Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / کیرانہ میں ہندوؤں کے نقل مقام کی تحقیقات : حکومت یوپی

کیرانہ میں ہندوؤں کے نقل مقام کی تحقیقات : حکومت یوپی

لکھنؤ ۔ 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) حکومت اترپردیش نے ریاست کے مغربی حصہ میں شاملی ضلع کے کیرانہ ٹاؤن سے ہندوؤں کے مبینہ نقل مقام کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ آئی جی (لا اینڈ آرڈر) ایچ آر شرما نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شاملی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ایس ڈی ایم اور سرکل آفیسر کو ان الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا ہیکہ ’’جہادی عناصر‘‘ نے ہندوؤں کو یہاں سے نقل مقام کیلئے مجبور کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی رکن پارلیمنٹ نے نقل مقام کرنے والے 346 خاندانوں کی جو فہرست حوالہ کی ہے اس کی جانچ کا بھی حکم دیا گیا۔ کیرانہ کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ نے یہ الزام عائد کیا ہیکہ 346 خاندانوں کو ٹاؤن چھوڑ کر فرار ہونے کیلئے مجبور ہونا پڑا۔ یہاں 85 فیصد مسلم آبادی ہے۔ ریاستی حکومت نے تحقیقات کا حکم ایسے وقت دیا جبکہ وی ایچ پی جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے آج کہا تھا کہ جہادیوں کو ان کی سرگرمیاں انجام دینے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے جہادی عناصر پر قابو پانے اور لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کو بہتر بنانے پر زور دیا تھا۔ اس دوران قومی انسانی حقوق کمیشن نے دوسرے طبقہ کے مجرمین کے خوف سے کیرانہ سے نقل مقام کے واقعہ پر حکومت اترپردیش کو نوٹس بھیجی ۔ اطلاعات کے مطابق فرقہ وارانہ طور پر انتہائی حساس ضلع شاملی میں صرف ہندو خاندان ہی نہیں بلکہ مسلم خاندان بھی نقل مقام کررہے ہیں۔ فسادات میں بے گھر ہونے والے مسلم خاندانوںکی بازآباد کاری میں مصروف این جی او کے ڈائرکٹر ریحانہ ادیب نے بتایا کہ ہندو اکثریتی علاقوں سے مسلمان اور مسلم اکثریتی علاقوں سے ہندو نقل مقام کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT