Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / کیلیفورنیا واقعہ ‘ امریکی عرب مسلمانوں کو انتقامی کارروائی کا خوف

کیلیفورنیا واقعہ ‘ امریکی عرب مسلمانوں کو انتقامی کارروائی کا خوف

مسجد دارالعلوم الاسلامیہ کو دھمکی آمیز وائس میل، فاروق ایک پرسکون اور شرمیلا نوجوان : امام مسجد، نماز جمعہ کیلئے زائد سیکوریٹی
سان برنارڈینو (امریکہ) ۔ 4 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کیلیفورنیا میں مسلم جوڑے کے ذریعہ 14 افراد کو اندھادھند گولیاں چلاتے ہوئے ہلاک کرنے کے دلدوز واقعہ کے بعد یہاں مقیم عرب نژاد اور دیگر مسلم اقوام کو اندیشہ ہے کہ انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اس سلسلہ میں یہاں کی ایک تنظیم ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکوریٹی کے عہدیداروں سے ملاقات کرے گی اور حملے کے بعد پیدا ہوئی صورتحال اور اس سے نمٹنے سیکوریٹی اقدامات کا جائزہ لے گی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ سان برنارڈینو یہاں سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے اور عرب اور دیگر مسلم اقوام کی یہاں قابل لحاظ آبادی ہے۔ دریں اثناء سیول رائٹس گروپ امریکن ۔ عرب اینٹی ڈسکریمینیشن کمیٹی کے لیگل اور پالیسی ڈائرکٹر عابد ایوب نے بتایا کہ عرب نژاد اور دیگر مسلم اقوام کو کیلیفورنیا قتل عام کے بعد انتقامی کارروائی کا اندیشہ ہے اور اسی خوف نے ان کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں اور آج کی یہی حقیقت ہے۔ ایوب نے مزید کہاکہ چہارشنبہ کو جو کچھ بھی ہوا وہ افسوسناک ضرور ہے۔ تاہم یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ایسا ہوگا ہی نہیں۔ آج صورتحال یہ ہیکہ ہمیں انتہائی محتاط رہنا پڑ رہا ہے۔ ایوب کے مطابق گذشتہ ماہ پیرس میں دہشت گردانہ واقعہ اور اس کے بعد کیلیفورنیا کا قتل عام، دو ایسے اہم واقعات ہیں جنہوں نے یہاں کے مسلمانوں کو ہر وقت محتاط رہنے پر مجبور کردیا ہے۔ دولت اسلامیہ ہر حملہ کی ذمہ داری اپنے سر لے رہی ہے اور عام خیال یہ پایا جارہا ہیکہ دنیا کا ہر مسلمان دولت اسلامیہ (داعش) کا حامی ہے جبکہ مٹھی بھر مسلمان ہی اس کی تائید کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔

سان برناڈرینو کے مسلمانوں نے ایک سنٹر پر قاتلانہ حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اظہارتاسف کیا تھا لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے دیگر ساتھی جن کا تعلق دیگر مذاہب سے ہے، ہمارے اظہارتاسف کو بھی ایک ڈھکوسلہ سمجھ رہے ہیں۔ نہ صرف عوام بلکہ مسلم قائدین نے بھی کیلیفورنیا واقعہ پر اظہار رنج کیا ہے۔ اسی دوران سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق فاروق کے بیرون ملک مشتبہ دہشت گردوں سے روابط تھے اور ان کے ساتھ روابط کا ہی نتیجہ اسکے انتہاء پسند بننے کی صورت میں سامنے آیا۔ البتہ جس مسجد میں فاروق نے نماز ادا کی تھی، اس مسجد کے امام نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ 39 سالہ امام محمد ندوی جو سان برنارڈینو کے دارالعلوم الاسلامیہ مسجد کے امام ہیں، نے کہاکہ فاروق میں انہوں نے ایسی کوئی تبدیلی نہیں دیکھی جس کے تحت یہ کہا جاسکتا ہوکہ وہ انتہاء پسند ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مرتد ہوجاتا ہے تو وہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ مسجد کو وائس میل کے ذریعہ کئی دھمکیاں مل چکی ہیں جس کیلئے مسجد انتظامیہ نے نماز جمعہ کے موقع پر زائد سیکوریٹی فراہم کئے جانے کی درخواست کی ہے۔ امام صاحب نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ فاروق نے ایسا کیوں کیا؟ یقیناً اس نے اسلامی کاز کیلئے ایسا نہیں کیا۔ اس کو میں نے ہمیشہ پرسکون، شرمیلا اور اپنے کام سے کام رکھنے والے شخص کی صورت میں دیکھا۔ امریکہ میں آباد ہونا اس کا خواب تھا جس میں وہ کامیاب تھا۔ وہ شادی شدہ ہے اور اس کی ایک بیٹی بھی ہے۔ اس نے گذشتہ سال 77000 ڈالرس کا انعام بھی حاصل کیا۔ بہرحال اس کے پاس وہ سب کچھ ہے جس سے وہ خوشحال زندگی بسر کرسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT