Wednesday , June 28 2017
Home / مضامین / کیا ہندوؤں نے کبھی بیف نہیں کھایا؟

کیا ہندوؤں نے کبھی بیف نہیں کھایا؟

امجد خان
ہندوؤں کے قدیم ترین مذہبی تحریروں میں شامل ’رِگ وید‘ میں ’اَگھنیا‘ کی صفت کا اطلاق گائے کیلئے ہوتا ہے یعنی ایسی گائے جو دودھ دیتی ہے اور اس لئے اسے مار ڈالنا ٹھیک نہیں۔ یہ سچ ہے کہ ریگ وید میں گائے کا احترام ہے۔ لیکن یہ تعظیم و تکریم کی شکلیں صرف کاشتکار طبقہ سے متوقع ہیں جیسا کہ ہند۔ آریائی لوگ۔ گائے کے اس مفید استعمال نے آریائی لوگوں کو غذائی مقاصد سے گائے کاٹنے سے نہیں روکا۔ درحقیقت، گائے کو تو اس لئے کاٹا گیا کیونکہ گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ ایسا نہیں کہ ویدک دور میں گائے مقدس نہیں تھی، یہ اُس کا تقدس ہی تھا کہ وجاسنیئی سمہیتا میں حکم دیا گیا کہ بیف کھانا چاہئے۔ رگ وید کے آریائی لوگوں نے غذائی مقاصد کیلئے گایوں کا کاٹا اور کثرت سے بیف کھایا جو خود رِگ وید سے واضح ہے۔ رگ وید (X.86.14) میں اندرا کے الفاظ ہیں: ’’انھوں نے ایک 15 جمع بیس بیلوں کی غذا بنائی۔‘‘ رگ وید (X.91.14) میں ہے کہ اَگنی کیلئے گھوڑے، بیل، بانجھ گائیں اور مینڈھے قربان کئے گئے۔ رگ وید (X.72.6) سے معلوم ہوتا ہے کہ گائے کو تلوار یا کلہاڑی سے کاٹا گیا۔
صحیح بات یہ ہے کہ ستاپتھا برہمنا اور اَپس تمبا دھرم سوتر کی گواہی کہ ہندو لوگ گائے کو کاٹنے اور بیف کھانے کے خلاف تھے، محض گائے کاٹنے کی زیادتی کے خلاف تاکید ہے، نہ کہ گائے کاٹنے کے خلاف پابندی۔ بلکہ ایسی تاکید سے ثابت ہوجاتا ہے کہ گائے کاٹنا اور اس کا گوشت استعمال کرنا عام رواج ہوچلا تھا۔ تاہم ایسی تاکید کے باوجود گائے کاٹنا اور بیف کھانا جاری رہا۔ ایسی تاکیدوں کا کچھ اثر نہ ہوا، یہ آریائی لوگوں کے بڑے رِشی یجنولکیا کے عمل سے ثابت ہوتا ہے  …  تاکید سننے کے بعد جواب میں یجنولکیا نے یوں کہا:’’جہاں تک میرا معاملہ ہے، میں اسے کھاتا ہوں، بشرطیکہ یہ نرم ہو۔‘‘ ایک دور میں ہندوؤں نے گائے کاٹے اور بیف کھائے اس کا ثبوت یجناس کی بدھ سوتروں میں دی گئی تشریح سے کثرت سے ہوتا ہے، جن کا تعلق ویدوں اور برہمنوں سے کافی بعد والے اَدوار سے ہے۔ گایوں اور جانوروں کو کاٹنا بہت بڑے پیمانے پر ہوا کرتا تھا۔ یہ ممکن نہیں کہ اس طرح کے جملہ عمل کو برہمنوں کی جانب سے مذہب کے نام پر کی گئی قربانیوں سے منسوب کردیا جائے۔
اشوکا کے قانون کا جائزہ لیں تو یہ سوال اُبھرتا ہے: کیا اُس نے گائے کو کاٹنا ممنوع قرار دیا؟ اشوکا کو گائے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی اور اس کو کاٹنے سے بچانے کا کوئی خاص فریضہ خود پر عائد نہیں کرلیا تھا۔ اشوکا کو تمام انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں کی زندگی کے احترام سے دلچسپی تھی۔ اس نے اپنا یہ فرض سمجھا کہ جہاں زندگی لینا ضروری نہیں وہاں زندگی کو ختم کرنا ممنوع قرار دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اُس نے جانور کی قربانی پر پابندی لگائی ، جسے وہ غیرضروری سمجھتا تھا ۔
ایک فطری بات ہے کہ نچلے طبقات ہمیشہ اونچی طبقات کی نقل کرتے ہیں۔ غیربرہمنوں میں گائے پوجا کا عام ہونا اور بیف کھانے سے اجتناب غیربرہمنوں کی اس عادت کی وجہ سے ہوا کہ برہمنوں کی نقل کی جائے جو کوئی شبہ نہیں کہ اُن کے مقابل برتری رکھتے ہیں۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ خود برہمنوں نے بیف کھانا کیوں ترک کردیا؟ اور کیا بات ہوئی کہ وہ سبزی خور بن گئے؟

کئی نسلوں تک برہمن لوگ بیف کھاتے رہے۔ اس کی دو انقلابی وجوہات ہیں جن کو ایک دوسرے میں ضم کیا گیا۔ ہندوؤں کے دیوتائی قانون ساز ’مانو‘ کی تعلیمات کو برہمنوں کی غذائی عادت میں انقلابی تبدیلی کا سبب بتایا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ انقلابی اقدام ’مانو‘ کے باوجود اور اس کی ہدایات کے مغائر کیا گیا۔ برہمنوں نے ایسا کیوں کیا؟ کیا اس کیلئے کوئی فلسفہ ذمہ دار ہے؟ یا کوئی حکمت عملی محرک بنی؟ یہ دراصل ایک حکمت عملی ہوئی جس نے برہمنوں کو بیف کھانا چھوڑ کر گائے کی پوجا شروع کرنے کی ترغیب دی۔ گائے پوجا کا سبب بدھ مت اور برہمنیت کے درمیان بالادستی کی جدوجہد ہے اور یہ بھی کہ بدھ مت پر اپنی برتری قائم کرنے کیلئے برہمنیت نے کیسے ہتھکنڈے اختیار کئے۔
بدھ مت اور برہمنیت کے درمیان کشاکش ہندوستانی تاریخ کی کلیدی حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو جانے اور سمجھے بغیر ہندومت کی بعض خصوصیات کی وضاحت کرنا ممکن نہیں ہے۔ بدبختی سے ہندوستانی تاریخ کے طلبہ سے اس کشاکش کی اہمیت کے معاملے میں بالکلیہ چوک ہوگئی۔ انھیں معلوم ہے کہ برہمنیت رہی لیکن وہ برتری کی جدوجہد سکے یکسر لاعلم نظر آتے ہیں جس میں یہ نسلیں ملوث ہوئیں اور ان کی جدوجہد نے جو 400 سال تک وسعت پائی۔ ہندوستان کے مذہب، سماج اور سیاست پر اَنمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔

بدھ مت کبھی ہندوستان کے لوگوں کی اکثریت کا مذہب ہوا کرتا تھا۔ یہ صورتحال سینکڑوں برسوں تک رہی۔ اس نے برہمنیت پر ہر طرح ضرب لگائی جیسے ماضی میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ برہمنیت روبہ زوال تھا اور اگر ایسا نہ بھی رہا تو بلاشبہ مدافعانہ موقف اختیار کرنے پر مجبور تھا۔ بدھ مت کے پھیلاؤ کے نتیجے میں برہمن تمام اقتدار کھوچکے تھے اور بادشاہی دربار میں اور عوام میں بھی وقار جاتا رہا تھا۔ وہ بدھ مت کے مقابل شکست سے تلملا رہے تھے اور اپنے اقتدار اور وقار کو واپس پانے کی ہر ممکن کوشش کررہے تھے۔ بدھ مت نے عوام کے ذہنوں پر اس قدر گہرا اثر ڈالا تھا اور انھیں ایسا گرفت میں رکھا تھا کہ برہمنوں کیلئے بدھسٹوں سے لڑنا ناممکن تھا سوائے یہ کہ ان کے طریقے اور رواج قبول کرلئے جائیں اور کٹر قسم کی بدھ مت پر عمل کریں۔
گوتم بدھ کے گزر جانے کے بعد معتقدین نے بدھ کی مورتیاں بنانا اور اسٹوپا (بدھوں کا متبرک مقام) تعمیر کرنا شروع کیا۔ برہمنوں نے اس کی تقلید کی۔ انھوں نے اس کے جواب میں مندریں تعمیر کئے اور وہاں شیوا، وشنو اور رام و کرشنا وغیرہ کے مورتیاں نصب کئے  …  یہ سب اس مقصد سے ہوا کہ عوام کی توجہ بدھ کی مورتی پوجا سے ہٹائی جائے۔ اس طرح منادر اور مورتیاں جن کا برہمنیت میں کوئی مقام نہ تھا ہندومت میں داخل ہوگئے۔
بدھوں نے برہمنی مذہب کو مسترد کردیا جس میں یجنا اور جانور بالخصوص گائے کی قربانی ہوتی تھی۔ گائے کی قربانی پر اعتراض عوام کے ذہنوں میں اچھی طرح بیٹھ گیا تھا، خاص طور پر اس لئے کیونکہ ان کی کاشتکار آبادی تھی اور گائے کافی مفید جانور ہے۔ برہمن لوگ سبزی خور کیوں بن گئے؟ اس کا جواب ہے کہ سبزی خور بنے بغیر برہمنوں کو وہ مقام واپس حاصل نہیں ہوسکتا تھا جو وہ اپنے حریف مذہب بدھ مت کے مقابل کھو چکے تھے۔ بدھ بھکشوؤں کو سماج میں بڑا معتبر مقام حاصل ہوچکا تھا جسے چھینے کی خاطر برہمنوں نے بیف کھانا چھوڑ دیا اور سبزی خور بن گئے۔ چونکہ بدھ بھکشو گوشت کھاتے تھے ، اس لئے برہمنوں کے پاس اس کو ترک کردینے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ ایسا انھوں نے اس لئے کیا کیونکہ وہ خود کو عوام کی نظروں میں بدھ بھکشوؤں سے مساوی رکھنا نہیں چاہتے تھے۔ یجنا سسٹم سے باز آجانا اور گائے کی قربانی ترک کردینا صرف محدود اثر کے اقدامات ہوسکتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ برہمنوں کو بدھوں کے مساوی درجہ ملتا۔ یہی معاملہ تب بھی ہوتا جب وہ کوئی دیگر گوشت کھانے میں بدھ بھکشوؤں والے قواعد پر عمل پیرا ہوتے۔ اس سے برہمنوں کو بدھوں پر وہ بالادستی حاصل نہیں ہوجاتی جس کیلئے وہ بیتاب تھے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے برہمنوں کو بے دھڑک مہم جو کی روایتی چالیں اختیار کرنا تھا۔ یہ انتہا پسندی کو انتہاپسندی سے شکست دینا ہوتا ہے۔ یہی حکمت عملی ہے جو تمام دائیں بازو والے بائیں بازو والوں پر قابو پانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ بدھوں کو مات دینے کا واحد طریقہ ایک قدم آگے بڑھنا اور سبزی خور بن جانا تھا۔
بدھ مت عمومیت سے جانور کی قربانی کے خلاف ہے۔ اس کا گائے کیلئے کوئی خاص لگاؤ نہیں رہا۔ اشوکا کے پاس اس لئے کوئی خاص وجہ نہیں تھی کہ گائے کے تحفظ کیلئے قانون بنائے۔ زیادہ حیران کن حقیقت یہ ہے کہ گاؤکشی کو ’مہاپتکا ‘ یا بڑا جرم گپت بادشاہوں نے قرار دیا جو ہندومت کے بہت بڑے پیرو مانے جاتے ہیں، جس نے قربانی کے مقاصد سے گاؤکشی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی اجازت دی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیوں ایک ہندو بادشاہ نے گاؤ کشی کے خلاف قانون بنایا، جو بہ الفاظ دیگر ’مانو‘ کے قوانین کے مغائر ہے؟ جواب یہ ہے کہ برہمنوں کو اپنے وید مذہب کی کسی ضرورت کو معطل یا منسوخ کرنا تھا تاکہ بدھ بھکشوؤں کی برتری کو ختم کرسکیں۔ اگر یہ تجزیہ درست ہے تو پھر واضح ہے کہ گائے کی پوجا بدھ مت اور برہمنیت کے درمیان کشمکش کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک طریقہ ہوا جسے اختیار کرتے ہوئے برہمنوں نے اپنا کھویا مقام دوبارہ پایا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT