Friday , May 26 2017
Home / شہر کی خبریں / کیر ہاسپٹل کے چیف سرجن سے جرح چندرائن گٹہ حملہ مقدمہ میں بیان قلمبند

کیر ہاسپٹل کے چیف سرجن سے جرح چندرائن گٹہ حملہ مقدمہ میں بیان قلمبند

حیدرآباد۔ 24 اپریل (سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی سماعت کے موقع پر کیر ہاسپٹل کے چیف سرجن ڈاکٹر ایم اے سلیم نے آج حاضر عدالت ہوکر اپنا بیان قلمبند کرایا اور وکیل دفاع نے ان پر جرح کی۔ ڈاکٹر سلیم نے ساتویں ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج کو دیئے گئے بیان میں یہ بتایا کہ اکبرالدین اویسی 30 اپریل 2011ء سے 20 مئی 2011ء تک کیر ہاسپٹل میں زیرعلاج تھے اور بعدازاں انہیں ڈسچارج کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ داخلے کے وقت مریض کے پیٹ کے ایکسرے لئے گئے تھے جس میں یہ معلوم ہوا تھا کہ دائیں کولہے کے حصے میں کسی شئے کے موجود ہونے کا پتہ چلا تھا اور وہ شئے گولی بھی ہوسکتی ہے۔ وکیل دفاع ایڈوکیٹ جی گرومورتی کی جانب سے جرح کے دوران ڈاکٹر سلیم نے بتایا کہ اکبرالدین اویسی کے علاج کے دوران انہیں اس بات کا علم ہوا کہ رکن اسمبلی کی آنت، بائیں گردہ اور اس کے اطراف کا حصہ زخمی ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی رپورٹ کے مطابق اکبر الدین اویسی کو تین اندرون زخم تھے اور یہ زخم کسی تیز دھاری شئے کے ذریعہ ہوئے تھے۔ گواہ نے بتایا کہ زخمی مریض کے جسم پر زخموں کے بارے میں وہ نہیں بتا سکتے کیونکہ کیر ہاسپٹل کو لانے سے قبل دوسرے دواخانہ میں انہیں ٹانکے دیئے گئے تھے۔ وکیل دفاع نے جرح کے دوران مختلف سوالات کئے جس میں ڈاکٹر سلیم نے بتایا کہ 30 اپریل 2011ء کو مریض کو مصنوعی تنفس پر دواخانہ کو منتقل کیا گیا تھا اور وہ اس وقت گہری بے ہوشی کی حالت میں تھے۔ مریض کے حلق میں ایک ٹیوب بھی موجود تھا۔ وہ اس بارے میں نہیں بتا سکتے کہ مریض کو کتنی دیر بعد ہوش آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بیالسٹک سائنس کے ماہر نہیں ہیں۔ گواہ نے یہ بتایا کہ وہ مریض کے ایکسرے لینے والے ریڈیالوجسٹ کے بارے میں نہیں بتا سکتے کیونکہ انہیں اس بارے میں علم نہیں ہے۔ گواہ نے مزید بتایا کہ ان کے دواخانہ میں مریض کی ڈسچارج سمری پر فزیشن دستخط کرتا تھا۔ انہوں نے یہ بتایا کہ مریض کی ڈسچارج سمری کیس شیٹ کے مطابق تیار کی گئی تھی اور انہوں نے کیس شیٹ کی کاپی عدالت میں نہیں لائی۔چونکہ پولیس نے انہیں کیس شیٹ حوالے کرنے کی درخواست نہیں کی تھی۔ عدالت نے کیس کی سماعت کو 26 اپریل تک ملتوی کردیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT