Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / کیرالا میں آر ایس ایس کارکن کا بہیمانہ قتل

کیرالا میں آر ایس ایس کارکن کا بہیمانہ قتل

مقامی واقعہ کو سیاسی رنگ دینے پر سی پی ایم کااعتراض
کنور۔/16فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) کیرالا کے ضلع کنور میں ایک 27 سالہ آر ایس ایس کارکن کو اس کے والدین کے روبرو مار مار کر ہلاک کردیا گیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جبکہ ریاست میں اسمبلی انتخابات کی دستک دے دی گئی ہے جس کے پیش نظر بی جے پی اور سی پی ایم کے درمیان الزامات کا کھیل شروع ہوگیا۔ بی جے پی نے کل شب پیش آئے آر ایس ایس کارکن سجیت کے قتل کیلئے سی پی ایم کو مورد الزام ٹہرایا جبکہ سی پی ایم نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اور بتایا کہ ایک لڑکی کی بے عزتی پر پیش آیا ایک مقامی واقعہ ہے۔ تاہم پولیس نے قتل واقعہ کے سلسلہ میں بعض سی پی ایم ہمدردوں کو حراست میں لیا ہے اور ان سے پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ حملہ میں شدید زخمی کل شب دواخانہ پہنچنے سے قبل فوت ہوگیا تھا۔ اس کے معمر والدین اور بھائی نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کی تھی جو کہ کل شب 11:30 بجے اس کے مکان پر ہلہ بول دیا تھا۔ اس حملہ میں وہ بھی زخمی ہوگئے ہیں اور فی الحال ہاسپٹل میں زیر علاج ہیں۔ بی جے پی کنور کے صدر ستیہ پرکاش نے بتایا کہ اس حملہ میں سی پی ایم ملوث ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سی پی ایم دراصل پارٹی سکریٹری پی ایس رنجن کی گرفتاری سے برہم ہوکر تشدد بھڑکانے کی کوشش ہے جو کہ 2014میں ایک بی جے پی لیڈر کے قتل کے ملزم ہیں اور اس کیس میں ان کی ضمانت قبل از گرفتاری مسترد کردی گئی ہے۔بی جے پی نے آج اس قتل کے خلاف کنور، پاپین سیری اور ازہیکوڈ میں احتجاجی بند منایا ہے۔ دریں اثناء سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری کے بالا کرشنن نے بتایا کہ یہ حملہ سیاسی نہیں تھا بلکہ یہ ایک مقامی مسئلہ تھا جس کاسی پی ایم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم بی جے پی کے ریاستی صدر کے راج شیکھرن نے بتایا کہ اس حملہ کو معمولی واقعہ تصور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ضلع کنور میں بی جے پی اور آر ایس ایس کارکنوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور کل کے قتل واقعہ کو شخصی عداوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

کنور میں ایک طویل سیاسی خاموشی کے بعد کل قتل کا واقعہ پیش آیا ہے جہاں پر اکثر و بیشتر سی پی ایم اور بی جے پی کے درمیان پرتشدد جھڑپیں پیش آتی ہیں۔ یکم ستمبر 1999 کو ایک بی جے پی لیڈر جیہ کرشنا ماسٹر کو سی پی ایم ورکرس نے طلباء کے روبرو اسوقت ہلاک کردیا تھا جب وہ کلاس لے رہے تھے۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاعات کے بموجب بی جے پی نے آج کیرالا میں ایک آر ایس ایس کارکن کی ہلاکت پر لیفٹ پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ دعویٰ کیا کہ زعفرانی پارٹی کے عروج سے وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے اور قتل کی سیاست کے ذریعہ خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بی جے پی کے قومی ترجمان ایم جے اکبر نے کہا کہ متواتر سیاسی تشدد اور ہلاکتوں پر عوام کو دینے کیلئے لیفٹ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ راجیہ سبھا رکن نے الزام عائد کیا کہ لیفٹ پارٹی کے تشدد میں تقریباً 200بی جے پی کارکن ہلاک ہوگئے ہیں لیکن لیفٹ پارٹی نے کوئی جواز پیش نہیں کیا۔ تاہم کیرالا کے عوام قتل و خون کی سیاست کو ہرگز قبول نہیں کریں گے اور اسمبلی انتخابات میں بائیں بازو کی جماعتوں کو منہ توڑ جواب دیں گے۔

TOPPOPULARRECENT