Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / کیا 2015 میں امریکی اسٹاک مارکٹ خطرہ میں ؟

کیا 2015 میں امریکی اسٹاک مارکٹ خطرہ میں ؟

عالمی مالیاتی بحران زیادہ دور نہیں، معاشی ویب سائیٹ کی رپورٹ
نیویارک ۔ 8 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی اسٹاک مارکٹ کے تعلق سے اندیشے ابھر رہے ہیں کہ 2015ء کے ختم تک یہ پوری طرح گراوٹ کا شکار ہوجائے گا۔ دنیا بھر میں اگرچہ 23 ممالک میں پہلے ہی اسٹاک مارکٹ گراوٹ کا شکار ہوچکا ہے لیکن امریکی عوام کو درحقیقت اس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ انہیں اپنے ملک کے اسٹاک ذخائر اور ریٹائرمنٹ اکاونٹس کے استحکام پر پورا بھروسہ ہے۔ سچائی تو یہ ہیکہ انہیں اس بات کی فکر لاحق ہے کہ اگر فی الواقع امریکی اسٹاک مارکٹ میں گراوٹ آجائے تو پھر ان کی جمع پونجی کا کیا ہوگا۔ معاشی حلقوں میں یہ خبریں گشت کررہی ہیں کہ جاریہ سال کے ختم تک امریکی اسٹاک مارکٹ کو خطرہ لاحق ہوگا۔ ایک معاشی ویب سائیٹ مارکٹ واچ پر ماہرین کے حوالے سے کہا گیا ہیکہ عالمی مالیاتی بحران شدید ہوتا جارہا ہے۔ ٹام میکلن نے کہا کہ اسٹاک مارکٹ گراوٹ کی طرف جارہا ہے اور مابقی سال تک کسی اچھے نتیجہ کی امید نہیں ہے۔

 

ہیری ڈنٹ نے کہا کہ ہم عالمی مالی بحران سے صرف چند ہفتہ پیچھے رہ گئے جبکہ ایک اور ماہر معاشیات گیرالڈ کلینٹ نے کہا کہ عالمی معیشت پہلے ہی تباہ ہوچکی ہے اور جاریہ سال کے ختم تک عالمی اسٹاک مارکٹ مکمل گراوٹ کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے۔ لیری ایڈلسن نے کہاکہ انہیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ مالی بحران صرف چند ماہ دور رہ گیا ہے۔ 7 اکٹوبر 2015ء کو 1929ء کے بعد پہلا ’’معاشی سوپر سائیکل‘‘ پورا ہوگا جس کے نتیجہ میں یوروپ، جاپان اور امریکہ انتہائی بدترین مالی بحران سے دوچار ہوں گے۔ ان کا یہ کہنا ہیکہ آئندہ 5 سال میں تقریباً ایک بلین لوگ معاشی بحران کا شکار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بحران اب صرف چند ماہ دور رہ گیا ہے۔ ڈالر ویجیلنٹ کے ایڈیٹر جیف برویک کا کہنا ہیکہ موجودہ معاشی صورتحال اس بات کا ثبوت پیش کررہی ہیکہ آئندہ چند ماہ ہمارے لئے کافی مشکل ہوں گے۔ ان ماہرین کا یہ موقف ہیکہ عالمی معاشی بحران ناگزیر ہوچکا ہے۔ واضح رہیکہ اس سے پہلے 25 جون کو بھی اس ویب سائیٹ نے خبردار کیا تھاکہ 2015ء کے آخری 6 ماہ معاشی طور پر انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے۔ اس وقت معاشی بحران کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا تھا اور عالمی معیشت میں ایک خاموشی چھائی ہوئی تھی لیکن ان کا اندازہ درست ثابت ہوا۔ امریکہ میں یہ صورتحال بتدریج واضح ہوتی جارہی ہے۔ ڈاو کے حصص میں چہارشنبہ کو 162 پوائنٹس کی گراوٹ آئی اور مجموعی طور پر 1000 پوائنٹس کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT