Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کے سی آر کو مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ بازی بند کرنے کا مشورہ

کے سی آر کو مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ بازی بند کرنے کا مشورہ

بارہ فیصد تحفظات پر کل جماعتی اجلاس پر زور ، محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد ۔ 19 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹرمحمد علی شبیر نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ مسلمانوں کو دھوکہ دینا بند کریں اور 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا جائزہ لینے کے لیے فوری کل جماعتی اجلاس طلب کریں ۔ وقار آباد ضلع رنگاریڈی میں منعقدہ مہادھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل کردہ کمیشن آف انکوائری کے رکن ڈاکٹر عامر اللہ خاں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے لیے کوئی قانونی گنجائش نہیں ہے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے کہا کہ سربراہ ٹی آرا یس کی جانب سے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا جب اعلان کیا گیا تھا تب سے ہی کانگریس پارٹی اس پر شکوک کا اظہار کررہی ہے ۔ جس کی مسلمانوں کی تعلیمی ، سماجی اور معاشی سروے کرنے والی کمیشن آف انکوائری کے رکن نے تصدیق کردی ہے ۔ کسی بھی طبقات کو تحفظات کی فراہمی کے لیے قانونی اختیارات رکھنے والی کمیشن تشکیل دینے کی عدلیہ نے ہدایت دی ہے تاہم چیف منسٹر تلنگانہ کمیشن آف انکوائری تشکیل دیتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں ۔

 

اگر حکومت اب بھی مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو فوری مکمل قانونی اختیارات کے ساتھ بی سی کمیشن تشکیل دیں ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے تعلیم اور ملازمتوں میں تحفظات فراہم کرنے کے لیے کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے کسی بھی ریاست میں 50 فیصد سے زائد تحفظات تجاویز نہ کرنے کی رولنگ دی ہے ۔ جس کی وجہ سے کانگریس کی جانب سے مسلمانوں کو دئیے گئے 5 فیصد تحفظات کے جی او کو عدلیہ نے کالعدم قرار دیا تھا ۔ جس کے بعد کانگریس حکومت نے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کیا ہے ۔ ٹاملناڈو کے طرز پر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں قانون ضروری ہے ۔ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کی مخالفت کرنے والی بی جے پی کیا مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کرے گی ؟ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے انتخابی منشور کے ذریعہ جو بھی وعدے کئے ہیں ان میں ایک وعدے کوبھی پورا نہیں کیا ہے ۔ جس میں وقار آباد کو نیا ضلع بنانے ، دلت طبقات کو فی کس تین ایکڑ اراضی کی فراہمی ، کے جی تا پی جی مفت تعلیم ، ڈبل بیڈ روم فلیٹ وغیرہ شامل ہیں ۔ پرانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کو اپنی جان قرار دینے والے کے سی آر آج اس کو بے جان بنا رہے ہیں ۔ سابق ریاستی وزیر مسٹر جی پرساد نے مہادھرنے کی صدارت کی ، دھرنے سے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی ، سابق وزیر مسز سبیتا ساندرا ریڈی اور دوسروں نے خطاب کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT