Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / کیرالا میں ایک اور دلت طالبہ کی عصمت ریزی

کیرالا میں ایک اور دلت طالبہ کی عصمت ریزی

پولیس کو مفرور آٹو ڈرائیور اور ساتھیوں کی تلاش
تھروننتھا پورم ۔ 4 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : کیرالا کے ضلع ایرناکولم میں ایک لاء اسٹوڈنٹ کی بہیمانہ عصمت ریزی اور قتل کے چند دنوں بعد ورکالا میں ایک 19 سالہ دلت نرسنگ طالبہ کی اجتماعی عصمت ریزی کا واقعہ پیش آیا ۔ جس کے خلاف طلباء اور تنظیموں نے احتجاج شروع کردیا ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ دارالحکومت سے 50 کلو میٹر دور ورکلا میں ایانتی برج کے قریب ایک آٹو رکشا ڈرائیور اور اس کے دو ساتھیوں نے بی ایس سی نرسنگ سال دوم کی طالبہ کی منگل کی شب عصمت ریزی کردی جسے تشویشناک حالت میں ہاسپٹل کے آئی سی یو میں شریک کروادیا گیا ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ مفرور ملزمین کے خلاف ایک کیس درج کرلیا گیا ہے ۔ اور متاثرہ لڑکی کا ایک بیان بھی مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ علاقہ ورکلا کے سرکل انسپکٹر مسٹر بی ونود نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی اپنے شناسا آٹو ڈرائیور کے ساتھ جارہی تھی کہ اس کے دو ساتھی راستہ میں سوار ہوگئے ۔ اور آٹو کو ایک ویران مقام پر لیجا کر عصمت ریزی کردی ۔ لڑکی کی چیخ و پکار پر راہگیروں نے اس واقعہ کی پولیس کو اطلاع دی جس نے لڑکی کو گورنمنٹ میڈیکل کالج میں شریک کروادیا ۔ جہاں پر ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج کیا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ 3 یوم قبل بھی ضلع ایرناکولم کے پریمباور میں ایک 30 سالہ دلت لاء اسٹوڈنٹ ( قانون کی طالبہ ) کی عصمت ریزی کے بعد قتل کردیا گیا تھا ۔

 

دلت خاتون کی عصمت ریزی اور بہیمانہ قتل
متوفیہ کی والدہ سے چیف منسٹر کیرالا کی ملاقات
کوچی ۔ 4 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ایک دلت خاتون کی عصمت ریزی اور قتل کے ملزمین کی گررفتاری میں تاخیر کے خلاف احتجاج میں شدت کے دوران چیف منسٹر کیرالا اویمن چنڈی نے آج ہاسپٹل میں زیر علاج متوفیہ کے والدہ سے ملاقات کی اور کہا کہ مجرمین کو بہت جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا ۔ چیف منسٹر نے ڈی وائی ایف آئی کارکنوں کے احتجاج کے دوران پریمباور ہاسپٹل پہنچے اور متوفیہ لڑکی کی والدہ سے ہمدردی کا اظہار کیا اور یہ تیقن دیا کہ خاندان کی اعانت کے لیے متاثرہ لڑکی کی ایک بہن کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے اندیشوں کو مسترد کردیا کہ مجرمین کی گرفتاری میں تاخیر سے یہ کیس کمزور ہوسکتا ہے کہا کہ سخت گیر قانونی کارروائی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی اور مجرمین کو عدالت کے کٹہرے میں ٹہرایا جائے گا ۔ واضح رہے کہ ضلع ایرناکولم میں 30 سالہ دلت خاتون کی عصمت ریزی اور بہیمانہ قتل کے سلسلہ میں پولیس نے 3 افراد کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کررہی ہے ۔ غریب خاندان سے وابستہ یہ خاتون قانون کی طالبہ تھی ۔ 28 اپریل کو اس کے مکان میں عصمت ریزی کے بعد تیز دھاری ہتھیاروں سے قتل کردیا گیا تھا چونکہ اس کیس میں ایک بھی ملزم کی باقاعدہ گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے ۔ 16 مئی کو اسمبلی انتخابات کے پیش نظر زبردست سیاسی تنازعہ پیدا ہوگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT