Wednesday , September 20 2017
Home / مضامین / کیوں کشمیر ہنوز جل رہا ہے؟

کیوں کشمیر ہنوز جل رہا ہے؟

سرور کاشانی
وادیٔ کشمیر میں حالیہ عام بے چینی کا آغاز ہوئے تقریباً ایک ماہ کا عرصہ گذر چکا ہے۔ ریاست میں برسوں سے استحکام دنیا میں طویل ترین مسلح تنازعہ کے سبب پاش پاش ہوچکا ہے۔ جب 8 جولائی کو سکیورٹی فورسیس نے باغی کمانڈر برہان وانی کو ایک متنازعہ انکاؤنٹر میں گولی مار دی۔ کسی نے اس بات کا قیاس نہیں کیا تھا کہ برہان وانی کی ہلاکت سے اُٹھنے والا یہ ہنگامہ اس قدر پھیل جائے گا اور طول پکڑے گا۔ ایک ماہ مکمل ہوجانے کے بعد بھی وادی آج افراتفری ہنگاموں کی دھار پر کھڑی ہے۔ موافق آزادی احتجاج اور احتجاجیوں اور سکیورٹی فورسیس کے درمیان جھڑپیں اب روز کا معمول بن چکی ہیں۔ زائداز 56 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور زائداز پانچ ہزار افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ جبکہ کئی دواخانوں میں شریک ہیں۔
وادی اس وقت غم و غصہ کی لہر سے کھول رہی ہے جبکہ کئی کا خیال ہے کہ تحریک آزادی کا ایک نیا مرحلہ ہے۔ وادی کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا کبھی نہیں تھا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے لاگو کیا جانے والا مسلسل کرفیو اور علیحدگی پسندوں کے بندسے وادی میں تجارت کو بھاری نقصان پہنچا ہے جبکہ اسکولس اور دفاتر کرفیو کے درمیان بند ہیں۔ ہندوستان نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ (پاکستان) وادی میں اس بے چینی افراتفری کا ذمہ دار ہے۔
حزب المجاہدین کمانڈر 22 سالہ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں خود بخود زبردست احتجاج پھوٹ پڑا۔ برہان وانی نوجوان کشمیریوں کے درمیان زبردست اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ برہان کی موت کے بعد غمزدہ سینکڑوں نوجوان تشدد پر اُتر آئے۔ ساری وادی میں پتھراؤ، احتجاجی ریالیوں کا آغاز ہوگیا۔ جواب میں سکیورٹی فورسیس نے مظاہرین کو گولیوں اور پلیٹس کا نشانہ بنایا۔ وادی کشمیر میں برہان وانی ایسے پہلے کمانڈر نہیں ہیں جن کو سکیورٹی فورس نے نشانہ بنایا اور ہلاک کیا ہے۔ 1980 ء کے دہے کے آخر میں وادی میں شروع ہونے والی عسکریت پسندی کے دوران بانی جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ اشفاق ماجد اور دیگر عسکریت پسندوں کی ہلاکت واقع ہوئی ہے۔ برہان وانی یقینی طور پر 2001 ء میں پارلیمنٹ پر حملہ کے مجرم افضل گرو کی طرح ایک مقبول لیڈر نہیں تھے۔ افضل گرو کو تہاڑ جیل دہلی میں 9 فروری 2013 ء کو پھانسی پر لٹکادیا گیا تھا۔ ان عسکریت پسند قائدین کی ہلاکت پر وادی میں تشدد کے واقعات کچھ حد تک پیش آئے تھے۔ عام طور پر وادی میں جو اضطراب بے چینی، غم و غصہ کی کیفیت ہے وہ شاید اس سے قبل دیکھنے کو نہیں ملی۔ نوجوان حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں 31 دن گزر جانے کے بعد بھی یہاں پھوٹ پڑا تشدد اضطراب، بے چینی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ سیاسی قائدین کا خیال ہے کہ برہان وانی کی ہلاکت صرف بندوق کی لبلبی دبانا جیسا تھا جبکہ کشمیری عوام کے درمیان کئی موضوعات خاص کر بی جے پی، پی ڈی پی کے درمیان اقتدار اور سیاسی صف بندی کو لے کر غم و غصہ کے شدید جذبات جان گزیں ہوچکے ہیں۔ ایک موافق ہندوستان سیاست داں کی نظر میں بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان ریاست میں مخلوط حکومت کی بنیاد ایک غیر واجبی سیاسی اتحاد پر کھڑی ہے۔ دونوں جماعتوں نے سال 2014 ء اسمبلی انتخابات ریاست میں ایک دوسرے کے خلاف لڑا تھا۔ ان دونوں نے عوام سے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک دوسرے سے فاصلہ بنائے رکھیں گے اور ملک کی واحد اقلیتی ریاست وادی کشمیر میں اقتدار کی حصہ داری سے خود کو دور رکھیں گے۔ اسمبلی انتخابات کے دوران پی ڈی پی نے ووٹرس کو اپنی جانب راغب کرنے کہا تھا کہ ریاست میں خود اختیاری کے لئے لڑائی جاری رکھی جائے گی۔ دوسری جانب بی جے پی نے ووٹرس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ (بی جے پی) ریاست کشمیر کو خصوصی موقف عطا کرنے والا دستوری جواز آرٹیکل 370 کی منسوخی کے لئے جدوجہد کرے گی۔

انتخابات کے نتائج کے بعد تاہم دیکھا جاتا ہے ایک دوسرے کے خلاف شدید نظریاتی اختلافات رکھنے والی جماعتوں بی جے پی اور پی ڈی پی اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے محض اقتدار کی کرسی کے لئے ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ تاہم جموں و کشمیر کے عوام نے پی ڈی پی کے انتخابی پروگرام اس کے وعدوں کو فراموش نہیں کیا ہے۔ کشمیر یونیورسٹی اسکالر راشد احمد میر کا کہنا ہے ’’پی ڈی پی نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو وادی میں اقتدار کے لئے خوش آمدید کہا ہے جبکہ یہ جماعتیں یہاں قدم جمانے کا صرف ایک خواب دیکھ سکتی تھیں اور اب یہ دونوں جماعتیں حکمرانی کررہی ہیں۔ کشمیری عوام کے دلوں میں اس طرح کا لاوا پک رہا ہے جو پھوٹ پڑنے کے انتظار میں ہے۔ راشد احمد میر نے میڈیا کو بتایا کہ افضل گرو کو پھانسی کے بعد سے ہی کشمیریوں کے دلوں میں اس طرح کے خیالات جاں گزیں ہوچکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک عام کشمیری ہنوز اس طرح کا احساس ہے کہ جیش محمد کارکن کو 13 ڈسمبر 2001 ء ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملہ مقدمہ میں غیر جانبدارانہ سماعت کا سامنا نہیں رہا۔ سابق علیحدگی پسند قائد مشتاق احمد ملک کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے وادی کشمیر میں وظیفہ یاب فوجیوں اور ہندوؤں کے لئے امکنہ جات کی تعمیر کی تجویز کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جبکہ کئی ہندوؤں نے وادی میں مسلح بغاوت کے بعد یہاں سے ترک وطن کردیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تمام تجاویز کشمیری عوام کے درمیان ناپسندیدہ ہیں اور پھر کشمیر میں گائے کے گوشت کی فروخت پر پابندی لگائی گئی۔ اس پر کشمیریوں کے حقوق ایک ایک کرکے انہیں پس پشت ڈھکیلا جارہا ہے۔

چیف منسٹر محبوبہ مفتی کی جماعت پی ڈی پی نے اس بات کا بھی وعدہ کیا تھا کہ سال 1947 ء میں ہند ۔ پاک کی تقسیم کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کھڑے 70 سالہ سرحدی تنازعہ کے حل کے لئے ہندوستان، پاکستان اور کشمیر کے درمیان مذاکرات کی کوششوں کا آغاز کریں گی تاہم بی جے پی اس سلسلہ میں کشمیری علیحدگی پسند قائدین یا پاکستان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتی آرہی ہے۔ ان حالات میں یہی تاثر ہوگا کہ آخر وادی ہنوز کیوں جل رہا ہے؟

TOPPOPULARRECENT