جیسا کہ کچھ سینئر سبکدوش فوجی جنرلس کا اصرار ہے کہ صرف گولیاں چلائی جائیں اور ہلاک کیا جائے ۔ ہوسکتا ہے کہ ایک آدھ سو کے مرنے کے بعد صورتحال قابو میں آجائیگی ۔  یہ نہ صرف کشمیر بلکہ خود ہندوستان ہارنے کا یقینی راستہ ہے ۔
ایسا ملک جو اپنی طاقت ‘ حوصلہ ‘ توجہ ‘ فوجی صلاحیت کو پروان چڑھاتا ہے 50 سال سے یہ کوشش کر رہا ہے لیکن ناکام ہے ۔ 1967 میں چھ دن کی جنگ کے دوران وسیع عرب علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد سے اسرائیل نے کئی مختلف طریقوں سے اس خطہ اراضی پر قبضہ رکھنے کی کوشش کی ہے اور وہ وہاں سے عوام کو نکالنا چاہتا تھا ۔
اسرائیل کو عموما مغربی طاقتوں کی طاقت ‘ مثالی فوجی سبقت اور نئے وفادار شہریوں کی اکثریت ‘ افریقہ اور مشرقی یوروپ سے ہجرت کرکے آنے والے یہودیوں کی حمایت حاصل رہی ہے ۔ اسرائیل کئی گوریلا تحریکوں ‘ جیسے انتفادہ ‘ کو کچلنے میں کامیاب رہا ہے اور اس کام کیلئے اس نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی دباؤ کو خاطر میں لانے سے انکار کیا ہے ۔ اس نے دیکھتے ہی گولی مارنے کا طریقہ اختیار کیا اور دیواریں تعمیر کیں جس سے اس کا سماج فوجی ہوگیا ہے ۔ وہ اس خطہ اراضی پر قبضہ رکھنے میں تو کامیاب ہے لیکن یہاں لوگ بھی موجود ہیں۔ مغرب ایشیا کی طاقتور ترین فوجی طاقت ‘ جس نے اردن ‘ شام ‘ مصر اور لبنان کی فوجوں کو ماضی میں شکست دی تھی ‘ در اصل افسردگی اور مستقل تعطل میں پھنسی ہوئی ہے ۔
یہ تصور کرنا کہ یہ طریقہ ہندوستان کیلئے موثر ہوگا ایک خواب ہے ۔ یہ خود کشی کے مترادف بھی ہے ۔ کیونکہ جیسا کہ ہم ( بشمول مضمون نگار ) اسرائیل کو اس کی قومی صلاحیتوں کی وجہ سے پسند کرتے ہیں لیکن ہندوستان اسرائیل نہیں ہے ‘ وہ اسرائیل نہیں بن سکتا اور نہ اسے بننا چاہئے ۔ اسرائیل نظریاتی طور پر ایک یہودی مملکت ہے جہاں مقیم عربوں کی خاطر خواہ تعداد ووٹ تو دے سکتی ہے لیکن وہ مساوی درجہ کے شہری نہیں ہیں۔
ہندوستان میں ہر مسلمان ‘ بدھسٹ ‘ عیسائی ‘ پارسی اور بے دین بھی مساوی شہری ہیں اور انہیں مساوی حقوق حاصل ہیں اور وہ انتہائی حساس ذمہ داری کے عہدہ پر بھی فائز ہوسکتے ہیں۔ ایک ملک اور دو نظام دستوری طور پر غیر ممکن ہے اور یہ ایک منفرد ڈکٹیٹر شپ جیسے چین میں ہی کامیاب ہوسکتا ہے جیسا ہانگ کانگ کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ گذشتہ پندرہواڑہ میں ‘ میں دہلی کے ستیہ سائی بابا آڈیٹوریم میں سابق Raw سربراہ اور کشمیر کے گورنر گریش چندر سکسینہ کی یاد میں منعقدہ اجلاس میں شریک تھا ۔ 1991 کے موسم بہار میں جب پاکستان کی جانب سے در اندازی عروج پر تھی میں اور اس وقت کے ٹائمز میگزین کے بیورو چیف ایڈورڈ ڈیسمنڈ نے لائین آف کنٹرول پر چند دن گذارنے کا منصوبہ بنایا تاکہ اس لڑائی کو قریب سے دیکھ سکیں۔
ہم اس وقت کے مرکزی معتمد داخلہ نریش چندرا کے پاس مدد کیلئے گئے ۔ وہ اس خیال کے حامی تھے اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ وزارت دفاع سے مدد کیلئے کہیں گے ۔ میں نے سوال کیا کہ لیکن کیا ہمیں سب سے اہم گورنر کی مدد کی ضرورت نہیں ہے ؟ ۔ انہوں نے جواب دیا تھا کہ فکر مت کیجئے وہ گورنر سے بھی کہیں گے ۔ ان کے چہرہ پر ایسی مسکراہٹ تھی جس سے وہ بعد میں زیادہ واقف ہوگئے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر ان کیلئے بڑے بھائی جیسے ہیں۔ نریش چندرا بھی اس یادگاری اجلاس میں شریک تھے ۔ یہ ان کے بھائیوں جیسے بہتر تعلقات ہی کا نتیجہ تھا کہ ہم نے اوری کے قریب کچھ وقت گذارا لیکن ایک انکاؤنٹر اسی دن ہوا جس دن ہم کسی تاثر کے بغیر واپس ہوگئے تھے ۔ لیکن ہماری گریش چندر سکسینہ سے بات ہوئی تھی ۔
میں نے ان سے سوال کیا تھا ’ کیا ہم کشمیر ہار چکے ہیں ‘ اس وقت گھریلو تخریب کاری عروج پر تھی ۔ آج کی نسل اسے کشمیر کی تخریب کاری کے ( وشال بھردواج کی فلم ) حیدر کے مرحلہ سے تعبیر کرسکتی ہے ۔ ان کا جواب تھا نہیں ’ ایسا نہے ہے ۔ کسی ملک میں یہ صلاحیت ہونی چاہئے کہ وہ ایک جٹ رہے اور ہم میں یہ صلاحیت موجود ہے ۔ اس وقت انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جب ملک کا عزم اور حوصلہ بحال ہوجائے تو عوام کو یہ سمجھانے کیلئے ایک سیاسی منصوبہ کی ضرورت ہے کہ ان کی بہتری ہندوستان کے ساتھ رہنے میں ہے ۔ ان کا کہنا تھا ہم جو کام کرتے ہیں وہ اب بھی آسان ہے ۔ حقیقی چیلنج سیاسی طور پر وسیع القلبی کا ہے ۔
آج کے دور میں بھی گریش چندر سکسینہ وہی الفاظ دہراسکتے تھے ۔
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT