Tuesday , June 27 2017
Home / Top Stories / کیرالا میں بطور احتجاج سڑکوں پر بیف پکایا گیا

کیرالا میں بطور احتجاج سڑکوں پر بیف پکایا گیا

چیف منسٹر کا مودی کو مکتوب ، ٹاملناڈو ، مغربی بنگال اور پڈوچیری بھی مخالف
ترواننتھا پورم / نئی دہلی ۔ 27 ۔ مئی : (سیاست ڈاٹ کام ) : مرکز کے ذبیحہ کی غرض سے مویشیوں کی فروخت پر امتناع کے خلاف کیرالا میں آج بطور احتجاج ’ بیف فیسٹیول ‘ منایا گیا جہاں سڑکوں پر گوشت پکاتے ہوئے ان کے کھانے کا اہتمام کیا گیا ۔ ٹاملناڈو ، مغربی بنگال اور پڈوچیری میں بھی مرکز کے اقدام پر شدید تنقید کی گئی ۔ چیف منسٹر کیرالا پنارائی وجئین نے وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے امتناع منسوخ کرنے کے لیے مداخلت کی خواہش کی ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کا یہ فیصلہ ملک کے وفاقی ڈھانچہ میں ریاستوں کے حقوق میں مداخلت کے مترادف ہے ۔ جانوروں کا تحفظ کرنے والے ادارے اور گاؤشالہ چلانے والی تنظیموں نے تاہم اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا ۔ چیف منسٹر کیرالا اور چیف منسٹر پڈوچیری وی نارائن سامی نے کہا کہ حکومت کو عوام کے کھانے کی عادات و اطوار پر پابندی عائد کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ۔ وجئین نے کہا کہ ریاستوں سے مشاورت کے بعد نئے قواعد متعارف کیے جانے چاہیے ۔ کیرالا میں حکمراں سی پی آئی ( ایم ) ، اپوزیشن کانگریس زیر اقتدار یوڈی ایف اور یوتھ ونگس نے احتجاجی مارچ منظم کیے اور کیرالا میں بیف فیسٹیول کا اہتمام کیا جہاں بیف کا بہت زیادہ استعمال کیا گیا ۔ تھرواننتھاپورم میں سکریٹریٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک پر بیف پکایا اور اسے تقسیم کیا گیا ۔ حکومت مغربی بنگال نے مرکز پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرح کے یکطرفہ فیصلے نہیں کرسکتا۔ وزارت ماحولیات نے کل کے فیصلہ کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے غیر قانونی فروخت اور اسمگلنگ ختم ہوگی ۔ مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات وینکیا نائیڈو نے اس فیصلہ کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دینے کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT