Wednesday , August 23 2017
Home / ہندوستان / کیرانہ میں ہندوؤں کی نقلِ مکانی کی کہانی من گھڑت

کیرانہ میں ہندوؤں کی نقلِ مکانی کی کہانی من گھڑت

بی جے پی کی اشتعال انگیزی کی کوششیں اور امن کے گہوارہ میں کشیدگی پھیلانے کی سازش ناکام

کیرانہ ( شیاملی )۔/14جون، ( سیاست ڈاٹ کام )الہ آباد میں اتوار کے دن منعقدہ بی جے پی قومی عاملہ کے اجلاس میں کیرانہ سے ہندوؤں کی نقلِ مکانی کے مسئلہ کو نمایاں اہمیت دی گئی لیکن سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے پارٹی کی کوششیں بے فیض ثابت ہوئیں۔ انگریزی روز نامہ ’’ ہندوستان ٹائمز‘‘ کی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ مغربی اتر پردیش کے کیرانہ ٹاؤن سے5سال قبل جن ہندوؤں نے نقلِ مکانی کی ہے وہ مسلمانوں کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہوکر نہیں بلکہ تلاش روزگار کیلئے دوسرے مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں۔ باور کیا جاتا ہے کہ مجوزہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی نے ہندوؤں کی نقلِ مکانی کا شوشہ چھوڑا ہے تاکہ فرقہ وارانہ جذبات بھڑکاتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکے۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ نے لاپتہ 346 افراد کی ایک فہرست پیش کی جس میں 20 خاندانوں کا  تحقیقاتی ٹیم نے پتہ چلایا ہے جن کا کہنا ہے کہ رکن پارلیمنٹ نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے دروغ گوئی سے کام لیا ہے۔ بی جے پی لیڈر گذشتہ ہفتہ اسوقت میڈیا کی سرخیوں میں چھا گئے جب یہ الزام عائد کیا کہ مسلم ٹولیوں بشمول ایک مقامی پہلوان مقیم کالا نے 350 ہندو خاندانوں کو ٹاؤن سے تخلیہ کردینے کی دھمکیاں دی ہیں جسے سماجوادی پارٹی کی سرپرستی حاصل ہے۔

لیکن مقیم کو گذشتہ سال اکٹوبر میں14 قتل کے الزامات میں گرفتار کرلیا گیا جس میں 3 ہندو اور 11 مسلمان شامل ہے۔ تاہم بی جے پی کی فہرست میں 115 مسلم خاندانوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے جو کہ الکلا بستی سے تخلیہ کرگئے ہیں ۔ مقامی انتظامیہ نے حکم سنگھ کی پیش کردہ فہرست میں 119 ناموں کی تنقیح کرکے پتہ چلایا کہ 66 خاندان  تو 5 سال قبل اسوقت چلے گئے جب مقیم کالا گوشہ گمنامی میں تھا اور سماجوادی پارٹی اقتدار میں بھی نہیں تھی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جن لوگوں کو زر تاوان ادا کرنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں ان میں 35چھوٹے دکاندار، 55 مزدور، 13 کسان اور 5وکلاء اور 2 اسکول ٹیچرس اور 3کلرک شامل ہیں۔ لیکن بی جے پی کی اشتعال انگیزی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم اکثریتی ٹاؤن میں فرقہ وارانہ جذبات بھڑکائے جائیں جو کہ 2سال قبل مظفر نگر میں بھیانک فسادات کے دوران بھی پرسکون رہا۔ اس فساد میں 60افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بی جے پی لیڈر کی دروغ گوئی اسوقت بے نقاب ہوگئی جب ان کی فہرست میں شامل مراری لال خاندان کے بارے میں چھان بین کی گئی یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ مراری لال نے مسلمانوں کی ہراسانی سے تنگ آکر کیرانہ ٹاؤن چھوڑ چلا گیا تھا

لیکن مراری لال اب بھی کیرانہ ٹاؤن میں قیام پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پیدائش سے لیکر اب تک وہ کہیں نہیں گئے، اور دوسرے فرقہ سے انہیں کبھی دھمکی نہیں دی گئی۔ کئی خاندانوں نے یہ شکایت کی ہے کہ بغیر علم و اطلاع کے بی جے پی کی فہرست میں ان کے نام شامل کئے گئے ہیں۔ تاہم مقامی لوگوں نے بتایا کہ بعض خاندانوں نے تلاش روزگار اوربہترین زندگی کیلئے نقلِ مکانی کی ہے۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کیرانہ کے حالات کو کشمیر کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے جہاں پر کشمیری پنڈتوں کو مجبور و مظلوم قراردیتے ہوئے سیاسی استحصال کیا جارہا ہے۔تاہم حق پسند اور سیکولرازم کے حامی ہندوؤں نے یہ اعتراف کیا کہ کیرانہ ٹاؤن ہندو مسلم اتحاد کا گہوارہ ہے جہاں پر کبھی فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں دیکھی گئی اور دونوں فرقے شیر و شکر کی طرح رہتے ہیں۔دریں اثناء ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شیاملی مسٹر سجیت کمار نے بتایا کہ بی جے پی کی فہرست میں شامل 150 خاندانوں کا گھر گھر جاکر پتہ چلایا گیا جس میں معلوم ہوا کہ 4خاندانوں کا ایک بھی رکن بقید حیات نہیں ہے، 13ہنوز کیرانہ میں قیام پذیر ہیں، 68 خاندان ایک عشرہ قبل اور بعض لوگ 5سال قبل نقل مکانی کرگئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT