Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / کیرالا میں جنک فوڈ پر FAT ٹیکس

کیرالا میں جنک فوڈ پر FAT ٹیکس

حیدرآباد میں ملا جلا ردعمل، شعور بیداری پر زور
حیدرآباد 10 جولائی (سیاست نیوز) Junk فوڈ پر Fat ٹیکس لاگو کرنے کے کیرالا حکومت کے فیصلہ پر حیدرآباد میں ملا جلا ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے اور اس بات پر بحث چل پڑی ہے کہ جنک فوڈ پر موٹاپا ٹیکس عائد کرنے سے آیا عوام کو کوئی فائدہ ہوگا یا یہ قانون کھانے پینے کے عوام کے حق پر کوئی پابندی ہے۔ حیدرآباد میں تغذیہ بخش غذاؤں کے ماہرین کا احساس ہے کہ اس قانون کا اوسط طبقہ پر خاص اثر پڑے گا۔ دوسرے لوگ اس سے اختلاف کریں گے۔ ہندوستان میں زیادہ تر اوسط طبقہ کے افراد میں موٹاپے اور ذیابطیس کے عارضے زیادہ ہیں۔ غریبوں اور بہت زیادہ متمول افراد میں یہ عارضے کم ہیں۔ غریب جنک فوڈ کی خریدی کی سکت نہیں رکھتے جبکہ بیشتر امیر لوگ صحت مند رہنے کے لئے متبادل طریقے اختیار کرتے ہیں اور جسمانی ورزش کیا کرتے ہیں۔ ماہر تغذیہ بخش خوراک ڈاکٹر سجاتا اسٹیفن نے کہاکہ موٹاپا ٹیکس لاگو کرنے سے اوسط طبقہ کو جنک فوڈ کی خریدی سے روکنا ممکن ہوگا۔ سینئر سوشل سائنٹسٹ ڈاکٹر ایم مہیشور نے جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن کے ڈپٹی ڈائرکٹر ہیں، ڈاکٹر سجاتا کے تاثرات سے اتفاق کیا اور کہاکہ Fat ٹیکس لاگو کرنے کے مثبت اثرات ہوں گے۔ انھوں نے کہاکہ بیشتر مغربی ممالک میں Fat ٹیکس لاگو ہے اور اس کے مثبت اثرات ظاہر ہورہے ہیں۔ ہندوستان میں خوراک سے متعلق شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کو بتایا جانا چاہئے کہ کون کون سی چیزیں کھانے سے موٹاپا بڑھتا ہے اور موٹاپے کی وجہ سے صحت پر کیسے منفی اثرات پڑتے ہیں۔ ٹیکس لاگو کرنے کے ساتھ ساتھ شعور بیداری ضروری ہے۔ بہرحال جنک فوڈ کے شوقین کا احساس ہے کہ ان کی مرضی ہے جو چاہیں کھائیں، قیمت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ برگر چاہے کتنا ہی مہنگا ہو برگر کھانے والے برگر کھانا نہیں چھوڑیں گے۔

TOPPOPULARRECENT