Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / کی کامیاب آزمائشV ہندوستان کے مہلک ترین میزائل اگنی۔

کی کامیاب آزمائشV ہندوستان کے مہلک ترین میزائل اگنی۔

ہندستان کی فوجی طاقت میں اضافہ کا امکان، صدر جمہوریہ ، وزیراعظم اور وزیر دفاع کی سائنسدانوں کو مبارکبادیں
بلسور(اڈیشہ)۔ 26 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے آج کامیابی کے ساتھ اگنی ۔V کی آزمائشی پرواز کی۔ یہ انتہائی مہلک نیوکلیئر صلاحیت کا حامل بین البراعظمی بالسٹک میزائل ہے جس کا دائرہ کار 5ہزار کیلومیٹر سے زیادہ ہے۔ یہ پورے چین کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ آزمائش اڈیشہ کے ساحل کے قریب عبدالکلام جزیرے سے کی گئی۔ محکمہ دفاع کے ذرائع کے بموجب کامیاب آزمائشی پرواز سے صارف کی جانب سے میزائل کی آزمائش کی راہ ہموار ہوگی اور آخر کار اسے دفاعی افواج کی کمان میں تعینات کردیا جائے گا۔ تین مرحلوں پر مشتمل ٹھوس ایندھن کے ذریعہ سطح سے سطح پر وار کرنے والا میزائل آج موبائیل لانچر سے پرواز پر روانہ کیا گیا۔ یہ پرواز انٹیگریٹڈ ٹسٹ رینج کی عمارت نمبر 4 سے 11:05 بجے دن ہوئی۔ 17 میٹر طویل اور 50 ٹن وزنی میزائل شاہانہ انداز میں سطح زمین سے اوپر اٹھا اور اس نے بے عیب پرواز کرتے ہوئے تمام نشانے حاصل کرلئے۔ ڈی آر ڈی او کے ذرائع نے کہا کہ فی الحال ہندوستان کے پاس 700 کیلومیٹر دائرہ کار کا اگنی ۔I ، 2ہزار کیلو میٹر کا اگنی ۔II اور ڈھائی ہزار کیلومیٹر سے ساڑے تین ہزار کیلومیٹر کے دائرہ کار کے اگنی۔III اور اگنی۔IV میزائل موجود ہیں۔ یہ چوتھی تیاری ہے اور دوسری آزمائش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نفیس موبائل لانچر استعمال کیا گیا ہے جس میں میزائل لانچ کرنے کی مختصر تیاری کے وقت میں صلاحیت ہے۔ قبل ازیں اوپن لانچ کے لئے نسبتاً طویل مدتی تیاری کی ضرورت ہوتی تھی۔ یہ میزائل اعلی تر انحصار کے قابل ہے۔ اسے زیادہ طویل مدت تک محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔ اس کی دیکھ بھال اور نقل و حرکت میں اضافے کے لئے کم خرچ ہوتا ہے۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی، وزیراعظم نریندر مودی، وزیر دفاع منوہر پاریکر نے ڈی آر ڈی او اور وزیر دفاع منوہر پاریکر کو مبارکباد پیش کی ہے۔ وزیر دفاع نے ڈی آر ڈی او کے سائنسدانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کی دفاعی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگنی۔V کی پہلی آزمائش 19 اپریل 2012ء کو کی گئی تھی۔ دوسری 15 ستمبر 2013 اور تیسری 31 جنوری 2015 ء کو کی گئی۔ اگنی سیریز کے میزائل کا تازہ ترین میزائل اگنی۔V انتہائی ترقیافتہ ٹیکنالوجیوں کے ساتھ تیار کیا گیا ہے جو اس کی پرواز میں وارہیڈ اور انجن کی رہنمائی کرسکتی ہیں۔ کئی نئی ٹکنالوجیاں ہندوستان میں تیار کی گئی ہیں جن کے ذریعہ تازہ ترین کامیاب آزمائش ممکن ہوسکی ہے۔ یہ بالکل درست نشانہ پر وار کرسکتا ہے اور لیزر گائیروپر منحصر داخلی ہوابازی نظام اس میں موجود ہے۔ علاوہ ازیں جدید اور بالکل درست مائیکرو ناویگیشن سسٹم بھی اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ میزائل اپنے ہدف تک چند میٹر کے فرق سے وار کرسکے۔ اس کی تیزرفتار اس پر نصب کمپیوٹر اور فوجی سافٹ ویر کی وجہ سے مستحکم اور قابل انحصار ہے لیکن اس کی رہنمائی میزائل کی جانب سے بے عیب طریقہ سے ممکن ہے۔ میزائل کا پروگرام اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے راستے کے عروج پر پہنچ سکتا ہے۔ کرۂ ارض کی سمت مڑ سکتا ہے اور اپنا سفر مقررہ نشانہ کی سمت اضافہ رفتار کے ساتھ جاری رکھ سکتا ہے۔ کرہ ارض کی قوت جاذبہ اور اس پر نصب عصری کمپیوٹر اس کی نشانہ کی سمت رہنمائی کرتا ہے۔ اس میں اپنے پیلوٹ کے تحفظ کی صلاحیت موجود ہے۔ 50 درجہ سلسیس تک اس کے پیلوٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچات۔ بحری جہاز اس کے دائرہ کار کے درمیان آتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT