Thursday , October 19 2017
Home / مضامین / کے این واصف مملکت سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پچھلے اتوار کو اپنے اقتدار کے دو سال مکمل کئے ۔ سعودی عرب کے قائدین اور عوام نے 3 ربیع الثانی 1438 ھ کو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے برسر اقتدار آنے کی دوسری سالگرہ روایتی جوش و خروش کے ساتھ منائی ۔ سعودی عرب گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی سطح پر نمایاں ترین مقام بنانے میں کامیاب رہا ۔ مملکت نے شاہ سلمان کی قیادت میں عرب اتحاد قائم کیا ۔ یہ اتحاد یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کیلئے تشکیل دیا گیا ۔ سعودی عرب نے 41 ممالک پر مشتمل فوجی اسلامی اتحاد بنایا ۔ مملکت نے تیل نرخوں میں کمی کے بعد اندرون ملک اقتصادی امور کامیابی سے حل کئے ۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران 119 رہنماؤں ، سربراہوں ، وزرائے اعظم بشمول وزیراعظم ہند نریندر مودی نے ریاض کے دورے کئے ۔ شاہ سلمان نے نریندر مودی کو مملکت کے اعلیٰ ترین سیول اعزاز سے بھی نوازا جو ہندوستان اور ہندوستانیوں کیلئے اور یہاں برسرکار این آر آئیز کیلئے اعزاز کی بات ہے۔ مملکت سعودی عرب کے دورے پر آئے تمام عالمی قائدین نے خادم حرمین شریفین سے ملاقات کر کے خطے کے حالات پر تبادلہ خیال کیا ۔ شاہ سلمان نے امریکہ ، مصر ، ترکی سمیت 19 ممالک کے دورے کئے ۔ دریں اثناء ولیعہد نائب وزیر اعظم و وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نایف نے بیان جاری کر کے واضح کیا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے عرب اتحاد اور اسلامی باہمی تعاون کے رشتے مضبوط بنانے کیلئے جان توڑ کوشش کی ۔ عربوں اور مسلمانوں کو درپیش خطرات اور چیلنجوں سے نکالنے کیلئے قائدانہ کردار ادا کیا ۔ شاہ سلمان کی مخلصانہ مساعی کی بدولت GCC ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون اور اخوت کے رشتے مضبوط ہوئے ۔ ولیعہد نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کے باشندے خادم حرمین شریفین سے اطاعت اور تابعداری کی بیعت کے دو سال پورا ہونے کا جشن منارہے ہیں۔ یہ فرزندان وطن کیلئے انمول موقع ہے ۔ یہ عظیم قائد سے سچی وابستگی اور وفاداری کو عملی جامعہ پہنانے کا دن ہے ۔ شاہ سلمان نے پرعزم اور فیصلہ کن اقدامات کر کے مملکت کو ترقی ، خوشحالی، امن و امان ، سکون و استحکام کی نئی منزلوں سے آشنا کیا ۔ نائب ولیعہد و وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی فورم اور بین الاقوامی برادری کی توجہات کا مرکز بن گیا۔ دنیا بھر کے قائدین اور سربراہوں نے مشترکہ تعلقات کی تقویت ، باہمی مفادات کے فروغ اور علاقائی و عالمی مسائل پر مشاورت اور تبادلہ خیال کیلئے مملکت کے دورے کئے ۔ گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ خالد الفیصل نے کہا کہ شاہ سلمان نے عربوں کو ان کا مقام اور سعودیوں کو عزت و وقار دلایا ۔ دو برس کے دوران سعودی عرب سربلندی اور وقار کا نشان بنارہا۔ کسی بھی مملکت میں شاہی فرامین اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ فرامین ملک کے امن و امان ، اقتصادی معاملات نظم و نسق وغیرہ وغیرہ کو کنٹرول کرنے میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 3 ربیع الثانی 1436 ھ کو سعودی عرب میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے سے لیکر آج تک 212 شاہی فرامین جاری کر کے مملکت کی شکل تبدیل کردی ۔ ان شاہی فرامین کا تعلق ملک کی تعمیر و ترقی ، قیدیوں کی معافی اور عوام کی خوشحالی سے متعلق تھا ۔ جنہوں نے سعودی وژن 2030 ء کے تقاضے بھی پورے کئے ۔ مجلس شوریٰ کے نئے ارکان کی تقرریاں کیں۔ شاہ سلمان نے پہلا تاریخی فیصلہ ولیعہد اور نائب ولیعہد کے عہدوں کیلئے بانی مملکت کے پوتوں کا انتخاب کر کے کیا ۔ یہ نہ صرف ایک تاریخی فیصلہ تھا بلکہ نئی نسل کو اقتدار میں حصہ دینے اور ان کے کاندھوں پر ذمہ داری رکھ کر اپنی نگرانی میں انہیں تجربہ سے نوازنا بھی تھا۔ انہوں نے 12 کونسلیں ، ادارے اور اعلیٰ کمیٹیاں ختم کیں۔ سیاسی و سلامتی امور کی کونسل اور اقتصادی و ترقیاتی امور کی کونسل کی شکل میں 2 مئی کو کونسلین قائم کیں۔ یہ دونوں مجلس الوزراء کے ماتحت ہیں۔ عوامی خوشحالی کے تحت پہلا فیصلہ شہری و عسکری ملازمین کیلئے دو تنخواہوں نیز مملکت کے اندر اور باہر سرکار اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز کے تمام طلباء وطالبات کیلئے دو ماہ کی اسکالرشپ اور ریٹائرڈ شہریوں کیلئے دو ماہ کی پنشن تقسیم کرنا تھا۔ شاہ سلمان نے ماہانہ سماجی کفالت کے ڈھانچے کو تبدیل کیا ، ان کیلئے دوماہ کی تنخواہ کا فرمان جاری کیا۔ معذورین کیلئے دو ماہ کا زر اعانت مخصوص کیا ۔ وزارت سماجی امور کے یہاں اجازت یافتہ رجسٹرڈ انجمنوں کیلئے دو ارب ریال اضافی جاری کئے ۔ برسر جنگ فوجیوں کو ایک ماہ کی تنخواہ کا اعزازیہ دیا گیا ۔ کوآپریٹیو سوسائٹی کونسل کو 200 ملین ریال کی اعانت پیش کی ۔ ہر ثقافتی تنظیم اور نوجوانوں کے ادارے کو ایک کروڑ ریال تقسیم کئے گئے ۔ اسپورٹس کلب کو فی کس 10 ملین ریال اور اول درجے کے کلب کو 5 ملین ریال اور دیگر رجسٹرڈ اسپورٹس کلب کو 20 لاکھ ریال تقسیم کئے گئے ۔ شاہ سلمان نے وژن 2030 ء پر عملدرآمد کیلئے شاہی فرامین بھی جاری کئے ۔ ’’الحیاۃ‘‘ اخبار کے مطابق شاہ سلمان نے 3 ربیع الثانی 1438 ھ سے چار برس کیلئے مجلس شوریٰ کی تشکیل نو کی اس کے سربراہ عبداللہ آل الشیخ کو بنایا اور اسکالر و دانشور 150 افراد کو اس کارکن بنایا ۔ شاہ سلمان کے اہم فیصلوں اور کار خیر کی اور بھی تفصیل ہے جس کا ذ کر اس محدود کالم میں ممکن نہیں۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز 31 ڈسمبر 1935 ء کو ریاض میں پیدا ہوئے۔ بتایا گیا کہ وہ ملک عبدالعزیز کے 25 ویں اولاد ہیں۔ انہوں نے ریاض میں ایک شاہی اسکول میں تعلیم حاصل کی ۔ انہیں 19 سال کی عمر (1954) میںریاض کا ڈپٹی گورنر بنایا گیا تھا ۔1963 ء میں شاہ سلمان منطقہ ریاض کے گورنر مقرر کئے گئے ۔ یہ ایک تاریخ ساز ریکارڈ ہے کہ انہوں نے گورنر ریاض کے اہم ترین عہدے کی ذمہ داری 48 سال تک بحسن خوبی نبھائی ۔ وہ بیک وقت سربراہ ریاض ڈیولپمنٹ اتھاریٹی بھی رہے اور انہوں نے اپنے دور میں ایک چھوٹے شہر ریاض کو ترقی دیکر ایک بین الاقوامی سطح کا ترقی یافتہ شہر بنادیا ۔ اس کے علاوہ شاہ سلمان اپنے عہدہ گورنری کے ساتھ دیگر کئی فلاحی اداروں کے سربراہ بھی رہے ۔ پرنس سلطان بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد نومبر 2011 ء کو شاہ سلمان نائب وزیراعظم و وزیر دفاع مملکت سعودی عرب مقرر کئے گئے ۔ وہ شاہی فیملی کونسل کے بھی سربراہ رہے ۔ یہ کونسل شاہ فہد بن عبدالعزیز نے سن2000 ء میں شاہی خاندانی معاملات کی یکسوئی کیلئے قائم کی تھی ۔ پرنس نایف بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد سلمان بن عبدالعزیز جون 2012 ء کو مملکت کے کراؤن پرنس مقرر کئے گئے ۔ شاہ سلمان مملکت کے اقتصادی استحکام پر زیادہ زور دیتے ہیں اور کار خیر اور غریب اور ضرورت مند ممالک کی امداد میں بہت فراخدل مانے جاتے ہیں۔ سعودی عرب کا سب سے بڑا مثبت پہلو مملکت کا امن و امان ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ مسلم ممالک اور خصوصاً عرب دنیا میں اتھل پتھل اور جنگ وجدل کا ماحول ہے ملکی امن و امان پر مملکت کی گرفت پوری طرح مضبوط ہے۔اس سلسلہ کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جہاں مقامی باشندوں کی آبادی کے تقریباً برابر خارجی باشندوں کی تعداد ہے اور یہ خارجی باشندوں کا تعلق دنیا کے کئی ممالک سے ہے، جہاں کی طرز حکومتیں یہاں سے مختلف ہے لیکن پچھلے چار دہائیوں سے زائد عرصہ سے یہ خارجی باشندے یہاں بسے ہوئے ہیں۔ نہ انہیں مقامی حکومت سے کوئی شکایت ہے نہ حکومت ہی کو ان سے کوئی مشکل کا سامنا ہے ۔ دوسرے یہ کہ دنیا کے ہر ملک میں تجارت یا دیگر مقاصد کیلئے عارضی ویزوں پر لوگ آتے جاتے ہیں لیکن جتنی تعداد میں لوگ حج ، عمرہ ، زیارت، تجارت وغیرہ وغیرہ کیلئے عارضی یا ویزٹ ویزوں پر لوگ سعودی عرب آتے ہیں ، اتنی تعداد میں دنیا کے کسی ملک میں سیاح نہیں آتے ہیں ۔ دیگر مقاصد سے ہٹ کر کوئی ایک کروڑ سے زائد افراد صرف حج ، عمرہ اور زیارہ پر آتے ہیں۔ مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہر سال اتنی بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں ۔ مناسک کی ادائیگی سے فارغ ہوکر بصد اطمینان وسکون اپنے وطن لوٹتے ہیں اور یہ سب کچھ مملکت کے بہترین نظم و نسق کا نتیجہ ہے ۔ اس کے باوجود بھی کچھ لوگ اعتراض برائے اعتراض کیلئے عمرہ اور حج انتظامات پر انگلیاں اٹھاتے ہیں اور اپنی بے تکی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ گو کہ شاہ سلمان نے شاہی محل میں آنکھ کھولی اور محلوں میں پرورش پائی مگر پھر بھی انہوں نے ہمیشہ عوامی مسائل سے اپنے آپ کو آگاہ رکھا۔ اپنے طویل دور گورنری میں وہ ہر روز صبح آٹھ بجے اپنے آفس میں موجود رہتے تھے جہاں مقامی سے زیادہ خارجی باشندے اپنے مسائل کے حل کیلئے درخواستیں لئے لائین میںکھڑے ہوتے تھے اور وہ ا پنے آفس پر آئے ہر شخص سے اس کی درخواست وصول کرتے اور یہ درخواستیں محض فائل نہیں کردی جاتیں تھیں بلکہ یہ متعلقہ محکمہ اور اداروں کو بھیجی جاتیں اور ان سے جواب طلب کیا جاتا ۔ شاہ سلمان ایک بہت ہی منظم شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ وقت کی پابندی کیلئے معروف ہیں۔ پچھلی ربع صدی میں ہم نے بحیثیت صحافی سینکڑوں ایسی تقاریب میں شرکت کی جس میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز بحیثیت مہمان خصوصی رہے ۔ ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ وہ کبھی کسی تقریب میں ایک منٹ بھی تاخیر سے پہنچے ہوں۔ یہ ان کی شخصیت کا اہم اور قابل ستائش پہلو ہے۔ پچھلے ہفتہ اعلان کردہ سعودی بجٹ 2017 ء کے بعد مملکت میں برسرکار لاکھوں خارجی باشندوں پر کچھ مالی بوجھ بڑھا جو ان خارجی باشندوں کی اکثریت کیلئے ناقابل برداشت ہے ۔ برسہا برس سے مملکت میں خدمات انجام دیتے رہے ، یہ خارجی باشندے ، عوامی مسائل سے ہمیشہ وقفیت رکھنے والے ، صاحب خیر اور فراخدل شاہ سلمان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ان خارجی باشندوں پر پڑے مالی بوجھ میں کمی کی کچھ تدبیر کریںگے اور انہیں راحت عطا کریں۔ [email protected]

کے این واصف مملکت سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پچھلے اتوار کو اپنے اقتدار کے دو سال مکمل کئے ۔ سعودی عرب کے قائدین اور عوام نے 3 ربیع الثانی 1438 ھ کو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے برسر اقتدار آنے کی دوسری سالگرہ روایتی جوش و خروش کے ساتھ منائی ۔ سعودی عرب گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی سطح پر نمایاں ترین مقام بنانے میں کامیاب رہا ۔ مملکت نے شاہ سلمان کی قیادت میں عرب اتحاد قائم کیا ۔ یہ اتحاد یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کیلئے تشکیل دیا گیا ۔ سعودی عرب نے 41 ممالک پر مشتمل فوجی اسلامی اتحاد بنایا ۔ مملکت نے تیل نرخوں میں کمی کے بعد اندرون ملک اقتصادی امور کامیابی سے حل کئے ۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران 119 رہنماؤں ، سربراہوں ، وزرائے اعظم بشمول وزیراعظم ہند نریندر مودی نے ریاض کے دورے کئے ۔ شاہ سلمان نے نریندر مودی کو مملکت کے اعلیٰ ترین سیول اعزاز سے بھی نوازا جو ہندوستان اور ہندوستانیوں کیلئے اور یہاں برسرکار این آر آئیز کیلئے اعزاز کی بات ہے۔ مملکت سعودی عرب کے دورے پر آئے تمام عالمی قائدین نے خادم حرمین شریفین سے ملاقات کر کے خطے کے حالات پر تبادلہ خیال کیا ۔ شاہ سلمان نے امریکہ ، مصر ، ترکی سمیت 19 ممالک کے دورے کئے ۔ دریں اثناء ولیعہد نائب وزیر اعظم و وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نایف نے بیان جاری کر کے واضح کیا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے عرب اتحاد اور اسلامی باہمی تعاون کے رشتے مضبوط بنانے کیلئے جان توڑ کوشش کی ۔ عربوں اور مسلمانوں کو درپیش خطرات اور چیلنجوں سے نکالنے کیلئے قائدانہ کردار ادا کیا ۔ شاہ سلمان کی مخلصانہ مساعی کی بدولت GCC ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون اور اخوت کے رشتے مضبوط ہوئے ۔ ولیعہد نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کے باشندے خادم حرمین شریفین سے اطاعت اور تابعداری کی بیعت کے دو سال پورا ہونے کا جشن منارہے ہیں۔ یہ فرزندان وطن کیلئے انمول موقع ہے ۔ یہ عظیم قائد سے سچی وابستگی اور وفاداری کو عملی جامعہ پہنانے کا دن ہے ۔ شاہ سلمان نے پرعزم اور فیصلہ کن اقدامات کر کے مملکت کو ترقی ، خوشحالی، امن و امان ، سکون و استحکام کی نئی منزلوں سے آشنا کیا ۔ نائب ولیعہد و وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی فورم اور بین الاقوامی برادری کی توجہات کا مرکز بن گیا۔ دنیا بھر کے قائدین اور سربراہوں نے مشترکہ تعلقات کی تقویت ، باہمی مفادات کے فروغ اور علاقائی و عالمی مسائل پر مشاورت اور تبادلہ خیال کیلئے مملکت کے دورے کئے ۔ گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ خالد الفیصل نے کہا کہ شاہ سلمان نے عربوں کو ان کا مقام اور سعودیوں کو عزت و وقار دلایا ۔ دو برس کے دوران سعودی عرب سربلندی اور وقار کا نشان بنارہا۔ کسی بھی مملکت میں شاہی فرامین اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ فرامین ملک کے امن و امان ، اقتصادی معاملات نظم و نسق وغیرہ وغیرہ کو کنٹرول کرنے میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 3 ربیع الثانی 1436 ھ کو سعودی عرب میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے سے لیکر آج تک 212 شاہی فرامین جاری کر کے مملکت کی شکل تبدیل کردی ۔ ان شاہی فرامین کا تعلق ملک کی تعمیر و ترقی ، قیدیوں کی معافی اور عوام کی خوشحالی سے متعلق تھا ۔ جنہوں نے سعودی وژن 2030 ء کے تقاضے بھی پورے کئے ۔ مجلس شوریٰ کے نئے ارکان کی تقرریاں کیں۔ شاہ سلمان نے پہلا تاریخی فیصلہ ولیعہد اور نائب ولیعہد کے عہدوں کیلئے بانی مملکت کے پوتوں کا انتخاب کر کے کیا ۔ یہ نہ صرف ایک تاریخی فیصلہ تھا بلکہ نئی نسل کو اقتدار میں حصہ دینے اور ان کے کاندھوں پر ذمہ داری رکھ کر اپنی نگرانی میں انہیں تجربہ سے نوازنا بھی تھا۔ انہوں نے 12 کونسلیں ، ادارے اور اعلیٰ کمیٹیاں ختم کیں۔ سیاسی و سلامتی امور کی کونسل اور اقتصادی و ترقیاتی امور کی کونسل کی شکل میں 2 مئی کو کونسلین قائم کیں۔ یہ دونوں مجلس الوزراء کے ماتحت ہیں۔ عوامی خوشحالی کے تحت پہلا فیصلہ شہری و عسکری ملازمین کیلئے دو تنخواہوں نیز مملکت کے اندر اور باہر سرکار اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز کے تمام طلباء وطالبات کیلئے دو ماہ کی اسکالرشپ اور ریٹائرڈ شہریوں کیلئے دو ماہ کی پنشن تقسیم کرنا تھا۔ شاہ سلمان نے ماہانہ سماجی کفالت کے ڈھانچے کو تبدیل کیا ، ان کیلئے دوماہ کی تنخواہ کا فرمان جاری کیا۔ معذورین کیلئے دو ماہ کا زر اعانت مخصوص کیا ۔ وزارت سماجی امور کے یہاں اجازت یافتہ رجسٹرڈ انجمنوں کیلئے دو ارب ریال اضافی جاری کئے ۔ برسر جنگ فوجیوں کو ایک ماہ کی تنخواہ کا اعزازیہ دیا گیا ۔ کوآپریٹیو سوسائٹی کونسل کو 200 ملین ریال کی اعانت پیش کی ۔ ہر ثقافتی تنظیم اور نوجوانوں کے ادارے کو ایک کروڑ ریال تقسیم کئے گئے ۔ اسپورٹس کلب کو فی کس 10 ملین ریال اور اول درجے کے کلب کو 5 ملین ریال اور دیگر رجسٹرڈ اسپورٹس کلب کو 20 لاکھ ریال تقسیم کئے گئے ۔ شاہ سلمان نے وژن 2030 ء پر عملدرآمد کیلئے شاہی فرامین بھی جاری کئے ۔ ’’الحیاۃ‘‘ اخبار کے مطابق شاہ سلمان نے 3 ربیع الثانی 1438 ھ سے چار برس کیلئے مجلس شوریٰ کی تشکیل نو کی اس کے سربراہ عبداللہ آل الشیخ کو بنایا اور اسکالر و دانشور 150 افراد کو اس کارکن بنایا ۔ شاہ سلمان کے اہم فیصلوں اور کار خیر کی اور بھی تفصیل ہے جس کا ذ کر اس محدود کالم میں ممکن نہیں۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز 31 ڈسمبر 1935 ء کو ریاض میں پیدا ہوئے۔ بتایا گیا کہ وہ ملک عبدالعزیز کے 25 ویں اولاد ہیں۔ انہوں نے ریاض میں ایک شاہی اسکول میں تعلیم حاصل کی ۔ انہیں 19 سال کی عمر (1954) میںریاض کا ڈپٹی گورنر بنایا گیا تھا ۔1963 ء میں شاہ سلمان منطقہ ریاض کے گورنر مقرر کئے گئے ۔ یہ ایک تاریخ ساز ریکارڈ ہے کہ انہوں نے گورنر ریاض کے اہم ترین عہدے کی ذمہ داری 48 سال تک بحسن خوبی نبھائی ۔ وہ بیک وقت سربراہ ریاض ڈیولپمنٹ اتھاریٹی بھی رہے اور انہوں نے اپنے دور میں ایک چھوٹے شہر ریاض کو ترقی دیکر ایک بین الاقوامی سطح کا ترقی یافتہ شہر بنادیا ۔ اس کے علاوہ شاہ سلمان اپنے عہدہ گورنری کے ساتھ دیگر کئی فلاحی اداروں کے سربراہ بھی رہے ۔ پرنس سلطان بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد نومبر 2011 ء کو شاہ سلمان نائب وزیراعظم و وزیر دفاع مملکت سعودی عرب مقرر کئے گئے ۔ وہ شاہی فیملی کونسل کے بھی سربراہ رہے ۔ یہ کونسل شاہ فہد بن عبدالعزیز نے سن2000 ء میں شاہی خاندانی معاملات کی یکسوئی کیلئے قائم کی تھی ۔ پرنس نایف بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد سلمان بن عبدالعزیز جون 2012 ء کو مملکت کے کراؤن پرنس مقرر کئے گئے ۔ شاہ سلمان مملکت کے اقتصادی استحکام پر زیادہ زور دیتے ہیں اور کار خیر اور غریب اور ضرورت مند ممالک کی امداد میں بہت فراخدل مانے جاتے ہیں۔ سعودی عرب کا سب سے بڑا مثبت پہلو مملکت کا امن و امان ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ مسلم ممالک اور خصوصاً عرب دنیا میں اتھل پتھل اور جنگ وجدل کا ماحول ہے ملکی امن و امان پر مملکت کی گرفت پوری طرح مضبوط ہے۔اس سلسلہ کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جہاں مقامی باشندوں کی آبادی کے تقریباً برابر خارجی باشندوں کی تعداد ہے اور یہ خارجی باشندوں کا تعلق دنیا کے کئی ممالک سے ہے، جہاں کی طرز حکومتیں یہاں سے مختلف ہے لیکن پچھلے چار دہائیوں سے زائد عرصہ سے یہ خارجی باشندے یہاں بسے ہوئے ہیں۔ نہ انہیں مقامی حکومت سے کوئی شکایت ہے نہ حکومت ہی کو ان سے کوئی مشکل کا سامنا ہے ۔ دوسرے یہ کہ دنیا کے ہر ملک میں تجارت یا دیگر مقاصد کیلئے عارضی ویزوں پر لوگ آتے جاتے ہیں لیکن جتنی تعداد میں لوگ حج ، عمرہ ، زیارت، تجارت وغیرہ وغیرہ کیلئے عارضی یا ویزٹ ویزوں پر لوگ سعودی عرب آتے ہیں ، اتنی تعداد میں دنیا کے کسی ملک میں سیاح نہیں آتے ہیں ۔ دیگر مقاصد سے ہٹ کر کوئی ایک کروڑ سے زائد افراد صرف حج ، عمرہ اور زیارہ پر آتے ہیں۔ مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہر سال اتنی بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں ۔ مناسک کی ادائیگی سے فارغ ہوکر بصد اطمینان وسکون اپنے وطن لوٹتے ہیں اور یہ سب کچھ مملکت کے بہترین نظم و نسق کا نتیجہ ہے ۔ اس کے باوجود بھی کچھ لوگ اعتراض برائے اعتراض کیلئے عمرہ اور حج انتظامات پر انگلیاں اٹھاتے ہیں اور اپنی بے تکی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ گو کہ شاہ سلمان نے شاہی محل میں آنکھ کھولی اور محلوں میں پرورش پائی مگر پھر بھی انہوں نے ہمیشہ عوامی مسائل سے اپنے آپ کو آگاہ رکھا۔ اپنے طویل دور گورنری میں وہ ہر روز صبح آٹھ بجے اپنے آفس میں موجود رہتے تھے جہاں مقامی سے زیادہ خارجی باشندے اپنے مسائل کے حل کیلئے درخواستیں لئے لائین میںکھڑے ہوتے تھے اور وہ ا پنے آفس پر آئے ہر شخص سے اس کی درخواست وصول کرتے اور یہ درخواستیں محض فائل نہیں کردی جاتیں تھیں بلکہ یہ متعلقہ محکمہ اور اداروں کو بھیجی جاتیں اور ان سے جواب طلب کیا جاتا ۔ شاہ سلمان ایک بہت ہی منظم شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ وقت کی پابندی کیلئے معروف ہیں۔ پچھلی ربع صدی میں ہم نے بحیثیت صحافی سینکڑوں ایسی تقاریب میں شرکت کی جس میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز بحیثیت مہمان خصوصی رہے ۔ ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ وہ کبھی کسی تقریب میں ایک منٹ بھی تاخیر سے پہنچے ہوں۔ یہ ان کی شخصیت کا اہم اور قابل ستائش پہلو ہے۔ پچھلے ہفتہ اعلان کردہ سعودی بجٹ 2017 ء کے بعد مملکت میں برسرکار لاکھوں خارجی باشندوں پر کچھ مالی بوجھ بڑھا جو ان خارجی باشندوں کی اکثریت کیلئے ناقابل برداشت ہے ۔ برسہا برس سے مملکت میں خدمات انجام دیتے رہے ، یہ خارجی باشندے ، عوامی مسائل سے ہمیشہ وقفیت رکھنے والے ، صاحب خیر اور فراخدل شاہ سلمان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ان خارجی باشندوں پر پڑے مالی بوجھ میں کمی کی کچھ تدبیر کریںگے اور انہیں راحت عطا کریں۔ [email protected]

کے این واصف
مملکت سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پچھلے اتوار کو اپنے اقتدار کے دو سال مکمل کئے ۔ سعودی عرب کے قائدین اور عوام نے 3 ربیع الثانی 1438 ھ کو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے برسر اقتدار آنے کی دوسری سالگرہ روایتی جوش و خروش کے ساتھ منائی ۔ سعودی عرب گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی سطح پر نمایاں ترین مقام بنانے میں کامیاب رہا ۔ مملکت نے شاہ سلمان کی قیادت میں عرب اتحاد قائم کیا ۔ یہ اتحاد یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کیلئے تشکیل دیا گیا ۔ سعودی عرب نے 41 ممالک پر مشتمل فوجی اسلامی اتحاد بنایا ۔ مملکت نے تیل نرخوں میں کمی کے بعد اندرون ملک اقتصادی امور کامیابی سے حل کئے ۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران 119 رہنماؤں ، سربراہوں ، وزرائے اعظم بشمول وزیراعظم ہند نریندر مودی نے ریاض کے دورے کئے ۔ شاہ سلمان نے نریندر مودی کو مملکت کے اعلیٰ ترین سیول اعزاز سے بھی نوازا جو ہندوستان اور ہندوستانیوں کیلئے اور یہاں برسرکار این آر آئیز کیلئے اعزاز کی بات ہے۔

مملکت سعودی عرب کے دورے پر آئے تمام عالمی قائدین نے خادم حرمین شریفین سے ملاقات کر کے خطے کے حالات پر تبادلہ خیال کیا ۔ شاہ سلمان نے امریکہ ، مصر ، ترکی سمیت 19 ممالک کے دورے کئے ۔ دریں اثناء ولیعہد نائب وزیر اعظم و وزیر داخلہ شہزادہ محمد بن نایف نے بیان جاری کر کے واضح کیا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے عرب اتحاد اور اسلامی باہمی تعاون کے رشتے مضبوط بنانے کیلئے جان توڑ کوشش کی ۔ عربوں اور مسلمانوں کو درپیش خطرات اور چیلنجوں سے نکالنے کیلئے قائدانہ کردار ادا کیا ۔ شاہ سلمان کی مخلصانہ مساعی کی بدولت GCC ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون اور اخوت کے رشتے مضبوط ہوئے ۔ ولیعہد نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کے باشندے خادم حرمین شریفین سے اطاعت اور تابعداری کی بیعت کے دو سال پورا ہونے کا جشن منارہے ہیں۔ یہ فرزندان وطن کیلئے انمول موقع ہے ۔ یہ عظیم قائد سے سچی وابستگی اور وفاداری کو عملی جامعہ پہنانے کا دن ہے ۔ شاہ سلمان نے پرعزم اور فیصلہ کن اقدامات کر کے مملکت کو ترقی ، خوشحالی، امن و امان ، سکون و استحکام کی نئی منزلوں سے آشنا کیا ۔ نائب ولیعہد و وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی فورم اور بین الاقوامی برادری کی توجہات کا مرکز بن گیا۔ دنیا بھر کے قائدین اور سربراہوں نے مشترکہ تعلقات کی تقویت ، باہمی مفادات کے فروغ اور علاقائی و عالمی مسائل پر مشاورت اور تبادلہ خیال کیلئے مملکت کے دورے کئے ۔ گورنر مکہ  مکرمہ شہزادہ خالد الفیصل نے کہا کہ شاہ سلمان نے عربوں کو ان کا مقام اور سعودیوں کو عزت و وقار دلایا ۔ دو برس کے دوران سعودی عرب  سربلندی اور وقار کا نشان بنارہا۔
کسی بھی مملکت میں شاہی فرامین اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ فرامین ملک کے امن و امان ، اقتصادی معاملات نظم و نسق وغیرہ وغیرہ کو کنٹرول کرنے میں کلیدی رول ادا کرتے ہیں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 3 ربیع الثانی 1436 ھ کو سعودی عرب میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے سے لیکر آج تک 212 شاہی فرامین جاری کر کے مملکت کی شکل تبدیل کردی ۔ ان شاہی فرامین کا تعلق ملک کی تعمیر و ترقی ، قیدیوں کی معافی اور عوام کی خوشحالی سے متعلق تھا ۔ جنہوں نے سعودی وژن 2030 ء کے تقاضے بھی پورے کئے ۔ مجلس شوریٰ کے نئے ارکان کی تقرریاں کیں۔ شاہ سلمان نے پہلا تاریخی فیصلہ ولیعہد اور نائب ولیعہد کے عہدوں کیلئے بانی مملکت کے پوتوں کا انتخاب کر کے کیا ۔ یہ نہ صرف ایک تاریخی فیصلہ تھا بلکہ نئی نسل کو اقتدار میں حصہ دینے اور ان کے کاندھوں پر ذمہ داری رکھ کر اپنی نگرانی میں انہیں تجربہ سے نوازنا بھی تھا۔ انہوں نے 12 کونسلیں ، ادارے اور اعلیٰ کمیٹیاں ختم کیں۔ سیاسی و سلامتی امور کی کونسل اور اقتصادی و ترقیاتی امور کی کونسل کی شکل میں 2 مئی کو کونسلین قائم کیں۔ یہ دونوں مجلس الوزراء کے ماتحت ہیں۔ عوامی خوشحالی کے تحت پہلا فیصلہ شہری و عسکری ملازمین کیلئے دو تنخواہوں نیز مملکت کے اندر اور باہر سرکار اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز کے تمام طلباء وطالبات کیلئے دو ماہ کی اسکالرشپ اور ریٹائرڈ شہریوں کیلئے دو ماہ کی پنشن تقسیم کرنا تھا۔ شاہ سلمان نے ماہانہ سماجی کفالت کے ڈھانچے کو تبدیل کیا ، ان کیلئے دوماہ کی تنخواہ کا فرمان جاری کیا۔ معذورین کیلئے دو ماہ کا زر اعانت مخصوص کیا ۔ وزارت سماجی امور کے یہاں اجازت یافتہ رجسٹرڈ انجمنوں کیلئے دو ارب ریال اضافی جاری کئے ۔ برسر جنگ فوجیوں کو ایک ماہ کی تنخواہ کا اعزازیہ دیا گیا ۔ کوآپریٹیو سوسائٹی کونسل کو 200 ملین ریال کی اعانت پیش کی ۔ ہر ثقافتی تنظیم اور نوجوانوں کے ادارے کو ایک کروڑ ریال تقسیم کئے گئے ۔ اسپورٹس کلب کو فی کس 10 ملین ریال اور اول درجے کے کلب کو 5 ملین ریال اور دیگر رجسٹرڈ اسپورٹس کلب کو 20 لاکھ ریال تقسیم کئے گئے ۔ شاہ سلمان نے وژن 2030 ء  پر عملدرآمد کیلئے شاہی فرامین بھی جاری کئے ۔ ’’الحیاۃ‘‘ اخبار کے مطابق شاہ سلمان نے 3 ربیع الثانی 1438 ھ سے چار برس کیلئے مجلس شوریٰ  کی تشکیل نو کی اس کے سربراہ عبداللہ آل الشیخ کو بنایا اور اسکالر و دانشور 150 افراد کو اس کارکن بنایا ۔ شاہ سلمان کے اہم فیصلوں  اور کار خیر کی اور بھی تفصیل ہے جس کا ذ کر اس محدود کالم میں ممکن نہیں۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز 31 ڈسمبر 1935 ء کو ریاض میں پیدا ہوئے۔ بتایا گیا کہ وہ ملک عبدالعزیز کے 25 ویں اولاد ہیں۔ انہوں نے ریاض میں ایک شاہی اسکول میں تعلیم حاصل کی ۔ انہیں 19 سال کی عمر (1954) میںریاض کا ڈپٹی گورنر بنایا گیا تھا ۔1963 ء میں شاہ سلمان منطقہ ریاض کے گورنر مقرر کئے گئے ۔ یہ ایک تاریخ ساز ریکارڈ ہے کہ انہوں نے گورنر ریاض کے اہم ترین عہدے کی ذمہ داری 48 سال تک بحسن خوبی نبھائی ۔ وہ بیک وقت سربراہ ریاض ڈیولپمنٹ اتھاریٹی بھی رہے اور انہوں نے اپنے دور میں ایک چھوٹے شہر ریاض کو ترقی دیکر ایک بین الاقوامی سطح کا ترقی یافتہ شہر بنادیا ۔ اس کے علاوہ شاہ سلمان اپنے عہدہ گورنری کے ساتھ دیگر کئی فلاحی اداروں کے سربراہ بھی رہے ۔ پرنس سلطان بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد نومبر 2011 ء کو شاہ سلمان نائب وزیراعظم و وزیر دفاع مملکت سعودی عرب مقرر کئے گئے ۔ وہ شاہی فیملی کونسل کے بھی سربراہ رہے ۔ یہ کونسل شاہ فہد بن عبدالعزیز نے سن2000  ء میں شاہی خاندانی معاملات کی یکسوئی کیلئے قائم کی تھی ۔ پرنس نایف بن عبدالعزیز کے انتقال کے بعد سلمان بن عبدالعزیز جون 2012 ء کو مملکت کے کراؤن پرنس مقرر کئے گئے ۔ شاہ سلمان مملکت کے اقتصادی استحکام پر زیادہ زور دیتے ہیں اور کار خیر اور غریب اور ضرورت مند ممالک کی امداد میں بہت فراخدل مانے جاتے ہیں۔
سعودی عرب کا سب سے بڑا مثبت پہلو مملکت کا امن و امان ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ مسلم ممالک اور خصوصاً عرب دنیا میں اتھل پتھل اور جنگ وجدل کا ماحول ہے ملکی امن و امان  پر مملکت کی گرفت پوری طرح مضبوط ہے۔اس سلسلہ کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جہاں مقامی باشندوں کی آبادی کے تقریباً برابر خارجی باشندوں کی تعداد ہے اور یہ خارجی باشندوں کا تعلق دنیا کے کئی ممالک سے ہے، جہاں کی طرز حکومتیں یہاں سے مختلف ہے لیکن پچھلے چار دہائیوں سے زائد عرصہ سے یہ خارجی باشندے یہاں بسے ہوئے ہیں۔ نہ انہیں مقامی حکومت سے کوئی شکایت ہے نہ حکومت ہی کو ان سے کوئی مشکل کا سامنا ہے ۔ دوسرے یہ کہ دنیا کے ہر ملک میں تجارت یا دیگر مقاصد کیلئے عارضی ویزوں پر لوگ آتے جاتے ہیں لیکن جتنی تعداد میں لوگ حج ، عمرہ ، زیارت، تجارت وغیرہ وغیرہ کیلئے عارضی یا ویزٹ ویزوں پر لوگ سعودی عرب آتے ہیں ، اتنی تعداد میں دنیا کے کسی ملک میں سیاح نہیں آتے ہیں ۔ دیگر مقاصد سے ہٹ کر کوئی ایک کروڑ سے زائد افراد صرف حج ، عمرہ اور زیارہ پر آتے ہیں۔ مقدس شہروں مکہ  مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہر سال اتنی بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں ۔ مناسک کی ادائیگی سے فارغ ہوکر بصد اطمینان وسکون اپنے وطن لوٹتے ہیں اور یہ سب کچھ مملکت کے بہترین نظم و نسق کا نتیجہ ہے ۔ اس کے باوجود بھی کچھ لوگ  اعتراض برائے اعتراض کیلئے عمرہ اور حج انتظامات پر انگلیاں اٹھاتے ہیں اور اپنی بے تکی تجاویز پیش کرتے ہیں۔
گو کہ شاہ سلمان نے شاہی محل میں آنکھ کھولی اور محلوں میں پرورش پائی مگر پھر بھی انہوں نے ہمیشہ عوامی مسائل سے اپنے آپ کو آگاہ رکھا۔ اپنے طویل دور گورنری میں وہ ہر روز صبح آٹھ بجے اپنے آفس میں موجود رہتے تھے جہاں مقامی سے زیادہ خارجی باشندے اپنے مسائل کے حل کیلئے درخواستیں لئے لائین میںکھڑے ہوتے تھے اور وہ ا پنے آفس پر آئے ہر شخص سے اس کی درخواست وصول کرتے اور یہ درخواستیں محض فائل نہیں کردی جاتیں تھیں بلکہ یہ متعلقہ محکمہ اور اداروں کو بھیجی جاتیں اور ان سے جواب طلب کیا جاتا ۔ شاہ سلمان ایک بہت ہی منظم شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ وقت کی پابندی کیلئے معروف ہیں۔ پچھلی ربع صدی میں ہم نے بحیثیت صحافی سینکڑوں ایسی تقاریب میں شرکت کی جس میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز بحیثیت مہمان خصوصی رہے ۔ ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ وہ کبھی کسی تقریب میں ایک منٹ بھی تاخیر سے پہنچے ہوں۔ یہ ان کی شخصیت کا اہم اور قابل ستائش پہلو ہے۔ پچھلے ہفتہ اعلان کردہ سعودی بجٹ 2017 ء کے بعد مملکت میں برسرکار لاکھوں خارجی باشندوں پر کچھ مالی بوجھ بڑھا جو ان خارجی باشندوں کی اکثریت کیلئے ناقابل برداشت ہے ۔ برسہا برس سے مملکت میں خدمات انجام دیتے رہے ، یہ خارجی باشندے ، عوامی مسائل سے ہمیشہ وقفیت رکھنے والے ، صاحب خیر اور فراخدل شاہ سلمان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ان خارجی باشندوں پر پڑے مالی بوجھ میں کمی کی کچھ تدبیر کریںگے اور انہیں راحت عطا کریں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT