Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / کینیڈا کے وزیراعظم مساجد کے دورے اور نماز ادا کرتے رہے ہیں

کینیڈا کے وزیراعظم مساجد کے دورے اور نماز ادا کرتے رہے ہیں

Canadian Prime Minister Justin Trudeau waves as he disembarks from his plane as he arrives for the Asia-Pacific Economic Cooperation (APEC) summit in Manila, Philippines, Tuesday, Nov. 17, 2015. Leaders from 21 countries and self-governing territories are gathering in Manila for the Asia-Pacific Economic Cooperation summit. The meeting's official agenda is focused on trade, business and economic issues but terrorism, South China Sea disputes and climate change are also set to be in focus.(AP Photo/Aaron Favila)

جسٹن ٹروڈو دور جدید کے نجاشی : امام مسجد، ویڈیو منظرعام پر

لندن۔ 13 جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) کینیڈا کے نئے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی ایک وڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ ایک مسجد کے اندر مسلمانوں سے گفتگو کرتے ہوئے اور ان کے ساتھ نماز مغرب میں شریک ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ 2013 ء کے رمضان میں ٹروڈو کے اس مسجد کے دورے کی تصاویر کینیڈا کی اور دیگر نیوز ویب سائٹوں پر پھیلی ہوئی ہیں۔ تمام ہی ویب سائٹوں نے اس دورے کی ویڈیو کا بھی ذکر کیا ہے تاہم کسی بھی سائٹ پر اس تحریری خبر کے ساتھ پوسٹ نہیں کیا گیا۔ لہذا اب یہ پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی ہے۔وجیہ شخصیت کے مالک 45 سالہ ٹروڈو نے، جو تین بیٹوں کے والد بھی ہیں، جب کینیڈا کے انتہائی مغربی صوبے برٹش کولمبیا کے شہر سرے (Surrey) میں “الجماعہ مسجد” کا دورہ کیا، تو ْاس وقت وہ وزیراعظم نہیں بلکہ لبرل پارٹی کے سربراہ تھے۔ اسلامی طرز کے لباس میں ملبوس ٹروڈو نے نماز کی ادائیگی کے بعد حاضرین سے مختصر خطاب کیا۔ اپنے خطاب کا آغاز انہوں نے ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر کیا، جس کا جواب تمام حاضرین نے بھرپور طریقے سے دیا۔ جسٹن ٹروڈو نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ لوگوں نے مجھے اس رات نماز میں شمولیت کا عظیم شرف بخشا ہے‘‘۔جسٹن ٹروڈو کے اس عمل پر انتہائی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے امام مسجد نے انھیں دور جدید کا نجاشی قرار دیا تھا ۔  انہوں نے مزید کہا کہ ’’رمضان کی اقدار یہ کینیڈا کی بھی اقدار ہیں‘‘۔جسٹن ٹروڈو جو 4 نومبر 2015 سے کینیڈا کے وزیراعظم ہیں، ان کا ملک اب تک دس ہزار شامیوں کو پناہ دے چکا ہے ۔ ٹروڈو نے 2013 میں ہی ایک دوسری مسجد کا بھی دورہ کیا تھا، تاہم اس وقت وہ نماز میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ ٹروڈو نے نسل پرستی اور فرقہ واریت کے انسداد کے لیے اپنی شدید خواہش کا اظہار کیا اور یہ بھی واضح کیا کہ وہ مسلمانوں کو کینیڈیئن معاشرے کا ایک اہم جزو سمجھتے ہیں۔گزشتہ نومبر میں جب نامعلوم افراد نے کینیڈا کی ’السلام مسجد‘ کو آگ لگادی تھی تو ٹروڈو نے اس کارروائی کی سخت مذمت کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت ’’ذمہ دار افراد کو گرفتار کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی‘‘ اور پھر عملی طور پر ان افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا تھا۔ دوسری جانب ’’اونٹاریو‘‘ صوبے کے گرجا گھروں نے مسجد کے جل جانے کی وجہ سے متاثرہ مسلمانوں کے لئے اپنے دروازے کھول دیئے، تاکہ مسلمان وہاں اپنی نمازیں ادا کرسکیں۔ مزید برآں گرجا گھروں نے مسجد (جس کا اکثر حصہ جل چکا تھا) کی تعمیر نو کیلئے خود عطیات جمع کرنے کی مہم چلائی اور بہت کم وقت میں ایک لاکھ ڈالر جمع کرلیے، جو کہ ضرورت سے زا’د رقم تھی۔

TOPPOPULARRECENT