Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / کیرالا، ٹاملناڈو اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کیلئے مہم کا اختتام

کیرالا، ٹاملناڈو اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کیلئے مہم کا اختتام

16 مئی کو رائے دہی اور 19 مئی کو نتائج، جنوبی ریاستوں میں بی جے پی کے امکانات موہوم
چینائی ؍ تھرواننتاپورم 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ٹاملناڈو ، کیرالا اور پڈوچیری میں 16 مئی کے اسمبلی انتخابات کے لئے آج شام 2 ماہ طویل مہم کا اختتام ہوگیا۔ کیرالا میں حکمراں کانگریس کی زیرقیادت یو ڈی ایف کا سی پی ایم کی زیرقیادت ایل ڈی ایف سے راست مقابلہ ہے۔ جبکہ وزیراعظم نریندر مودی کے طوفانی دوروں اور چیف منسٹر اویمن چنڈی کے ساتھ الفاظ کی جنگ میں بی جے پی کے لئے یہ انتخابات وقار کا مسئلہ بن گئے ہیں۔ گوکہ پارٹی کا ریاست میں قابل لحاظ اثرورسوخ نہیں ہے لیکن وہ اسمبلی میں اپنا کھاتہ کھولنے میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ کیرالا میں 16 مئی کے انتخابات کے لئے 2.61 کروڑ افراد حق رائے دہی سے استفادہ کریں گے اور 1,203 امیدواروں بشمول 189 خواتین میں سے 140 قانون سازوں کا انتخاب کریں گے۔ کیرالا میں لیفٹ اینڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کو اقتدار میں واپسی کے لئے سخت مقابلہ درپیش ہے۔ جبکہ مغربی بنگال میں 5 مئی کو چھٹویں مرحلہ کے اسمبلی انتخابات اختتام پذیر ہوں گے۔ اگرچیکہ بائیں بازو کی جماعتوں نے مغربی بنگال میں کانگریس کے ساتھ انتخابی مفاہمت کی ہے لیکن دونوں فریقین نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ دونوں ریاستوں میں ان کے امکانات متاثر نہیں ہوں گے۔ جبکہ یہ جماعتیں مغربی بنگال میں حلیف اور کیرالا میں حریف ہیں۔ انتخابی مہم کے آخری مرحلہ میں کئی ایک قومی لیڈروں نے اپنی جماعتوں کے لئے مہم چلائی ہے۔ گوکہ کیرالا میں انتخابی مہم کی شروعات سولار اسکام اور شراب خانوں کے لائسنس کی اجرائی میں رشوت کے تنازعہ سے ہوئی لیکن وزیراعظم کی جانب سے کیرالا کا تقابل صومالیہ سے کرنے پر ایک نیا موڑ اختیار کرگئی۔ تاہم کانگریس لیڈر اومین چنڈی جنھوں نے یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کی قیادت کی، بی جے پی اور نریندر مودی پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم نے کیرالا کے عوام کی اہانت کی ہے۔

علاوہ ازیں لیبیا میں پھنسے ہوئے کیرالا کے باشندوں کو واپس لانے کے لئے فضائی کرایوں کی ادائیگی پر بی جے پی اور چنڈی کے درمیان بحث و تکرار ہوگئی تھی۔ انتخابی مہم میں حصہ لینے والے اہم لیڈروں میں کانگریس سربراہ سونیا گاندھی، پارٹی قائدین اے کے انتونی اور غلام نبی آزاد، سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتارام یچوری، سی پی آئی جنرل سکریٹری سدھاکر ریڈی، چیف منسٹر تریپورہ نروپم چکرورتی، سابق وزیراعظم دیوے گوڑا، چیف منسٹر بہار نتیش کمار شامل تھے۔ اس مرتبہ بی جے پی اپنی واحد حلیف بھارت دھرم جن سینا کے ساتھ مقابلہ کررہی ہے۔ یہ پارٹی، پسماندہ طبقات کی طاقتور نمائندہ تنظیم شری نارائن دھرم ہری پالنا یکم نے قائم کی ہے۔ ٹاملناڈو میں ہمہ رخی مقابلہ درپیش ہے جہاں پر حکمراں انا ڈی ایم کے، ڈی ایم کے ۔ کانگریس، پی ڈبلیو ایف، ڈی ایم ڈی کے، ٹی ایم سی اتحاد ، بی جے پی کی زیرقیادت اتحاد اور پی ایم کے انتخابی دنگل میں ہیں۔ ٹاملناڈو میں 234 اسمبلی حلقوں کے 5.79 کروڑ سے زائد ووٹرس جملہ 3,776 امیدواروں بشمول وزارت اعلیٰ کے خواہشمند 4 قائدین جیہ للیتا (انا ڈی ایم کے) ، ایم کروناندھی (ڈی ایم کے) ، وجئے کانت (ڈی ایم ڈی کے) اور امبونی راما داس (پی ایم کے) کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ جیہ للیتا دوسری میعاد کے لئے چیف منسٹر کے عہدہ کی خواہشمند ہیں جبکہ ٹاملناڈو میں یہ روایت رہی ہے کہ 5 سالہ میعاد کے بعد حکمراں جماعت کو تبدیل کردیا جائے۔

اپوزیشن ڈی ایم کے اور بی جے پی نے نشہ بندی اور بدعنوانیوں کو انتخابی موضوع بنایا ہے جبکہ چیف منسٹر جیہ للیتا نے 5 سالہ کارکردگی کی بنیاد پر عوام سے ووٹ طلب کئے ہیں۔ الیکشن عہدیداروں کو غیر قانونی دولت کا بہاؤ سب سے بڑا چیلنج تھا جنھوں نے غیر محسوب 100 کروڑ روپئے ضبط کئے ہیں۔ تاہم دستاویزات پیش کرنے پر مالکین کو 37 کروڑ روپئے واپس کردیئے گئے۔ پڈوچیری میں 9.43 لاکھ ووٹرس جملہ 30 نشستوں کے لئے 300 سے زائد امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال، آسام، ٹاملناڈو، کیرالا اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات میں 8 مارچ کو اعلامیہ جاری کیا گیا تھا اور 19 مئی کو نتائج کے اعلان کے ساتھ انتخابی عمل مکمل کرلیا جائے گا۔ آسام میں بھی اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں 11 اپریل کو اختتام کوپہنچے تھے۔ دریں اثناء چیف منسٹر کیرالا اویمن چنڈی نے آج شام آخری انتخابی جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ریاست میں بی جے پی کو ایک بھی نشست پر کامیابی حاصل نہیں ہوگی۔ انھوں نے کہاکہ قبائیلی علاقوں میں شیرخوار بچوں کی اموات پر کیرالا کا تقابل صومالیہ سے کرنے پر عوام، وزیراعظم نریندر کو دندان شکن جواب دیں گے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اپنا کھاتہ کھولنے سے قاصر رہیں گے کیوں کہ کیرالا کے عوام پارٹی کی تفرقہ پرست سیاست کو پسند نہیں کرتے۔ انھوں نے یہ اعتراف کیاکہ اصل مقابلہ کانگریس کی زیرقیادت ۔ یو ڈی ایف اور سی پی ایم کی زیرقیادت ایل ڈی ایف کے درمیان رہے گا۔ دیگر جماعتیں صرف اپنے وجود کا احساس دلائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT