Monday , October 23 2017
Home / سیاسیات / کیرالا میں آر ایس ایس پر لفظی تکرار

کیرالا میں آر ایس ایس پر لفظی تکرار

حکمراں کانگریس اور اپوزیشن سی پی ایم کا ایکدوسرے پر الزام
تروننتھاپورم ۔ 26 ۔ اکٹوبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : کیرالا میں بلدی انتخابات کا ماحول آج اس وقت گرما گرم ہوگیا جب چیف منسٹر اومن چنڈی نے سی پی ایم کے مخالف بی جے پی کو موقف کو موقع پرستانہ قرار دیا ۔ سی پی ایم لیڈر پنارائی وجین نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ زعفرانی پارٹی کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا ہے ۔ ویانڈ میں انتخابی مہم کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چنڈی نے کہا کہ سی پی ایم وقت کے مطابق بی جے پی کے تئیں اپنی پالیسی بدلتے رہتی ہے اور یہ ادعا کیا کہ کانگریس ہمیشہ فرقہ پرستوں سے نبرد آزما رہی اور ان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ۔ انہوں نے ایمرجنسی کے دوران سنگھ پریوار کے ساتھ سی پی ایم کی قربت پر تنقید کرتے ہوئے وجین سے دریافت کیا کہ 1977 میں کانگریس کے خلاف جدوجہد کے لیے ان کی پارٹی نے جن سنگھ سے ہاتھ ملائے تھے اس وقت تم کہاں تھے ، جس کا جواب دیتے ہوئے وجین نے 1977 میں پارٹی موقف کو حق بجانب قرار دیا اور بتایا کہ اس وقت جمہوریت کی بحالی کے لیے متحدہ جدوجہد کی ضرورت تھی کیوں کہ کانگریس حکومت نے ایمرجنسی نافذ کر کے جمہوریت کو پامال کردیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ چنڈی کو ایمرجنسی کی فاش غلطی کا اعتراف کرنا چاہئے جس نے جن سنگھ کو مقبولیت عطا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا تھا ۔ مسٹر وجین جو کہ سی پی ایم پولیٹ بیورو ممبر ہیں حالیہ پیش آئے دادری اور بیف تنازعہ واقعات پر چنڈی کی خاموشی کو معنی خیز قرار دیا ۔ سی پی ایم لیڈر نے آج یہاں میٹ دی پریس پروگرام سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بعض فرقہ وارانہ حساس نوعیت کے مسائل پر چنڈی کی خاموشی سنگھ پریوار کی حمایت کے مترادف ہے ۔ انہوں نے یہ دریافت کیا کہ حکمران یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کی حلیف انڈین مسلم لیگ آیا فرقہ پرست جماعت ہے اور کہا کہ ملک کے سامنے سب سے بڑا چیلنج سنگھ پریوار سے درپیش خطرات کے خلاف لڑائی کا ہے اور سی پی ایم کا یہ نصب العین ہے کہ سیکولر جماعتوں کو متحد کیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT