Wednesday , October 18 2017
Home / اداریہ / کے سی آر کی کوششیں

کے سی آر کی کوششیں

باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتّے ہوا دینے لگے
کے سی آر کی کوششیں
چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ حال ہی میں دہلی کا دورہ مختصر کرکے حیدرآباد واپس ہوئے۔ تلنگانہ کیلئے پراجکٹس اور فنڈس کی منظوری پر زور دینے کیلئے وہ مرکزی وزراء سے ملاقات کرنے والے تھے لیکن دہلی میں مرکزی وزراء کی عدم موجودگی اور اس سے پہلے وزیراعظم نریندر مودی سے مقررہ ملاقات کا پروگرام ملتوی ہونے سے وہ دہلی میں کچھ نہ کچھ حاصل کرنا چاہتے تھے مگر یہ دورہ مایوس کن ثابت ہوا۔ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کی کل جماعتی وفد کی ملاقات کا التواء چیف منسٹر کیلئے ایک بڑا دھکہ نہ سہی مگر تلنگانہ ریاست کے سربراہ کیلئے غور طلب ہزیمت ہے۔ دراصل وزیراعظم نریندر مودی نے تلنگانہ کے وفد سے ملاقات کرنے سے پس و پیش کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ تلنگانہ کے سیاسی وفد کی جانب سے پیش کئے جانے والے مسائل کی سماعت کریں۔ کے سی آر کو مرکز کی بی جے پی حکمرانی پارٹی کی جانب جھکاؤ کے باوجود مسلسل نظرانداز کردیئے جانے کی شکایت قابل نوٹ ہے۔ مودی سے ملاقات میں ناکام کے سی آر نے دہلی میں درجن بھر مرکزی وزراء سے ملاقات کا پروگرام بتایا تھا اس میں بھی انہیں ناکامی ہوئی۔ وہ مرکزی وزراء راجناتھ سنگھ، نتن گڈکری اور یا پیوش گوئل سے ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن ان وزراء نے چیف منسٹر سے ملاقات سے معذرت خواہی کرلی۔ ایک نئی ریاست کے چیف منسٹر کے ساتھ مرکز کا رویہ ظاہر کرتا ہیکہ ٹی آر ایس صدر کو اپنی سیاسی وفاداری کا ثمر حاصل نہیں ہوا ہے۔ ٹی آر ایس کو وزیراعظم سے ملاقات نہ کرنے کا افسوس ہے۔ ریاستی یونٹ کے بی جے پی قائدین اور ٹی آر ایس کے درمیان پائی جانے والی دوری کا اثر مرکزی بی جے پی قیادت کے رویہ سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس بے رخی کے باوجود تلنگانہ کی ٹی آر ایس کی یہ کوشش ہیکہ بی جے پی کی مرکزی قیادت سے قربت بہرحال بنائے رکھنے کی کوشش کی جائے۔ ان دونوں پارٹیوں کے قائدین کے تعلق سے یہی سمجھا جاسکتا ہیکہ یوپی انتخابات اور پارلیمنٹ بجٹ سیشن کے جاری رہنے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کوئی ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس سے کسی ایک علاقہ کی پارٹی قیادت کی طرفداری کا نشانیہ ہوسکے۔ جب لب سے دل کا اور دل سے لب کا رابط استوار ہوجاتا ہے تو پھر دل کے پھپھولے جل اٹھنے کا موسم آجاتا ہے۔ ٹی آر ایس کا دل بی جے پی کیلئے تڑپ رہا ہے مگر ظاہر طور پر یہ بات پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دہلی میں رہنے والے ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ کو مرکزی بی جے پی قیادت کے رویہ پر ناراض دیکھا جارہا ہے لیکن ان کی ناراضگی کو خاطر میں نہ لانا بھی ایک افسوسناک تبدیلی ہے۔ اس طرح کی بے رخی کے باوجود چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے مرکزی وزراء سے ملاقات کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ تلنگانہ کی ترقی اور اس کیلئے مرکز سے فنڈس کا حصول دو اہم موضوعات ہیں۔ جب تک مرکز سے فنڈس حاصل نہیں ہوں گے، تلنگانہ میں پراجکٹس شروع نہیں ہوسکیں گے۔ جن پراجکٹس کیلئے چیف منسٹر کے سی آر بلند دعویٰ کرچکے ہیں وہی پراجکٹ مرکزی منظوری اور فنڈس کی اجرائی کے منتظر ہیں۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ دراصل ایس سی زمرہ بندی کے مسئلہ پر نریندر مودی سے ملاقات کرنے والے تھے۔ گذشتہ سال بھی انہوں نے وزیراعظم مودی سے ملاقات کرکے ایک یادداشت پیش کی تھی اور درخواست کی تھی کہ درج فہرست ذاتوں کی زمرہ بندی کی جائے تاکہ تمام ایس سی طبقات میں تحفظات کے ثمرات تقسیم کئے جاسکیں۔ انہوں نے اس مسئلہ پر تلنگانہ اسمبلی میں متفقہ طور پر منظورہ قرارداد کے تعلق سے بھی مودی کو واقف کروایا تھا۔ اس طرح ان کی کوشش میں خاص کامیابی نہ ملنا بھی چیف منسٹر کیلئے بڑا دھکہ ہے۔ چندرشیکھر راؤ بلاشبہ ریاست کی ترقی اور تمام طبقات کی خوشحالی کیلئے کوشش کررہے ہیں۔ جب تک مرکز سے امداد حاصل نہ ہو ان کے منصوبے اور کوششیں دھری رہ جائیں گی۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ دیہی علاقوں میں مالیاتی امداد کو یقینی بنانے کو ترجیح دی ہے تاکہ تمام طبقات کی سماجی اور معاشی سطح پر ترقی دی جاسکے۔ بہرحال چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ آئندہ 2019ء کے انتخابات تک ریاست کے درج فہرست ذاتوں میں اپنے لئے ہمدردی کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ اپنی شناخت کو قوی کرنے کی ان کی کوشش اور ان کے ووٹ بینک کو مضبوط بنانے کا ارادہ اس وقت کامیاب ہوسکے گا جب مرکز انہیں خاطر میں لاکر امداد جاری کرے۔

TOPPOPULARRECENT