Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / کیرالا میں دلت خواتین کی گرفتاری پرتنازعہ

کیرالا میں دلت خواتین کی گرفتاری پرتنازعہ

سی پی ایم آفس میں داخل ہوکر کارکن پر حملہ کا الزام
تھلاسرے (کیرالا ) ۔ 18جون ۔(سیاست ڈاٹ کام) کیرالا میں ایک سی پی ایم کارکن پر حملہ کے الزام میں 2 دلت بہنوں جوکہ ایک مقامی کانگریس لیڈر کی دختران ہیں کی گرفتاری پر زبردست تنازعہ پیدا ہوگیا ہے جبکہ قومی کمیشن برائے درج فہرست ذاتوں نے اس معاملہ میں مداخلت کی ہے ۔ انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس لیڈر این راجن کی دختران 30 سالہ اکھیلا اور 25 سالہ انجنا کو کل پولیس اسٹیشن طلب کیاگیا اور ان کے خلاف ناقابل ضمانت کیس درج کرکے ویمنس جیل بھیج دیا گیا۔ خاندانی ذرائع نے بتایا کہ اکھیلا اپنی دیڑھ سالہ لڑکی کے ساتھ جیل میں بند ہے ۔ پولیس کے بموجب چند دن قبل سی پی ایم نے یہ شکایت درج کروائی تھی کہ یہ خاتون پارٹی آفس میں داخل ہوکر ایک کارکن ایم شیجن پر حملہ کردیا تھا۔ تاہم ان لڑکیوں کے والد راجن نے الزامات کو مسترد کردیا اور بتایاکہ یہ کیس سیاسی محرکات پر مبنی ہے ۔ کانگریس لیڈر راجن نے گزشتہ مجالس مقامی کے انتخابات میں سی پی ایم امیدوار کے خلاف مقابلہ کیا تھا بتایا کہ ان کی لڑکیاں سی پی ایم آفس کے قریب سے گذر رہی تھیں اس وقت شیجن نے ذات پات کا نام لیکر انھیں پکارا تھا ۔ ان لڑکیوں نے پارٹی آفس میں داخل ہوکر نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر سوال کیا تھا؟ لیکن سی پی ایم کارکنوں نے جواب دینے کے بجائے لڑکیوں کے ساتھ بدتمیزی کی بلکہ اسی دن ان کے مکان پر بھی حملہ کردیا ۔ دریں اثناء صدرنشین نیشنل کمیشن فار شیڈولڈ کاسٹ مسٹر یو ایل پوبنا نے بتایا وہ اس معاملہ میں مداخلت کریں گے اور پولیس عہدیداروں سے رپورٹ طلب کی جائیگی ۔ سابق چیف منسٹر اویمن چنڈی نے سی پی ایم کی زیرقیادت ایل ڈی ایف حکومت پر تنقید
کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے دلت خواتین کی گرفتاری کے معاملہ پر سپریم کورٹ کی ہدایات کو پامال کردیا ہے ۔ انھوں نے اس معاملہ کی تحقیقات اور قصوروار عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT