Thursday , July 27 2017
Home / Top Stories / کیوبا کے قائد انقلاب اور سابق صدر کاسترو کا انتقال

کیوبا کے قائد انقلاب اور سابق صدر کاسترو کا انتقال

طاقتور امریکہ کے خلاف 50 سال تک جرأتمندانہ مزاحمت ، 630 قاتلانہ حملوں میں بچنے کا تاریخی ریکارڈ

ہوانا ۔ /26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کیوبا میں سوویت طرز کمیونزم کے بانی سابق صدر فیڈل کاسترو کا بعمر 90 سال آج انتقال ہوگیا ۔ انہوں نے کیوبا کے صدر کی حیثیت سے نصف صدی تک حکمرانی کی اور اپنے دور اقتدار میں امریکہ کے 10 صدور کے اختیار و اقتدار کا پوری شدومد سے مقابلہ کیا ۔ فیڈل کے چھوٹے بھائی راؤل کاسترو نے سرکاری ٹیلی ویژن پر لڑکھڑاتی آواز میں اعلان کیا کہ برادر کلاں کا جمعہ کی شب 10:29 انتقال ہوگیا ۔ اس اطلاع کے ساتھ ہی کیوبا کے عوام میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ۔ امریکی ریاست فلوریڈا سے بمشکل 90 میل دور واقع جزیرہ نما ملک کیوبا پر 1961ء میں قبضہ کی کوشش کی گئی جس کو ’’بے آف پگس‘‘ انویژن بھی کہا جاتا ہے جس کے ایک سال بعد کیوبا کے میزائیل بحران نے ساری دنیا کو نیوکلیئر جنگ کے دہانے پر پہونچادیا تھا ۔

باریش انقلابی رہنما نے امریکہ کی سخت تجارتی پابندیوں کے باوجود اپنے ملک کی ترقی و خوشحالی کو کامیابی کے ساتھ یقینی بنایا تھا ۔ 50 سالہ دور اقتدار کے دوران کاسترو درجنوں بلکہ سینکڑوں قاتلانہ حملوں میں بچتے رہے ۔ آٹھ سال قبل سخت علالت نے انہیں اپنے چھوٹے بھائی راؤل کو اقتدار سونپنے پر مجبور کردیا تھا ۔ کاسترو نے اپنی جوانی بلکہ بچپن سے انقلابی تحریک سے وابستہ رہے ۔ سابق ڈکٹیٹر فلجنسیو باتیستا کے ہاتھوں وہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرچکے تھے ۔ نیز میکسیکو میں جلاوطنی کی زندگی بھی گزاری تھی ۔

جہاں سے انہوں نے ڈکٹیٹر شپ کے خلاف کامیاب جدوجہد کی اور بالآخر جنوری 1959 ء میں فاتح کی حیثیت سے اپنے وطن واپس ہوئے جس کے ساتھ ہی 32 سالہ کی عمر میں صدر بن گئے ۔ اس طرح لاطینی امریکہ کے کسی ملک کے سب سے کم عمر سربراہ بن گئے ۔ بعد ازاں انہیں لاطینی امریکہ سے افریقہ تک دنیا بھر کی انقلابی تحریکوں میں جذبہ کرنے والے سرچشمہ کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی ۔ فیڈل کاسترو نے دنیا بھر کی کئی انقلابی تحریکوں کی تائید کی تھی ۔ سوشلزم کے لئے ان کا عزم غیر متزلزل رہا ۔ لیکن 2006 ء کے وسط سے ان کی طاقت ماند پڑنے لگی ۔ جب وہ معدہ اور آنتوں کے عارضہ سے دوچار ہونے کے بعد اپنے ہی چھوٹے بھائی راؤل کو 2008 ء میں عنان اقتدار سونپنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔ راؤل ان کے بعد پہلے اور تاحال مستقل صدر ہیں ۔

فیڈل کاسترو سگار کے بہت شوقین تھے لیکن صحت کی وجوہات کی بناء پر کاسترو نے اپنا ٹریڈ مارک کوہیباسگار ترک کردیا تھا ۔ ایک ایسے وقت جب مغربی طرز کی جمہوریت ساری دنیا کو اپنی گرفت میں لے چکی تھی اور حتی کہ چین اور ویتنام جیسے کٹر کمیونسٹ ملکوں نے سرمایہ دارانہ اقتصادی نظام اپنالیا تھا ۔ کاسترو بدستور ’’سوشلزم یا موت ‘‘ کے نعرہ پر اٹل رہے جس سے ایک کروڑ 10 لاکھ آبادی والا یہ ملک مارکسی اقتصادی نظام سے معاشی طور پر متاثر بھی ہوا ۔ خرابی صحت پر اقتدار کی منتقلی کے باوجو وہ کئی برسوں تک زندہ رہے اور وہ دن بھر دیکھا جب /17 ڈسمبر 2014 ء کو ان کے چھوٹے بھائی راؤل کاسترو نے امریکہ کے صدر بارک اوباما سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر واشنگٹن اور ہوانا نے 1961 ء میں منقطع سفارتی تعلقات کو دوبارہ بحال کرنے کا پہلی مرتبہ اعلان کیا ۔ جس پر فیڈل کاسترو اگرچہ ایک ماہ تک خاموش رہے ۔لیکن بعد میں خاموشی توڑتے ہوئے اپنے بدترین دشمن (امریکہ) کے ساتھ تاریخی سمجھوتہ پرمحتاط انداز میں ستائش و خوشنودی کا اظہار کیا تھا ۔

 

کاسترو کے انتقال پر صدر پرنب مکرجی کا اظہار تعزیت
نئی دہلی ۔ /26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے کیوبا کے بزرگ قائد انقلاب فیڈل کاسترو کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔ صدر مکرجی نے ٹوئیٹر پر اپنے تعزیتی پیام میں کہا کہ ’’کیوبا کے انقلابی رہنما سابق صدر اور ہندوستان کے دوست فیڈل کاسترو کے انتقال پر ملال پر دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں ‘‘

کیوبا میں 9 روزہ سوگ ، /4 ڈسمبر کو آخری رسومات
ہوانا ۔ /26 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کیوبا نے اپنے انقلابی قائد فیڈل کاسترو کے انتقال پر 9 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کو سپرد خاک آتش کرنے کے بعد ان کے جسد خاکی کی راکھ /4 ڈسمبر کو ساننیا گوڈی کوبا میں دفن کی جائے گی ۔ اسٹیٹ ایگزیکٹیو کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ /26 نومبر تا /4 ڈسمبر تمام سرکاری مصروفیات اور شوز بند رہیں گے اور قومی پرچم نصف بلندی پر لہرایا جائے گا ۔ کاسترو کے جسد خاکی کو سپرد آتش کئے جانے کے بعد ان کی راکھ کا ملک بھر میں جلوس نکالا جائے گا اور /4 ڈسمبر کو راکھ کی تدفین عمل میں آئے گی ۔
صدر راؤل کاسترو نے قبل ازیں کہا تھا کہ ان کے برے بھائی کے جسد خاکی کو آج سپرد آتش کیا جائے گا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT