Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / کیرالا کے طلبہ اور تنظیموں کا پولیس کارروائی کیخلاف احتجاج

کیرالا کے طلبہ اور تنظیموں کا پولیس کارروائی کیخلاف احتجاج

نئی دہلی ۔ 28 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی پولیس کی مذمت کرتے ہوئے جس نے گائے کا گوشت سربراہ کرنے کی جھوٹی شکایت کی بناء پر کیرالا ہاؤس پر دھاوا کیا تھا۔ مختلف ملیالم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد اور کیرالا کے طلبہ نے جو دہلی میں مقیم ہیں، پولیس کارروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کیرالا ہاؤس کے روبرو اس مظاہرہ میں پلے کارڈس پر تحریر تھا کہ ’’ثقافتی فسطائیت ڈاؤن ڈاؤن اور ثقافت اور روایات سے عدم روداری موجودہ کینسر‘‘ تحریر تھا۔ جنرل سکریٹری دہلی ملیالی اسوسی ایشن سری چندرن نے کہا کہ مختلف تنظیموں نے احتجاج میں حصہ لیا۔ تعلیمی اداروں کے 10 طلبہ بھی احتجاج میں شامل تھے۔ دریں اثناء کیرالا ہاؤس کے ریسیڈنٹ کمشنر گیانیش کمار نے چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کو ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے انہیں دھاوے کی تفصیلات سے واقف کروایا۔ ذرائع کے بموجب حکومت تفتیش کے متبادل ذرائع کے پر غور کررہی ہے تاکہ اس واقعہ کے بارے میں اپنے طور پر تحقیقات کرسکے۔ آج کیرالا کے چیف منسٹر اوومن چانڈی اور چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے دھاوے کی مذمت کی حالانکہ سرکاری گیسٹ ہاؤز کے پکوانوں کی فہرست سے کل بھینس کے گوشت کے پکوان بھی حذف کردیئے گئے تھے۔ پولیس نے ہندو سینا کے سربراہ وشنو گپتا کو بھی گرفتار کرلیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر اس سلسلہ میں ایک جھوٹی شکایت درج کروائی تھی۔ تاہم دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسی نے کیرالا ہاؤس کے کینٹن پر دھاوے کی تردید کی۔

TOPPOPULARRECENT