Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / کے سی آر نے مانگے 5000 کروڑ مودی نے دئیے 25 کروڑ

کے سی آر نے مانگے 5000 کروڑ مودی نے دئیے 25 کروڑ

ملازمین اور وظیفہ یاب کو مزید پریشانیاں ہوسکتی ہیں
حیدرآباد ۔ 28 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : عوامی ضروریات کی تکمیل کے لیے نئی کرنسی سربراہ کرنے کے معاملے میں آر بی آئی نے ہاتھ اٹھا لیے ہیں ۔ 5 ہزار کروڑ روپئے طلب کرنے پر تلنگانہ کو 25 کروڑ روپئے وصول ہوئے ہیں ۔ بینکوں کی جانب سے بے بسی کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ سرکاری ملازمین اور وظیفہ یابوں کو تنحواہوں کی ادائیگی سنگین مسئلہ بن گیا ہے ۔ ایک دو دن میں مزید رقم وصول ہونے کی توقع کی جارہی ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بڑی نوٹوں کو منسوخ کرنے کے بعد عوام سے 50 دن صبر کرنے کی اپیل کی تھی ۔ بینکوں ، اے ٹی ایم اور پوسٹ آفسوں میں نئی کرنسی وقت پر نا پہونچنے کی وجہ سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے اور تلنگانہ حکومت کی سانس روک رہی ہے کیوں کہ ماہ نومبر آخری مراحل میں ہے ۔ یکم دسمبر کو سرکاری ملازمین ، وظیفہ یابوں کے علاوہ آسرا پنشنرس کو رقمی ادائیگی کو لے کر حکومت فکر مند ہے اور حکومت امید کررہی ہے کہ آئندہ ایک دو دن میں آر بی آئی تلنگانہ کو نئی کرنسی روانہ کرے گی ۔ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کے بعد ریاست کے بینکوں میں منسوخ شدہ 35 ہزار کروڑ روپئے ڈپازٹ ہوئے ہیں ۔ اس کے عوض میں جمع شدہ رقم میں نصف رقم بھی تلنگانہ کو دستیاب نہیں ہوئی ہے ۔ گذشتہ ہفتہ حکومت تلنگانہ نے ریزرو بینک آف انڈیا کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے 500 اور 100 کے 5 ہزار کروڑ روپئے کی نئی کرنسی روانہ کرنے کی اپیل کی تھی تاہم آپ کو سن کر تعجب ہوگا کہ آر بی آئی نے صرف 25 کروڑ روپئے نئی کرنسی روانہ کی ہے ۔ نوٹ بندی کے دوسرے دن 2 ہزار روپئے کی 20 کروڑ روپئے پر مشتمل نئی کرنسی روانہ کی تھی ۔ اس طرح 20 دن میں جہاں منسوخ شدہ نوٹ 35 ہزار کروڑ روپئے جمع ہوئے ہیں وہیں ابھی تک جملہ 45 کروڑ روپئے کی نئی کرنسی تلنگانہ کو پہونچی ہے ۔ بینکوں میں نقد رقم نہ ہونے کی وجہ سے بینکرس قطاروں میں ٹھہرنے والے عوام کے ساتھ اپنی مجبوری کا اظہار کررہے ہیں ۔ کئی اے ٹی ایم بند ہوچکے ہیں ۔ بینک کھولتے ہی گھنٹے دو گھنٹوں میں نو منی کے بورڈ آویزاں کیے جارہے ہیں ۔ اپنی ضرورت کے مطابق نقد رقم وصول نہ ہونے پر عوام میں برہمی بڑھتی جارہی ہے ۔ آر بی آئی نے 2 ہزار روپئے کی نئی نوٹوں پر مشتمل 13 ہزار کروڑ روپئے کا اسٹاک ریاست کو روانہ کیا ہے ۔ تاہم چلر کی عدم موجودگی سے اس کا استعمال بھی کٹھن ہوگیا ہے ۔ ریاست میں سرکاری ملازمین اور وظیفہ یابوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے حکومت فکر مند ہے ۔ جیسے جیسے یکم دسمبر قریب آرہی ہے ۔ حکومت کی بے چینی میں بھی اضافہ ہورہاہے ۔ ریاست میں حکومت 36 لاکھ افراد میں آسرا وظیفے تقسیم کرتی ہے ۔ جن میں معمرین ، بیواؤں وغیرہ کو 1000 روپئے اور معذورین کو 1500 روپئے وظیفہ فراہم کرتی ہے ۔ 500 اور 1000 روپئے کی منسوخی کے بعد انہیں وظیفہ فراہم کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ اس لیے حکومت آر بی آئی سے 500 روپئے اور 100 روپئے کی نئی کرنسی طلب کررہی ہے ۔ اگر مقررہ وقت پر آر بی آئی کی جانب سے توقع کے مطابق کرنسی نہ ملتی ہے تو آسرا وظیفہ یابوں کو آئندہ ماہ دو ماہ کی تنخواہ ایک ساتھ دینے پر غور کیا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ حکومت نان گزیٹیڈ سرکاری ملازمین کو تنخواہوں میں 10 ہزار روپئے نقد رقم دینے کا بھی جائزہ لے رہی ہے اور اس کے لیے بینکوں میں علحدہ کاونٹرس قائم کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT