Tuesday , August 22 2017
Home / مضامین / کیوں وزیراعظم کے عہدہ کا وقار متاثر ہورہا ہے ؟

کیوں وزیراعظم کے عہدہ کا وقار متاثر ہورہا ہے ؟

غضنفر علی خان
ملک کی آزادی کے بعد کئی وزرائے اعظم کے عہدہ پر ہمارے قومی رہنما فائز رہے لیکن کسی وزیراعظم کے خلاف ایسی چئے میگوئیاں نہیں ہوئیں جتنی موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں ہورہی ہیں۔ وزیراعظم کا یہ منصب دستوری اور ہماری پارلیمانی جمہوریت میں انتہائی قابل احترام رہا ۔ وزیراعظم خواہ کوئی رہے ایسے سنگین الزامات ان پر عائد نہیں کئے گئے تھے جیسے کہ آج ہو رہے ہیں۔ کسی کے خلاف گرفتاری کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا جس طرح سے آج کیا جارہا ہے ۔ سابق میں کسی وزیراعظم نے ان پر عائد کئے گئے کسی بھی الزام کی تحقیقات کرانے سے گریز نہیں کیا تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو سے لیکر منموہن سنگھ تک یہی دیکھنے میں آیا کہ کسی بھی وز یراعظم نے ان پر عائد کردہ الزامات کی چھان بین سے اس طرح سے منہ نہیں موڑا تھا جیسا کہ آج ہورہا ہے ۔ کسی وزیراعظم نے کوئی دریغ نہیں کیا ، ان دنوں ہر دن وزیراعظم مودی کے خلاف کچھ نہ کچھ ، کوئی نہ کوئی کہتا ہے ۔ آل انڈیا کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے صاف طور پر الزام لگایا کہ ’’مودی نے شخصی کرپشن کیا ہے ۔ یہ بات نہ تو راہول گاندھی نے وضاحت کے ساتھ ثابت کی اور نہ برسر اقتدار پارٹی کی حکومت نے اس کی ثبوت کے ساتھ تردید کی ۔ بوفورس توپوں کے معاملہ میں اُسی بی جے پی نے آسمان سر پر اٹھالیا تھا اور آخرکار سابق وزیراعظم آنجہانی راجیو گاندھی کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا تھا ۔ اندرا جی کے دور میں بھی جو سابق وزیراعظم تھیس ایسی  باتیں ہو تی رہی۔ وزیراعظم مودی نے اپنے خلاف نہ تو الزام کی تردید کی اور نہ سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کروائیں ۔ اس کے قطع نظر مودی نے راہول گاندھی کی پبلک پلیٹ فارم پر نقل اتار کر ان کا مضحکہ اڑایا جو وزیراعظم کو زیب نہیں دیتا کیونکہ اس عہدہ پر متمکس کسی بھی شخص کو پوری سنجیدگی سے الزام کا جواب دینے کی ایک صحت مند روایت ہمارے سیاسی نظام میں رہی ہے ۔ ہنسی مذاق میں کسی الزام کو ٹالا نہیں جاتا۔ بی جے پی کے لیڈروں نے خاص طور پر پارٹی کے ترجمانوں نے بھی یہی کیا ۔ ان لوگوں نے بھی اطمینان بخش تردید نہیں کی ۔ الزام جوں کا توں برقرار رہے ۔ اپوزیشن نے پارلیمنٹ کا سرمائی سیشن چلنے نہ دیا ۔ وز یراعظم کی ایوان میں موجودگی کے باوجود ان کی خاموشی شکوک و شبہات کو تقویت دی ہے ۔ ان ساری باتوں سے سب سے زیادہ نقصان وزارت عظمی کے وقار کو ہوا ہے ۔ آج ہر ریالی میں ہر جلسہ عام میں مو دی کے خلاف تقریباً تمام اپوزیشن لیڈر اپنی تقریروں میں الزام دہرا رہے ہیں۔ ایک بات تو یہ ہے کہ وزیراعظم مودی میں وہ سنجیدگی وہ متانت نہیں دیکھی جارہی ہے جو وزیراعظم میں ہونی چاہئے ۔ ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ مودی کو ملک اور اس کے عوام سے زیادہ اپنی پارٹی کی حکومت عزیز ہے جس کا ثبوت نوٹ بندی کے 50 دن پورے ہونے کے بعد 31 ڈسمبر کو وزیراعظم کی بے موقع اور بے فیض تقریر سے ہوا۔ نوٹ بندی نے جو تباہی پیدا کی ہے اس سے ملک کے عوام عاجز آگئے ہیں، انہیں امید تھی کہ مودی 31 ڈسمبر کی تقریر میں نوٹ بندی کے اثرات ختم نہ سہی کم کرنے کے لئے کچھ اقدامات کا اعلان کریں گے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی یہ تقریر بجٹ کے موقع پر کی جانے والی تقریر کے مماثل تھی ۔ آج 50 دن مکمل ہوکر بھی ہفتہ ہوچکا ہے لیکن عوام کی تکالیف ان کے مصائب جیسے 8 نومبر 2016 ء کو تھے ،

 

آج بھی برقرار ہیں۔ نیا سال شروع ہوچکا ہے لیکن وزیراعظم نے اس نئے سال 2017 ء کے لئے عوام کو کوئی سہولت فراہم کرنے کا تذکرہ تک نہیں کیا ۔ اس کے بعد لکھنو میں جو اترپردیش کی راجدھانی ہے ، اپنی تقریر میں جو تبدیلی کیلئے پریورتن ریالی کے سلسلہ  میں وزیراعظم کی پہلی تقریر تھی انہوں نے صرف اپوزیشن جماعتوں کا مذاق اڑایا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وز  یراعظم بی جے پی کے علاوہ کسی بھی پارٹی کو ملک کیلئے مفید نہیں سمجھتے گویا ان کے خیال میں وہ خود کو ’’بری من الخطہ‘‘ پالیسی  کا مذہب کا تصور  جو خود عیسائی مذہب میں ازکار رفتہ ہوگیا ہے اور جس کو Papel infalibity کہا جاتا ہے کے مصداق سمجھتے ہیں ۔ آج  ملک میں کوئی پارٹی بشمول کانگریس پارٹی خود کو ملک کی ترقی کا ٹھیکیدار نہیں سمجھ سکتی۔ اب ٹھیکیداری کا دور ختم ہوچکا ہے ۔ خود کو ملک کا محافظ اور دوسروں کو ملک و قوم کیلئے نقصان دہ سمجھنے کا زمانہ بیت چکا ہے ۔ وزیراعظم کا اپوزیشن جماعتوں کو لوٹ مار اور کالے دھن رکھنے والوں کا حمایتی قرار دینا اور اس بات کا ذکر لکھنو کی ریالی میں بے حد حقارت آمیز انداز میں کرنا بھی وزیراعظم کے شایان شان نہیں ہے ۔ یہاں بھی انہوں نے وزارت عظمی کیلئے درکار متانت کا لحاظ نہیں رکھا، سوائے  بی جے پی کسی دوسری پارٹی کو لوٹ مار کرنے والی پا رٹی یا لوٹ کھسوٹ کرنے والوں کی تائید کرنے والوں پر ایسے الزامات لگاکر مودی کیسے یہ سمجھتے ہیں کہ دیگر پارٹیاں ان پر شکنجہ نہیں کسیں گی ۔ اپنے بیانات اور ان میں استعمال کئے جانے والے تلخ لب و لہجہ کے بعد وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ اپوزیشن ان پر پھول نچھاور کرے گی تو یہ ان کی غلط فہمی ہے ۔ بڑی تیزی سے بی جے پی کی حکو مت وزیراعظم مودی کی قیادت میں جمہوری اصولوں کا خاتمہ کر رہی ہے ۔ اس کی کوئی اور مثال ماضی میں نہیں ملتی ۔ بی جے پی حکومت کے اس لہجے اور اندازنے ہی اپوزیشن کو اتنا سخت گیر موقف اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔ بی جے پی حکومت کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ ’’جو کچھ بویا جاتا ہے وہی فصل اگتی ہے‘‘ جوار بوکر گندم کی فصل کی امید کرنا ایسے ہی جیسے کوئی ناخن سے کنواں کھودنے کی کوشش کر رہا ہے اور پھر یہ امید کر رہا ہے کہ اس میں سے پانی نکلے۔ تاہم کھدوائی میں کنواں برآمد نہیں ہوتا ، بعض وقت چٹان بھی برآمد ہوتی ہے ۔ اپوزیشن کا کام ہی مخالفت کرنا ہے ۔ اگر آج اپوزیشن اتنی کم تعداد کے باوجود اتنی متحد اور منظم نہ ہوتی تو خدا جانے ملک کا کیا حشر ہوتا ۔ ہر اقدام سے جو حکومت کر رہی ہے اور اپنی ہر عوامی تقریر  میں جو مودی جی کررہے ہیں، اپوزیشن کے خلاف سخت کلامی ہورہی ہے ۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اپوزیشن اپنے ہر اقدام میں صد فیصد صحیح ہے لیکن اس سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی جو حکومت تیار کر رہی ہے اس سے ایک طرف حکومت کا امیج بگڑ رہا ہے تو دوسری طرف وزیراعظم کا وقار متاثر ہورہا ہے ۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے مودی حکومت آمرانہ انداز اختیار کر رہی ہے ۔ خود وزیراعظم اس ضمن میں تنقیدوں کا نشانہ ہورہے ہیں اور یہ تنقیدیں حق بجانب ثابت ہوتی جارہی ہیں۔ اس ہفتہ کولکتہ میں مغربی  بنگال کی برسر اقتدار ترنمول کانگریس کے پارلیمانی لیڈر سریپ بندو پادھیائے کو گرفتار کیا گیا اور اس سے قبل ترنمول کانگریس کے ایک اور با اثر لیڈر کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ، اس سے ایک اور غلطی کا ثبوت ملتا ہے کہ مرکزی حکومت انتقامی سیاست کر رہی ہے ۔ ترنمول کانگریس کے لیڈر سندیپ بندو پادھیائے مبینہ طور پر روز ویلی چٹ فنڈ میں ملوث بتائے جاتے ہیں ۔ اس گرفتاری پر جس انداز میں چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے ردعمل کا اظہار کیا وہ بھی قابل غور ہے ۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ وزیراعظم مجھے گرفتار کر کے دکھائیں ، میں ان کا حوصلہ دیکھنا چاہتی ہوں۔ مودی دوسروں کو خاموش کرسکتے ہیں مجھے نہیں۔ یہ بھی تاثر دیتا ہے کہ وزیراعظم کا احترام کتنا کیا جاتا ہے اور کیسے ریاستی لیڈر یا وزیر اعلیٰ وزیراعظم کو چیلنج کر رہی ہیں کہ مجھے گرفتار کر کے دکھائیں۔ میں ان کا حوصلہ دیکھنا چاہتی ہوں ۔ کیا یہ بات وزیراعظم کے وقار کو چیلنج نہیں ہے اور کیا یہ سب کچھ وزیراعظم کے فیصلہ کا نتیجہ نہیں ہے ؟ کیا اس سے وزیراعظم کا وق

TOPPOPULARRECENT