Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / کیرینہ علاقہ سے تخلیہ کرنے والوں میں مسلمان بھی شامل

کیرینہ علاقہ سے تخلیہ کرنے والوں میں مسلمان بھی شامل

مسئلہ کو فرقہ وارانہ رنگ نہ دینے مرکزی وزیر سنجیو بلیاں کا مشورہ

نئی دہلی۔20 جون (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش میں ضلع شیاملی کے علاقہ کیرینہ میں امن و قانون کے مسئلہ کی وجہ سے ہندوئوں کے ساتھ بعض مسلم خاندان بھی تخلیہ کرگئے ہیں۔ مرکزی وزیر سنجیو بلیاں نے آج یہ ادعا کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بات یہ ہے کہ میں نے کیرینہ کا دورہ نہیں کیا، دوسری بات یہ ہے کہ تم لوگ (میڈیا) دیکھ سکتے ہو کہ ریاست میں امن و قانون کا مسئلہ پایا جاتا ہے اور یہ مناسب ہوگا کہ نقل مکانی، کو اس نقطہ نظر دے دیکھا جائے اور میری جانکاری کے مطابق یہ نہ صرف ہندوئوں کا مسئلہ ہے بلکہ بعض مسلم خاندان بھی یہاں سے تخلیہ کرچکے ہیں۔ مرکزی وزیر سنجیو بلیاں جو کہ پارلیمانی حلقہ مظفر نگر کی نمائندگی کرتے ہیں کہا ہے کہ نقل مکانی کا مسئلہ صرف کیرینہ علاقہ تک محدود نہیں ہے اور اس مسئلہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینا بھی بالکلیہ غلط ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک امن و قانون کا مسئلہ ہے جسے مذہبی رنگ نہیں دیا جاسکتا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ ان کا یہ تبصرہ بی جے پی ٹیم کی فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر کررہے ہیں جس نے کیرینہ میں صورتحال کا جائزۃ لیا تھا۔ میں نے ٹیم کے ارکان سے بات چیت کی ہے جس نے صورتحال کا جائزہ لے کر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ امن و قانون کے مسئلہ کے باعث مقامی لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔ واضح ہے کہ اترپردیش میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں جس کے پیش نظر رائے دہندوں کی صف بندی کے لئے مسائل اور تنازعات چھڑے جارہے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ بی جے پی کے ریاستی صدر کیشو پرساد موریہ نے گورنر رام نائک سے ملاقات کرکے کیرینہ سے ہندوئوں کی نقل مکانی کی سی بی آ:ی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے اس علاقہ تعلق سے پارٹی کی حقائق معلوم کرنے والی ٹیم کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ جبکہ حکمران سماجی اور پارٹی اور کانگریس نے مذکورہ ٹیم کی رپورٹ کو مضحکہ خیز قرار دیا اور یہ الزام عائد کیا کہ بی جے پی حالات کو کشیدہ بنانے کی کوشش میں ہے علاوہ ازیں بی جے پی رکن اسمبلی سنگیت سوم نے ریاستی حکومت کو یہ الٹی میٹم دیا کہ کیرینہ علاقہ سے تخلیہ کرنیوالوں کو دوبارہ واپس لایا جائے۔

TOPPOPULARRECENT