Friday , September 22 2017
Home / سیاسیات / کیرالا :این ڈی اے ، حکومت و اپوزیشن دونوں کا نشانہ

کیرالا :این ڈی اے ، حکومت و اپوزیشن دونوں کا نشانہ

بی جے پی کو اسمبلی میں کھاتہ کھولنے نہیں دیں گے : کانگریس و سی پی ایم
تھرواننتاپورم ۔ 4 مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) کیرالا میں 16 مئی کے اسمبلی چناؤ کیلئے انتخابی مہم زور پکڑ رہی ہے اور اب برسراقتدار یوڈی ایف اور اس کے حریف ایل ڈی ایف کا بڑا انتخابی موضوع بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کے تھرڈ فرنٹ کا اُبھراؤ ہے کیونکہ دونوں نے اسے نشانہ بنایا ہے اور اس کے نتیجہ میں سولار اور بار رشوت خوری اسکامس پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ کانگریس زیرقیادت یو ڈی ایف اور سی پی آئی ۔(ایم ) کی سربراہی والے ایل ڈی ایف کی دو قطبی سیاست نے گزشتہ کئی دہوں سے اس ریاست کے انتخابی منظر پر اپنا غلبہ بنائے رکھا ہے لیکن اب لگتا ہے کہ اُنھیں بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کے تیسرے محاذ سے کچھ مسابقت کا سامنا ہورہا ہے اور وہ مرتبہ تیسرے عنصر کے طورپر حقیقت بن رہا ہے ۔ اب جبکہ رائے دہی کیلئے صرف اندرون دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں یو ڈی ایف اور ایل ڈی ایف دونوں بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے اتحاد پر لفظی حملے کرتے ہوئے اپنے بڑے ایجنڈے کے طورپر یہ نعرہ لگارہے ہیں کہ ’’کیرالا اسمبلی کو بی جے پی سے پاک رکھو ‘‘۔ یو ڈی ایف نے ابتدائی مراحل میں اپنی انتخابی مہم کو حکومت کے ترقیاتی اقدام پر مرکوز رکھا تھا لیکن کچھ دنوں سے اس نے اپنی مہم میں تبدیلی لاتے ہوئے بی جے پی کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے ۔

اسی طرح ایل ڈی ایف نے بھی جس نے پہلے پہل یو ڈی ایف کو کرپشن کے الزامات پر نشانہ بنایا ، بالخصوص سولار اسکام اور بار رشوت خوری اسکام جیسے موضوعات کو اُجاگر کیا گیا ، لیکن اب اس نے یہ مسائل بڑی حد تک حاشیہ پر رکھ دیئے ہیں۔ تاہم 93 سالہ سی پی آئی ۔ ایم لیڈر وی ایس اچھوتا نندن اس سے مستثنیٰ ہیں۔ وہ اب بھی چیف منسٹر اُومن چنڈی کے خلاف اپنی مہم میں بار اور سولار اسکامس سے مربوط کرپشن الزامات کو اہمیت دے رہے ہیں۔ سی ڈبلیو سی ممبر اور سابق وزیر دفاع اے کے انتونی نے بی جے پی پر شدید حملہ چھیڑتے ہوئے بیان کیا کہ کانگریس پارٹی کا اصل ایجنڈہ یہ یقینی بنانا ہے کہ بی جے پی اس ریاست میں اسمبلی چناؤ کے بعد بھی اپنا کھاتہ کھولنے نہ پائے ۔ انتونی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر بی جے پی کو کوئی بھی نشست حاصل ہوتی ہے تو ریاست میں فرقہ وارانہ انتشار پیدا ہوگا ۔ سی پی آئی۔ایم پولٹ بیورو ممبر پرکاش کرت نے انتونی کے ریمارک سے اتفاق کیا لیکن کہا کہ کانگریس کے پاس کیرالا میں بی جے پی سے لڑنے کیلئے سیاسی اور نہ ہی نظریاتی طورپر کوئی قوت باقی رہ گئی ہے ۔ زعفرانی پارٹی کو چیلنج کرنے کا کام صرف ایل ڈی ایف انجام دے سکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT