Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / کے سی آر پر نوٹس کے لیے کنٹراکٹرس اور ووٹس کے لیے اسکیمات کا الزام

کے سی آر پر نوٹس کے لیے کنٹراکٹرس اور ووٹس کے لیے اسکیمات کا الزام

گاندھی بھون میں جلسہ ، یوسف ہاشمی و دیگر کو تہنیت ، ملو بٹی وکرامارک کا خطاب
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر ملو بٹی وکرامارک نے کروڑہا روپئے غبن کرنے کا ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نوٹوں کے لیے کنٹراکٹرس اور ووٹوں کے لیے اسکیمات تیار کرنے کا دعویٰ کیا ۔ تلنگانہ کے دوسرے یوم تاسیس کے موقع پر علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے والی صدر کانگریس مسز سونیا گاندھی سے اظہار تشکر کرنے کے لیے گاندھی بھون میں اہتمام کردہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ 1969 کی تحریک تلنگانہ میں حصہ لینے والے مجاہدین تلنگانہ کانگریس کے سینئیر قائد مسٹر سید یوسف ہاشمی کے علاوہ دوسری شخصیتوں کو کانگریس کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی ۔ مسٹر بٹی وکرامارک نے قبل ازیں گاندھی بھون میں قومی پرچم لہرایا بعد ازاں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ٹی آر ایس کے انتخابی منشور سے کئے گئے 99 فیصد وعدوں کی تکمیل کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیرات کے لیے حکومت کے پاس فنڈز نہیں ہے ۔ دلتوں کو اراضی فراہم کرنے میں حکومت ناکام ہے ۔ کے جی تا پی جی مفت تعلیم پر عمل آوری نہیں ہوئی ۔ مسلمانوں اور قبائلوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا جس کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں 95 فیصد تعمیرات مکمل ہونے والے آبپاشی پراجکٹس کے ماباقی کاموں کو زیر التواء رکھا گیا ہے ۔ پراجکٹس کے ری ڈیزائن ، مشن بھگیرتا اور مشن کاکتیہ کے نام پر تقریبا 250 لاکھ کروڑ روپئے کے ٹنڈرس طلب کرتے ہوئے ایک لاکھ کروڑ کا غبن کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے میڈیا کو تعمیری رول ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بصورت دیگر جمہوریت تاریکی میں کھو جائے گی ۔ سابق مرکزی وزیر مسٹر ایس جئے پال ریڈی نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل صدر کانگریس مسز سونیا گاندھی کا عظیم کارنامہ ہے ۔ سونیا گاندھی نے آندھرا پردیش اور ملک بھر میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے بعد تلنگانہ عوام کی قربانیوں کا احترام کرتے ہوئے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت تمام محاذوں میں ناکام ہوچکی ہے ۔ حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے اور سماج کا کوئی بھی فرد حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے ۔ عوامی امیدوں کو پورا کرنے میں چیف منسٹر کے سی آر ناکام ہوچکے ہیں ۔ تلنگانہ کابینہ میں مخالفین تلنگانہ کو شامل کرتے ہوئے تلنگانہ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں کی توہین کی گئی ہے ۔ اس جلسہ میں قائد اپوزیشن اسمبلی مسٹر کے جانا ریڈی سابق صدور پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر پنالہ لکشمیا مسٹر نرسا ریڈی سابق مرکزی وزراء مسٹر بلرام نائیک مسٹر سروے ستیہ نارائنا سابق وزیر مسٹر ایم ششی دھر ریڈی سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر انجن کمار یادو کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT