Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / کے سی آر حیدرآباد کی تہذیبی ورثہ کو مٹانے کوشاں

کے سی آر حیدرآباد کی تہذیبی ورثہ کو مٹانے کوشاں

عثمانیہ دواخانہ پر کے سی آر کے فیصلہ پر تنقید ، سکریٹری تلنگانہ پی سی سی کا بیان
حیدرآباد ۔ 24 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر سید یوسف ہاشمی نے عثمانیہ ہاسپٹل کی قدیم و تاریخی عمارت کو انہدام کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر حیدرآباد کی تاریخ اور تہذیبی ورثہ کو صف ہستی سے مٹانے کی سازش پر عمل کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کو استنبول کے طرز پر ترقی دینے کا اعلان کرنے والے چیف منسٹر تلنگانہ پرانے شہر کی تاریخی عمارتوں کو منہدم ہوجانے کے بہانے انہدام کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ چارمینار کے دامن میں نظامیہ یونانی جنرل ہاسپٹل کی عمارت بھی خستہ حالت کا شکار ہوگئی تھی تاہم کانگریس حکومت نے اس قدیم اور تاریخی عمارت کو انہدام نہیں کیا ۔ بلکہ اس کی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر مرمت کے کاموں کو انجام دیا ہے ۔ ابھی کام ہورہا ہے تاخیر کیوں ہورہی ہے حکومت کنٹراکٹر سے وضاحت طلب کریں ۔ چارمینار بھی قدیم عمارت ہے ۔ شہر میں دوسری تاریخی عمارتوں کا جس طرح سے تحفظ کیا جارہا ہے اسی طرز پر عثمانیہ ہاسپٹل کی قدیم عمارت کا تحفظ کیا جائے ۔ شہر میں جہاں بھی قدیم عمارتیں اور خالی جگہ نظر آرہی ہے ۔ چیف منسٹر فوری اس کو حاصل کرنے اور وہاں ہمہ منزلہ عمارتیں تعمیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ سکریٹریٹ کو دوسری جگہ منتقل کرنے ٹی بی ہاسپٹل کو ضلع رنگاریڈی میں منتقل کرنے کی تجویز اس کا زندہ ثبوت ہے ۔ عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت کا تاریخی اور ہیرٹیج عمارتوں میں شمار ہوتا ہے ۔ لہذا اس کو انہدام کرنے کی تجویز سے چیف منسٹر فوری دستبردار ہوجائے ۔ ورنہ حیدرآباد کے عوام ٹی آر ایس حکومت کو کبھی معاف نہیں کریں گے ۔ سکریٹریٹ اور ٹی بی ہاسپٹل کی منتقلی میں ناکامی ہونے کے بعد چیف منسٹر کی نظر عثمانیہ ہاسپٹل پر پڑی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ کنٹراکٹرس کو خوش کرنے اور انہیں مالی فائدہ پہونچانے کے لیے چیف منسٹر قدیم تاریخی عثمانیہ ہاسپٹل کو منہدم کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT