Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / کیرالا کے لاپتہ 15 نوجوانوں کی داعش میں شمولیت کا اندیشہ

کیرالا کے لاپتہ 15 نوجوانوں کی داعش میں شمولیت کا اندیشہ

واٹس اپ پر مشتبہ پیام موصول ہونے پر پولیس کی تحقیقات کا حکم
تروننتھاپورم ؍ کوچی 9 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت کیرالا نے آج یہ اعلان کیا ہے کہ ریاست کے 15 نوجوانوں کے بارے میں تحقیقات کروائی جائے گی جوکہ مشرق وسطیٰ میں سفر کے دوران اچانک لاپتہ ہوکر اسلامک اسٹیٹ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ چیف منسٹر پنیارائی وجین نے کہاکہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اضلاع کسارا گڑھ اور پالکھڈ سے وابستہ نوجوانوں کے خاندان بشمول ایک جوڑے کو گزشتہ ایک ماہ سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ اور یہ اندیشہ ہے کہ مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے لئے مشرق وسطیٰ روانگی کے بعد وہ عسکریت پسند بن گئے ہوں گے۔ لاپتہ یہ نوجوان 30 سال سے کم عمر کے ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اور میڈیکوس ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ان نوجوانوں کے رشتہ داروں نے مقامی لیڈروں بشمول رکن پارلیمنٹ سے رجوع ہوکر یہ اطلاع دی اور یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لاپتہ لوگ ممکن ہے کہ داعش میں شامل ہوگئے ہوں۔ چیف منسٹر نے کوچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک سنگین اور تشویشناک معاملہ ہے جس کی تحقیقات کروائی جائے گی۔ وزیر مالگذاری ای چندرشیکھر نے بتایا کہ اگر لاپتہ کیرالائی نوجوان اسلامک اسٹیٹ کے جال میں پھنس گئے ہیں تو انھیں ڈھونڈ نکالنا مشکل ہے۔ اس کے باوجود حکومت جانچ پڑتال سے گریز نہیں کرے گی۔

قبل ازیں کیسرا گوڑ کے رکن پارلیمنٹ مسٹر پی کروناکرن نے بتایا کہ چیف منسٹر نے اس معاملہ کی فی الفور تحقیقات کے لئے پولیس کو ہدایت دے دی ہے۔ دریں اثناء کیسرا گوڑ ضلع پنچایت رکن وی پی پی مصطفی نے بتایا کہ عید کے موقع پر 2 لاپتہ نوجوانوں کے والدین کو ’’واٹس اپ‘‘ پر پیام ملا کہ وہ مکان واپس نہیں آئیں گے۔ یہاں صرف حکم الٰہی چلتا ہے۔ آپ چاہیں تو آپ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ ایک اور پیام میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں پر امریکہ کے حملوں کے خلاف لڑنے کے لئے ہم نے آئی ایس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ جس کے ساتھ ہی والدین نے مقامی ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ سے رجوع ہوکر یہ اطلاع دی جنھوں نے یہ معاملہ چیف منسٹر کے گوش گذار کرایا۔ دریں اثناء سی پی ایم کے سنیئر لیڈر اورلوک سبھا میں کاسرگوڈ کے نمائندے پی کرونا کرن نے وزیراعلی پنرئی وجین سے مانگ کی ہے کہ کاسرگوڈ اور پلککڑ اضلاع سے زائد از ایک ماہ سے لاپتہ پانچ خواتین سمیت پندرہ افرادکا پتہ چلایا جائے جنہوں غالباً خطرناک اسلامی ریاست (داعش) میں شمولیت اختیار کر لی ہے ۔یہ بات مارکسی پارلیمانی لیڈر نے چیف منسٹر سے ایک عرضداشت میں میں کہی ہے ۔عرضداشت کے مطابق لاپتہ لوگ 5 جون کو کاروباری مقصد کے لئے سری لنکا کے لئے روانہ ہوئے تھے ۔ ان لوگوں کی طرف سے موصول اطلاع سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ لوگ انتہا پسندوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔ لاپتہ افراد میں پداناکے ڈاکٹر اعجاز، ان کی بیوی رفیلہ، ان کا دو سالہ بچہ، بھائی شفا اور اس کی بیوی اجملہ ٹرککریپور کے عبدالرشید عبداللہ اوران کی بیوی عائشہ، ان کا 2 سالہ بچہ حفیظ الدین، مروان اسماعیل، اشفاق مجیداور فیروزشامل ہیں ۔ ان سب کا تعلق کاسرگوڈ سے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT