Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / کیرانہ سے ہندوؤں کی نقلِ مکانی پر تنازعہ

کیرانہ سے ہندوؤں کی نقلِ مکانی پر تنازعہ

بی جے پی رکن پارلیمنٹ کا اپنے بیان سے انحراف
مظفر نگر ۔/14جون، ( سیاست ڈاٹ کام ) اپنے ہی بیان سے انحراف ( یوٹرن ) کرتے ہوئے بی جے پی رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ نے آج کہا کہ مغربی اتر پردیش کے کیرانہ ٹاؤن سے ہندوؤں کی نقل مکانی فرقہ وارانہ نوعیت کی نہیں ہے بلکہ امن و قانون کی صورتحال کی وجہ سے لوگ تخلیہ پر مجبور ہوگئے ہیں۔ حتیٰ کہ مکانات چھوڑ کر بھاگنے والے خاندانوں کی تعداد 400 تا 500 تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فرقہ وارانہ واقعات کا نتیجہ ہے اور نہ ہی ہندو اور مسلمان کے درمیان تنازعہ ہے۔ جبکہ امن و قانون کی بگڑتی صورتحال سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں اور اس طرح کے خاندانوں کی فہرست میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس صورتحال کیلئے کسی ایک کو مورد الزام ٹہرایا نہیں جاسکتا بلکہ ان کی تعداد درجنوں میں ہے جنہوں نے لوگوں کو ماربھگانے کا کام کیا ہے۔

 

کیرانہ واقعہ پر مودی کی نظر
مرکزی ٹیم روانہ کی جائے گی
بہرائچ ۔14 جون (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر شری پدنائیک نے آج کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کیرانہ سے اکثریتی فرقہ کے نقل مقام واقعہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور مرکزی وزراء پر مشتمل سہ رکنی ٹیم کو صورتِ حال کا برسرموقع جائزہ لینے کے لئے روانہ کیا جائے گا۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی کیرانہ واقعہ پر نظر ہے۔ انہوں نے کیرانہ اور متھرا کے واقعات کو سنگین قرار دیا اور کہا کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اترپردیش میں لا اینڈ آرڈر کی صورتِ حال ابتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے متھرا میں ہلاک ہونے والے دو ملازمین پولیس کے ارکان خاندان کو جو مالی مدد کی ہے، وہ محض ایک دکھاوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزراء کی ٹیم عنقریب کیرانہ کا دورہ کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT