Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کے سی آر کی صدر جمہوریہ کے عہدہ پر نظر ؟

کے سی آر کی صدر جمہوریہ کے عہدہ پر نظر ؟

پنڈتوں کی پیش قیاسی پر پارٹی میں سرگوشیاں، این ڈی اے میں شمولیت کا بھی اشارہ
حیدرـآباد۔/9اپریل، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی نظر کیا صدر جمہوریہ کے عہدہ پر ہے یا پھر وہ بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اتحاد میں شمولیت کیلئے پر تول رہے ہیں؟ ۔ اُگادی کے موقع پر پنڈتوں نے چیف منسٹر کے بارے میں جو پیشن گوئی کی اُس سے پارٹی حلقوں میں یہ موضوعات زیر بحث ہیں۔ بعض قائدین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کے جانشین کی تلاش ہے اور ایسے میں جنوبی ہند سے مضبوط دعویدار کی حیثیت سے کے سی آر اُبھر سکتے ہیں۔ کے سی آر نے تلنگانہ تحریک کے دوران ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین سے قریبی روابط قائم کئے تھے اور انہیں مرکز میں وزیر لیبر کی حیثیت سے فرائض انجام دینے کا خاصا تجربہ ہے۔ نئی دہلی کی سیاست کو کے سی آر اچھی طرح سمجھتے ہیں اور یو پی اے حکومت کو اعتماد میں لیتے ہوئے جس طرح علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کی اس پر کے سی آر کو سیاست کے میدان کا ’’ چانکیہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ علحدہ تلنگانہ کا حصول ناممکن تھا لیکن کے سی آر نے پارٹی کو کانگریس میں ضم کرنے کا تیقن دیتے ہوئے کانگریس کو علحدہ ریاست کی تشکیل کیلئے راضی کرلیا تاہم بعد میں انہوں نے اپنی علحدہ پارٹی کو جاری رکھتے ہوئے تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چندر شیکھر راؤ 2017 میں تلنگانہ کا اقتدار اپنے فرزند کے ٹی آر کو منتقل کرتے ہوئے قومی سیاست میں اہم رول ادا کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ پنڈتوں کی پیشن گوئی نے سیاسی پنڈتوں کے ان امکانات کو تقویت پہنچادی جس میں کہا جارہا تھا کہ کے ٹی آر کو آئندہ سال چیف منسٹر کے عہدہ کی ذمہ داری دی جائے گی۔ اُگادی کے موقع پر پنڈتوں نے مارچ 2017 کے بعد تلنگانہ کی سیاست میں کے سی آر کے رول میں کمی کا بھی اشارہ دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چندر شیکھر راؤ ریاست کو درپیش مسائل کے سبب مرکز کی امداد حاصل کرنے کیلئے این ڈی اے اتحاد میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں اور مرکزی حکومت میں بھی کم سے کم 2 وزارتوں کے عہدے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر این ڈی اے میں شمولیت اختیار کرنا مقصود نہ ہو تو پھر صدر جمہوریہ کے عہدہ پر اپنی دعویداری پیش کی جائے گی۔ واضح رہے کہ موجودہ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی جولائی 2017میں اپنی پانچ سالہ میعاد مکمل کرلیں گے۔ اگرچہ دستور کے مطابق صدر جمہوریہ کی دوسری میعاد کیلئے دوبارہ منتخب کیا جاسکتا ہے لیکن پرنب مکرجی کیلئے یہ ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ وہ یو پی اے حکومت کے مقرر کردہ ہیں۔ جنوبی ہند سے سابق میں صدر جمہوریہ کے عہدہ پر بعض شخصیتیں فائز ہوچکی ہیں جن میں نیلم سنجیوا ریڈی اور ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام شامل ہیں۔ ٹی آر ایس کے حلقوں میں اُگادی کی تقریب کے بعد یہ قیاس آرائیاں شدت اختیار کرچکی ہیں کہ کے سی آر آئندہ سال اہم سیاسی فیصلے کرسکتے ہیں۔ پارٹی قائدین کے علاوہ وزراء اور عوامی نمائندوں میں بھی کے سی آر کے آئندہ سیاسی منصوبوں پر مختلف رائے کا اظہار کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT