Sunday , October 22 2017
Home / بچوں کا صفحہ / کیلنڈر کا رواج کب ہُوا …؟

کیلنڈر کا رواج کب ہُوا …؟

پیارے بچو! ایک سال کی مدت کو مہینوں، ہفتوں اور دنوں میں تقسیم کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے اُسے کیلنڈر کہتے ہیں۔ کیلنڈر لاطینی لفظ ہے جس کے معنی ہیں حساب رکھنے کی کتاب۔ کیلنڈر میں وقت کا حساب رکھا جاتا ہے اور اس سے زمانے کی عمر کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔
ہماری زمین اپنے محور پر 24گھنٹے میں پورا چکر لگالیتی ہے۔ اس عرصے کو دن کہتے ہیں، جس میں رات کا وقت بھی شامل ہے۔ زمین اپنے مدار پر سورج کے گرد بھی چکر لگاتی ہے اور اس چکر لگانے میں جتنا وقت لیتی ہے ، اسے ایک سال کہتے ہیں۔ دن اور رات کا اندازہ تو اس انسان کو بھی تھا جو غاروں میں رہتا تھا، لیکن سال کا اندازہ کرنا اس کے بس کی بات نہ تھی۔ جب انسان کے علم میں کافی اضافہ ہوگیا تو سال کا وقت مقرر کیا گیا اور پھر سال کے وقت کو تقسیم کرکے مہینے اور اُن کے دن مقرر کئے گئے۔ اس وقت دنیا میں چار قسم کے کیلنڈر استعمال کئے جارہے ہیں۔ ایک کیلنڈر کا نام جُولین کیلنڈر ہے جو دنیا کے بہت سے ملکوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسے عیسوی سن بھی کہتے ہیں۔ دوسرا ہجر کیلنڈر کہلاتا ہے اور یہ مسلم ملکوں میں رائج ہے۔ تیسرا بکرمی کیلنڈر ہے جو ہندوستان میں استعمال ہوتا ہے۔ چوتھا کیلنڈر یہودیوں کا ہے اور اس کو صرف یہودی ہی استعمال کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT