Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / کیوبا کیلئے 20 سالہ پرانی امیگریشن پالیسی کا خاتمہ

کیوبا کیلئے 20 سالہ پرانی امیگریشن پالیسی کا خاتمہ

:   اوباما کا وداعی تحفہ   :

غیرقانونی طور پر امریکہ آنے والے کیوبائی شہریوں کو قانونی موقف عطا کرنے فوری عمل آوری

واشنگٹن ۔ 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ بارک اوباما نے شاید اپنی سبکدوشی سے قبل مزید کچھ اصلاحات نافذ کرنے کا ذہن بنا لیا ہے کیونکہ انہوں نے کیوبا کے شہریوں کیلئے ’’ویٹ فٹ، ڈرائی فٹ‘‘ امیگریشن پالیسی جو تقریباً 20 سال پرانی ہے، کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے او ر اس طرح کیوبا کے ایسی شہری جو غیرقانونی طور پر امریکہ آتے ہیں، انہیں امریکہ میں توقف کرتے ہوئے اپنے قیام کو قانونی موقف دینے کی اجازت ہوگی۔ اس طرح اوباما نے اپنے سابق ’’سردجنگ دشمن‘‘ کیوبا کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنے کی جانب قدم بڑھا دیا ہے حالانکہ یہ ایسی اصلاحات ہیں جو اوباما کے اقتدار کے چند آخری دنوں میں نافذ کی جارہی ہیں جو فوری اثر کے ساتھ قابل اطلاق ہوگی۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہیکہ ایسا کرکے اوباما نے وداع ہوتے ہوئے ایک اچھی مثال قائم کی ہے جس کا عرصہ دراز سے انتظار کیا جارہا تھا۔ اگر اوباما 20 جنوری کے بعد صدر امریکہ نہیں رہیں گے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی اصلاحات بھی کالعدم قرار دی جائے گی۔ کل اوباما نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکوریٹی اب ’’ویٹ فٹ، ڈرائی فٹ‘‘ پالیسی کا بالکلیہ خاتمہ کررہی ہے جس پر 20 سال قبل عمل آوری کی گئی تھی جو اس وقت کے زمانے کی مطابقت سے وضع کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اب کمیونسٹ ممالک سے بھی اپنے تعلقات خوشگوار رکھنے کا خواہاں ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی امیگریشن پالیسی میں بھی لچک پیدا کرنا چاہتا ہے۔ بہرحال اس پالیسی کو ختم کرنے کیلئے کافی طویل غوروخوض کیا گیا تھا اور بالآخر کیوبا کو اس بات کیلئے راضی کرلیا گیا کہ وہ غیرقانونی طور پر امریکہ آئے ہوئے اپنے شہریوں کو واپس قبول کرلے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح ہم دیگر ممالک سے آئے ہوئے غیرقانونی تارکین وطن کی طرح کیوبا کے عوام سے بھی اپنا برتاؤ جاری رکھیں گے۔ سب سے اچھی بات یہ ہیکہ حکومت کیوبا بھی اس بات پر راضی ہوگئی ہیکہ کیوبا کے جن شہریوں کو غیرقانونی طور پر امریکہ آنے کی پاداش میں ملک بدر کردیا گیا ہے، کیوبا ان تمام شہریوں کو دوبارہ قبول کرلے گا جیسا کہ سمندر کے راستوں سے آنے والے تارکین وطن کو قبول کیا جارہا ہے۔ ’’ویٹ فٹ ڈرائی فٹ‘‘ پالیسی کے تحت امریکہ آنے والے کیوبائی شہریوں کو امریکہ میں قیام کی اجازت ہوتی ہے البتہ جنہیں سمندری راستوں کے درمیان گرفتار کیا جاتا ہے انہیں دوبارہ کیوبا بھیج دیا جاتا ہے۔ اس فیصلہ کا سب سے اچھا پہلو یہ ہیکہ حکومت کیوبا نے بھی ان اقدامات کی ستائش کی ہے۔ کیوبا کے سرکاری ٹیلیویژن پر کل پڑھے گئے ایک پیغام میں امریکہ اور کیوبا کے درمیان معاہدہ پر کئے گئے دستخط کو کیوبا اور امریکہ کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی جانب بہترین پیشرفت سے تعبیر کیا گیا۔ اس معاہدہ کے  بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات محفوظ تر اور معمول کے مطابق ہوجائیں گے۔ اوباما کے ذریعہ کئے گئے اس وداعی فیصلہ کو نئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکمت عملی بھی شاید تبدیل نہیں کر پائے گی جنہوں نے حال ہی میں کیوبا کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر دوبارہ بات چیت کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اسی دوران ہوم لینڈ سیکوریٹی کے سکریٹری جیب جانسن نے کہا کہ کیوبا کے شہریوں کیلئے ’’ویٹ فٹ، ڈرائی فٹ‘‘ پالیسی کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ امریکہ نے اسپیشل کیوبن میڈیکل پروفیشنل پیرول پروگرام کو بھی ختم کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعہ امریکہ اور کیوبا کے تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش ضرور کی گئی ہے جو یقینی طور پر کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ دونوں ممالک آئندہ بھی کیوبا کے شہریوں کی امریکہ میں غیرقانونی داخلے کی حوصلہ شکنی کرتے رہیںگے اور ایسی کوئی بھی کوشش کرنے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دی جائیں گی جو غیرقانونی ہجرت سے متعلق ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT