Wednesday , April 26 2017
Home / مضامین / کیش لیس معیشت … ’ ’ بڑا نادان ہے دہلی کو جو لندن سمجھتاہے‘‘

کیش لیس معیشت … ’ ’ بڑا نادان ہے دہلی کو جو لندن سمجھتاہے‘‘

محمد جسیم الدین نظامی
ہزار پانچ سو نوٹوںکی منسوخی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اقتصادیات ارون جیٹلی کا کہناہے کہ کالے دھن اور ٹیکس چوری پر قدغن لگانے کے علاوہ یہ ملک کی معیشت کو’’ کیش لیس معیشت ‘‘ بنانے کے سمت یہ ایک بہت بڑا قدم ہے۔ بقول انکے’’ ڈیجیٹل لین دین ہر لحاظ سے محفوظ ہے، اس کے ذریعے حکومت ٹیکس چوری اور کرپشن پر کڑی نظر رکھ سکتی ہے ‘‘۔ دوسری طرف اسی موضوع پر مشہور ماہر اقتصادیات سوامی ناتھن ایس انکلیسریا ایّر نے اپنے مضمون (جو اتوار 13 نومبر کو ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہوا) میں تحریر کیا ہے کہ عام طور پر ’’2 فیصد سے بھی کم‘‘ کالا دھن’’ نقد رقم‘‘ کی شکل میں رہتا ہے، باقی سب سونا، ریئل اسٹیٹ ، اسٹاک یا مختلف صنعتوں میں سرمایہ کاری کے طور پر مشغول ہوتا ہے‘‘۔تو سوال یہ ہے کہ مرکزی حکومت جس ’ ’ ڈیجیٹل سوسائٹی‘‘ کی سمت میں ہندوستان کو لے جانا چاہ رہی ہے،اس کا اصل مقصد ہے کیا؟۔ کالے دھن سے نجات یا نقدلین دین پر روک۔ نقدی مارکیٹ پر اقتدار کی گرفت، یا کیش لیس مارکیٹ کافروغ؟۔چونکہ مغربی ممالک تو کافی پہلے سے ڈیجیٹل لین دین کر رہے ہیں،لیکن کیا وہ کالے دھن سے پاک ہوسکاہے؟ امریکہ میں 80فیصد لین دین کیش لیس ہے،اسی طرح سویڈن میں 89 فیصد، برطانیہ میں 89 فیصد، کینیڈا میں 90 فیصد، فرانس میں 92 فیصد اور بیلجیم میں 93 فیصد کاروبار، اور جرمنی میں76 فیصد لین دین کیش لیس پر مبنی ہے ۔جبکہ ہندوستان میں 85 فیصد سے بھی زیادہ لین دین یا کاروبار نقد رقم کے ذریعہ ہوتا ہے۔دنیا میں کالا دھن کا سچ یہی ہے کہ امریکہ میں سب سے زیادہ کالا دھن ہے حالانکہ یہاں 80فیصد کیش لیس ادائگی ہوتی ہے ۔ آپ جانتے ہونگے کہ جس کالا دھن کو روکنے کے لئے 500 اور 1000 کے نوٹ پر پابندی لگا کر وزیر اعظم نریندر مودی اپنی پیٹھ تھپ تھپا رہے ہیں، بالکل ایسا ہی قدم 1969 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے اٹھایا تھا، جب انہوں نے بھی ایک جھٹکے میں ہی 100 ڈالر سے اوپر کے سارے نوٹ یعنی پانچ سو، ہزار، پانچ ہزار، دس ہزار کے نوٹو ںکوردی کے ٹکڑے میں تبدیل کر دیا تھا۔ اس ا قدام کے بعد امریکہ میں بینکاری نظام بھلے ہی مضبوط ہوا ہو لیکن کالا دھن نہیں رکا۔ آج امریکہ میں کل صارفین کی ادائیگی کا 80 فیصد کیش لیس پے منٹ سسٹم سے ہوتا ہے ۔ لیکن پھر بھی کالا دھن بننے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ حقیقت صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے۔جن جن ممالک میں کیش لیس ادائیگی ہوتی ہے کیا ان میں سے کوئی بھی ملک بدعنوانی سے پاک ہے؟۔ اگر نہیں تو ہندوستان جیسے ترقی پذیر اور 70فیصد دیہی علاقو ںپرمشتمل ملک کیلئے کیا فی الحال کامیابی کی امید کی جاسکتی ہے؟۔ چونکہ ہمارے ملک کی دیہی معیشت مکمل طور پر’’نقد لین دین ‘‘پر منحصر ہے۔ اس کے علاوہ گارمنٹس، ٹرانسپورٹ، چھوٹی صنعت، چھوٹے کاروباری افراد اور عمر رسیدہ لوگوں کی تعداد شامل کر دی جائے تو اک بڑا طبقہ ایسا موجود ہے جو کم ازکم ابھی تو کیش لیس معیشت کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔اسکے علاوہہندوستان میں کیش لیس معیشت اس لئے بھی چلنجس سے بھرا ہے کیو نکہ یہاں کی ریڑھ کی ہڈی یعنی ’’زرعی معیشت ‘‘مکمل طور پر نقدلین دین پر ٹکی ہوئی ہے۔ زرعی ماہر اقتصادیات پروفیسر ُسچا سنگھ ِگل کے مطابق ’’ملک کا 60تا65 فیصد حصہ دیہی علاقوں پر مشتمل ہے جہاں کئی کسان دسویں پاس بھی نہیں ہیں، اور ہم نئی ٹکنالوجی کی بات کر رہے ہیں‘‘۔دوسری طرف ایک تحقیقی رپورٹ بتاتی ہے کہ ملک کے 6 لاکھ گاؤں میں سے 5 لاکھ 54 ہزار گاؤں میں بینک سہولت ہی نہیں ہے۔ ملک بھر میں مجموعی طورپر صرف 30-35 فیصد لوگوں کے پاس ہی بینک یا پوسٹ آفس اکاؤنٹ ہیں،زیادہ تر دیہی علاقے بینکنگ سہولیات اور ڈیبٹ کریڈٹ کارڈ سے محروم ہیں، بڑے شہروں کی بھی زیادہ تر دکانوں پر کریڈٹ یاڈیبٹ کارڈ کو قبول ہی نہ کئے جاتے ۔ ملک میں کریڈٹ کارڈ کی تعداد محض ڈھائی کروڑ ہے۔ یعنی ایک طرف کیش لیس معاشرہ جہاں ہندوستان کیلئے ’’دلی دور ہے‘ ‘ والی بات ہے تو وہیں دوسری طرف کیش لیس معیشت کے حامل ممالک نہ تو کالے دھن سے آزاد ہوا ہے، نا ہی بدعنوانی اور کالے دھن سے….اصل میں آج کی دنیا کا کڑوا سچ یہ ہے کہ سارا سیاسی نظام ہی کرپٹ ہے اور جب تک کرپٹ سیاسی سسٹم اورکرپٹ لیڈرس ہیں ،کرپشن بدستور موجود رہے گا ، اورجب تک کرپشن ہوگاوہ اپنی کوکھ سے کالے دھن کو جنم دیتا ہی رہے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کیش لیس معیشت کو فروغ دینے سے کا لا دھن رک جائگا؟ اسکو سمجھنے کیلئے ایماندار ی سے پہلے یہ طئے ہونی چاہئے کہ کالا دھن ہے کیا؟ ۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فینانس اینڈ پالیسی (NIPFP) کے مطابق، کالا دھن وہ انکم ہوتا ہے جس پر ٹیکس کی ذمہ داری بنتی ہے لیکن اس کی معلومات ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو نہیں دی جاتی ہے۔غیر قانونی مالیاتی بہاؤ رپورٹ کے مطابق صرف 2تا2011 کے درمیان ملک سے 343 بلین ڈالر ملک سے باہر بھیجے گئے تھے اور ہندوستان کالا دھن باہر بھیجنے والا دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک ہے۔این آئی پی ایف پی کے مطابق، کالا دھن وہی نہیں ہے جو بغیر کسی معلومات کے غیر ملکی بینکوں میں جمع ہے، کالا دھن وہ بھی ہے جو ملک کے اندر جمع ہے اور ملک کے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو خبر ہی نہیں ہے۔ پھر چاہے وہ دولت عطیہ کے نام پر مندروں، چرچوںیا مسجدوں وغیرہ جیسے مذہبی مقامات پرہی جمع کیوںنہ ہو۔ آئیے آپ کو ایک مثال دیتے ہیں تاکہ آپ کو بات سمجھنے میں آسانی ہو۔ یو این او کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر سال تقریبا 14 ٹریلین روپے عطیہ دیا جاتا ہے۔ ملک کا عام آدمی اپنی کمائی کا30 فیصد عطیہ اور خیرات میں دے دیتا ہے۔ ملک میں بنائے گئے عطیات کے قانون کے مطابق عطیات ٹیکس سے استثنی ہے۔ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو اس کے بارے کوئی معلومات نہیں دی جاتی ہے۔اس حقیقت کے بعد ا ب ایک سروے رپورٹ دیکھئے جسکے مطابق، ملک میں ہر سال تقریبا 300 ٹن سونا مندروں میں جمع ہو رہا ہے۔ آخر ہم بلیک منی یا کالا دھن کہتے کسے ہیں؟ وہ دولت جس پر ٹیکس نہ دیا گیا ہو اور وہ مال و دولت جو سرکاری نگرانی سے باہر ہو۔ مذہبی مقامات کی کمائی تقریبا ًان دونوں ہی شرائط کو پورا کرتی ہے۔ اقتصادی  تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ ملک کے مندروں میں لگ بھگ 14 ٹریلین امریکی ڈالر سے بھی زیادہ کا کالا دھن چھپایا گیا ہے۔وزارت مالیات کے مطابق،حکومت ہندکی ملکیت میں 3250ٹن سونا ہے جبکہ ہندوستانی منادر میں 30,000ٹن سوناہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً تمام بڑے منادر اعلی ذات والوں کے قبضے میں ہے ۔ملک سے باہر بھی جتنا کالا دھن ہے اس میں بھی اکثریت بڑی ذات والوںکا ہے۔ عام آدمی تو اب یہی سوال کررہا ہے کہ باہر سے کالا دھن لانے میں ناکامی کو چھپانے کے لئے ا گر پہلے ’ ’ ملک کے اندر‘‘ سے ہی کالادھن باہرنکالناہے تو کیا مودی حکومت مذہب کے نام پر جمع کئے گئے اس کالے دھن کو باہرلانے کی جسارت کرسکتی ہے؟ حالانکہ اس طرح کے سوالات کرنے والے کو  ’’دیش دروہ‘‘قرار دیدیا جائگا،مگر یہ تلخ سوال تو اپنی جگہ برقرارہے کہ محنت کشوںکی کمائی اگرڈھائی لاکھ سے زیادہ گھر کے اندر ہو تو وہ کالادھن ہوسکتاہے تو مذہب کے نام پر جمع کیا گیا کھربوں روپے کی دولت سفیددھن کیسے ہوسکتاہے؟ آج عوام یہ سوال کررہی ہے کہ وزیرآعظم کی جانب سے معاشی ایمرجنسی لگا کر ایک جھٹکے میں ملک کے کروڑوں غریب مزدوروں، شہریوں اور کاشتکاروں کے منہ سے نوالہ چھین لینے او ر کروڑوں مریضوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑدینے سے کا لادھن واپس آجائگا؟ ڈھائی لاکھ سے زیادہ روپیہ بینک میں جمع کرنے والوں پر حکومت کی سخت نظر ر کھنے کے اعلان کا مطلب صاف تھا کہ اگر کسی کے گھر میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ روپیہ ہے تو اسے یا تو جلا دیا جائے یا کوڑے میں پھینک دیا جائے ۔ آخر حکومت کس طرح کے کالے دھن کو روکنے کی کوشش کررہی ہے۔ کالے دھن کے’’ نوٹوں‘‘ کی شکل میں یا پھر اس دھن سے حاصل کردہ دولت کی شکل میں؟  کالا دھن رکھنے والے افراد کئی دہائی قبل ہی اس کی شکل وصورت ہی تبدیل کردی ہے۔ جن ہندوستانیوں کے پاس بلیک منی تھا یا ہے وہ تو آپکے سرجیکل اسٹرائک سے پہلے ہی امریکی ڈالرس کی شکل میں ،املاک کی شکل میں ، سونے اور زیورات کی شکل میں ،زمین اوربنگلے کی شکل میں، بڑے بڑے تعلیمی ادارے اورہاسپٹل کی شکل میں تبدیل کرکے اس دھن کو محفوظ کرلیا ہے۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی نے کالا دھن نوٹوں کی شکل میں ہی محفوظ رکھا ہے تو یہ بیوقوفی ہے۔ کالے دھن کو بے نقاب کرنے کیلئے اگر ہزار پانچ سو کے نوٹ منسو خ کئے گئے ہیں تو اس سے اب کیا فائدہ ہونے والا ہے ۔کیا ان نوٹوں پر روک لگانے سے امبانی ادانی ،برلا ،وجئے مالیا، اور ان جیسے بڑے صنعت کاروں کو کوئی پریشانی ہوگی؟۔ اس سے توصرف عام آدمی کا جینا دوبھرہوا ہے، روزگار تو عام آدمی کا چھن گیا ہے،کاروبار تو چھوٹے تاجروںکا بند ہواہے،علاج ومعالجہ کیلئے غریب آدمیوںکا بھٹکنا پڑرہاہے،نیند تو ان خواتین کی اڑی گئی ہے ،جنہوں نے اپنا پیٹ کاٹ کر ہنگامی حالات کیلئے چند لاکھ روپے بچائے تھے،اپنی محنت کے پیسے نکالنے کیلئے بینک اوراے ٹی ایمس کی لمبی لمبی قطاروں میں توعام ہندوستانیو ںکو ہی ٹہرنا پڑرہا ہے،وہ عام آدمی جو ای ویالٹ اور کیش لیس معیشت کے تصور سے بھی نابلدہے،وہ عام آدمی جنہیں یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ ڈھائی لاکھ سے زیادہ کی رقم’’ بلیک منی ‘‘ہوتی ہے۔ شاید اسی لئے تو کسی نے کہا ہے کہ
وہ حاکم نیم کی لکڑی کو بھی چندن سمجھتا ہے
بڑانادان ہے دہلی کو جو لندن سمجھتاہے
ارے میکش کوئی اس چائے والے کوتو سمجھائے
غریبوںکی کمائی کو بھی کالا دھن سمجھتاہے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT