Wednesday , September 27 2017
Home / شہر کی خبریں / کے سی آر کا آبپاشی پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن میں نقائص و نقصانات

کے سی آر کا آبپاشی پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن میں نقائص و نقصانات

گاندھی بھون میںپی سی سی قائدین کا اجلاس، صدر تلنگانہ پی سی سی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 9 اپریل (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے 5 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کی منصوبہ بندی تیار کرتے ہوئے ایک کروڑ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کی کوشش کرنے کا دعویٰ کرنے کا حکومت پر الزام عائد کیا۔ ری ڈیزینگ سے پراجکٹس کی لاگت میں 35 ہزار کروڑ روپئے کا اضافہ ہوجانے کا ادعا پیش کیا۔ کیپٹن اتم کمار ریڈی نے آج گاندھی بھون میں پارٹی کے سینئر قائدین اور ماہرین آبپاشی کا جائزہ اجلاس طلب کیا، جس میں سابق صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر پنالہ لکشمیا، قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مسٹر نندی ایلیا، سابق ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر دامودھر راج نرسمہا، کانگریس کے ارکان اسمبلی مسٹر جیون ریڈی، ڈاکٹر جے گیتاریڈی، مسٹر ومشی چندر ریڈی، سابق وزراء مسٹرڈی سریدھربابو، مسٹر ایم ششی دھر ریڈی، سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر جی ویویک ترجمان اعلیٰ پردیش کانگریس کمیٹی ڈاکٹر شرون کمار کے علاوہ دوسرے موجود تھے۔ کیپٹن اتم کمار ریڈی نے چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے اسمبلی میں پیش کردہ پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کی غلطیوں، نقائص، نقصانات، بے قاعدگیوں، بدعنوانیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ریاستوں کرناٹک اور مہاراشٹرا کی جانب سے دریائے کرشنا اور گوداوری پر غیرقانونی 450 بیاریجس بنانے کا اعتراف کیا ہے لیکن اس کے خلاف قانونی جنگ لڑنے اور انصاف حاصل کرنے کیلئے ٹی آر ایس حکومت تیار نہیں ہے اور ساتھ ہی پراجکٹس کے ری ڈیزائننگ سے تلنگانہ کو ہونے والے فائدوں پر بھی چیف منسٹر نے روشنی نہیں ڈالی۔ کیپٹن اتم کمار ریڈی نے چیف منسٹر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات میں کاکتیہ، قلی قطب شاہ اور آصف جاہی دور کی ستائش کی ہے۔ تاہم کانگریس کے دورحکومت میں تعمیر کردہ پراجکٹس کو یکسر نظرانداز کردیا ہے۔ کانگریس کے دورحکومت میں آبپاشی پراجکٹس تعمیر کرتے ہوئے تلنگانہ کی 95 ایکر اراضی کو سیراب کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ چیف منسٹر صرف 5 لاکھ ایکر اراضی کو سیراب کرنے کا منصوبہ تیار کرتے ہوئے تمام ایک کروڑ ایکر اراضی کو پانی سیراب کرنے کا کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے پراجکٹس کے ری ڈیزائن سے اس کی لاگت 38,000 کروڑ سے بڑھ کر 83,000 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔ ای ڈیزائننگ کے نام پر بڑے پیمانے پر دھاندلیاں کی جارہی ہیں۔ پالمور۔ رنگاریڈی اور پرانہیتا پراجکٹس کے کام نامنیشن پر کنٹراکٹرس کے حوالے کئے جارہے ہیں۔ تلنگانہ کے مفادات کو نظرانداز کرکے چیف منسٹر مہاراشٹرا کے مفادات کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ پراجکٹ کی بلندی کو 152 میٹر سے گھٹا کر 148 میٹر کردی گئی ہے۔ مہاراشٹرا کے 1800 ایکر اراضی ڈوب جانے کی فکر ہے مگر تلنگانہ کے 18 گاؤں غرقاب ہوجانے کی کوئی فکر نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT