Saturday , March 25 2017
Home / شہر کی خبریں / کیلیفورنیا میں ورنگل کے نوجوان کو گولی مار دی گئی

کیلیفورنیا میں ورنگل کے نوجوان کو گولی مار دی گئی

سیاہ فام نوجوان کی ظالمانہ حرکت ،ٹرمپ کی نفرت پر مبنی مہم کا اثر
حیدرآباد۔ 12فروری (سیاست نیوز) امریکہ کے شہر کیلیفورنیا میں ایم ایس کی تعلیم حاصل کرنے والے ریاست تلنگانہ کے ضلع ورنگل کے 27 سالہ نوجوان سافٹ ویئر انجینئر ایم ومشی چندر ریڈی کو سیاہ فام رہزن نے گولی مارکر ہلاک کردیا۔ وہ سلیکان ویلی سے ماسٹرس کی ڈگری مکمل کی تھی اور جزوقتی ملازمت کررہا تھا ۔ اسے گولی مارنے والے نے اس کار کو روک کر اسے قریب سے گولی مار کر ہلاک کردیا ۔ حملہ آور حالت نشہ میں تھا ۔ ملزم نے گولی مارنے کے بعد ومشی چندر ریڈی کے ویلیٹ سے کچھ رقم نکال لی ۔ ومشی کی نعش کار میں پائی گئی ۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ نسلی حملہ تھا ۔ ومشی کے والدین ورنگل کے ونگا پہاڑ علاقہ میں رہتے ہیں جبکہ اس کی بہن حیدرآباد میں مقیم ہے ۔ ومشی کا خاندان کافی غریب ہے وہ ابتدا ہی سے بہت ذہین تھا اور تعلیم میں کافی آگے تھا ۔ اس نے حیدرآباد میں بی ٹیک مکمل کیا اس کے بعد 2013 میں امریکہ گیا تھا ۔ وہ گزشتہ تین دنوں سے امریکہ میں لاپتہ تھا ۔ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اس کے خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ۔اگرچیکہ افرادِ خاندان کو امریکہ کی پولیس کی جانب سے کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ خاندان کے ارکان نے الزام عائد کیا کہ یہ ہلاکت صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے حلف لینے کے بعد نفرت پر مبنی جرائم کا ایک کیس ہے۔ ومشی ریڈی ضلع ورنگل رورل کے حسن پرتی منڈل میں ونگا پہاڑ کا متوطن تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس کے اپارٹمنٹ کے گیاریج میں پیش آیا جب قاتل کی کار ومشی کی کار سے ٹکرا گئی۔ قاتل نے بالکل قریب سے اسے گولی ماردی۔ اس کے والدین کو ومشی کے دوست پراوین نے اطلاع دی۔ یہ واقعہ اتوار کی صبح 4:30 بجے پیش آیا۔ ومشی کے والد ایم سنجیو ریڈی کے مطابق ان کے بیٹے کے دوست نے پہلے بتایا کہ وہ لاپتہ ہے، اس کے بعد 8:30 بجے صبح میڈیا کے ذریعہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ ان کے بیٹے کی موت ہوچکی ہے۔ ملپیٹس پولیس نے اس کی موت کا اعلان نہیں کیا بلکہ وہ لاپتہ کیس کی حیثیت سے تحقیقات کررہی ہے۔ کیلیفورنیا پولیس اور نہ ہی وزارت خارجہ کی جانب سے ومشی کے خاندان سے اب تک ربط پیدا نہیں کیا گیا۔ امریکہ ومشی کے دوستوں اور میڈیا کے ذریعہ ہی یہ اطلاع ملی ہے۔ ومشی 2015ء میں ایم ایس کرنے کیلئے امریکہ روانہ ہوا تھا۔ وہ گزشتہ 40 دن سے پارٹ ٹائم ملازمت کررہا تھا۔ ومشی کے غمزدہ والد سنجیوا ریڈی جو کسان ہیں ، نے بتایا کہ دو دن قبل ہی میرے بیٹے نے مجھ سے بات کی تھی۔ اپنے مستقبل کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا کیونکہ امریکہ میں ٹرمپ حکومت آنے کے بعد آئی ٹی شعبہ میں بیرونی شہریوں کیلئے روزگار کی فراہمی پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ میں نے اس سے کہا تھا کہ وہ فکر نہ کرے اور اپنے وطن واپس آجائے لیکن دو دن کے اندر ہی یہ المناک اطلاع ملی ہے۔ ومشی کے والد، رشتہ داروں اور دوستوں نے احساس ظاہر کیا کہ اس موت کیلئے ٹرمپ کی نفرت پر مبنی مہم ذمہ دار ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ اور مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کے فرزند کی نعش ہندوستان واپس لانے میں مدد کریں۔ اسی دوران بی جے پی فلور لیڈر جی کشن ریڈی نے وزیر خارجہ سشما سوراج سے بات کی اور کیلفورنیا سے ومشی کی نعش لانے میں مدد کی درخواست کی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT