Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / کے سی آر کے وعدے ہی وعدے، عمل ندارد

کے سی آر کے وعدے ہی وعدے، عمل ندارد

محمد نعیم وجاہت
حلقہ لوک سبھا ورنگل ایس سی طبقہ کے لئے مختص ہے، مگر دو لاکھ سے زائد مسلم رائے دہندے فیصلہ کن موقف رکھتے ہیں۔ ضمنی انتخاب کے لئے انتخابی مہم عروج پر پہنچ چکی ہے، حکمراں ٹی آر ایس اور اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید اور جوابی تنقید کرتے ہوئے عوامی تائید حاصل کرنے میں مصروف ہیں، تاہم غور طلب بات یہ ہے کہ اس حلقہ کا ضمنی انتخاب کیوں ہو رہا ہے؟۔ کیا اس حلقہ کی نمائندگی کرنے والے رکن پارلیمنٹ کا انتقال ہو گیا ہے؟ یا وہ سیاست سے سبکدوش یا کسی بیماری کی وجہ سے مستعفی ہوچکے ہیں؟۔ دراصل چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے ضلع ورنگل کی نمائندگی کرنے والے ڈپٹی چیف منسٹر کو برطرف کردیا اور دلت طبقہ کی ناراضگی سے بچنے کے لئے اس حلقہ کے دلت رکن پارلیمنٹ کڈیم سری ہری کو ڈپٹی چیف منسٹر بنادیا، جس کی وجہ سے انھیں اس لوک سبھا نشست سے مستعفی ہونا پڑا اور اب وہاں ضمنی انتخاب ہو رہا ہے۔
یوں تو بدعنوانیوں کے خاتمہ کے لئے چیف منسٹر نے جرأت مندانہ اقدام کیا ہے، مگر انھوں نے سابق ڈپٹی چیف منسٹر راجیا کے بارے میں یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ کتنے کروڑ روپئے کی بدعنوانی میں ملوث تھے اور نہ ہی مغصوبہ رقم ان سے واپس طلب کی گئی۔ اگر سابق ڈپٹی چیف منسٹر کے بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کا ثبوت ہے تو انھیں گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟۔ ان سوالات کا جواب ورنگل کے عوام چیف منسٹر تلنگانہ سے طلب کر رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس شخص کو بدعنوانیوں کے الزام میں ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ سے ہٹایا گیا، اب اُسے ٹی آر ایس کی انتخابی مہم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ کے سی آر نے ریاست کا پہلا چیف منسٹر کسی دلت کو بنانے اور دلتوں کو فی کس تین ایکڑ اراضی دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد کے سی آر دلتوں سے کئے گئے وعدوں سے منحرف ہوکر خود چیف منسٹر بن گئے، لہذا دلت طبقہ اب کس صورت میں ٹی آر ایس پر بھروسہ کرے؟ چیف منسٹر کے بشمول تمام پارٹی قائدین کو اس کا جواب دینا چاہئے۔

ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں تلنگانہ کے عوام سے 100 سے زائد وعدے کئے تھے، جس میں مسلمانوں اور قبائلی طبقات کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ 2014ء کی انتخابی مہم کے دوران کے سی آر نے شاد نگر میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے اقتدار حاصل ہونے کے اندرون چار ماہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس کے بعد مسلمانوں نے اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی امید میں ٹی آر ایس کو برسر اقتدار لانے میں اہم رول ادا کیا، تاہم 17 ماہ گزرنے کے باوجود مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں ہُوا اور نہ ہی اس وعدہ کی تکمیل کے لئے کوئی قانونی راستہ نکالا گیا۔ مسلمانوں کی بے چینی دُور کرنے کے لئے ایک ایسی کمیٹی (سدھیر کمیٹی) تشکیل دی گئی، جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی اسے مسلمانوں کو بی سی طبقات میں شامل کرکے 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اختیار ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا مسلم تحفظات کے بارے میں حکومت اور چیف منسٹر سے سوال کرنا غلط ہے؟ یا اس سلسلے میں حکومت سے کچھ پوچھنا، حکومت مخالف اقدام کے مماثل ہوگا؟۔ کیا مسلمانوں کے احساسات اور جذبات کو تحصیلداروں، آر ڈی اوز، کلکٹرس اور منتخب عوامی نمائندوں کے ذریعہ حکومت تک پہنچانا جرم ہے؟۔ ریاست کے مسلمان حکومت اور چیف منسٹر سے ان سوالات کا جواب چاہتے ہیں۔
ادارہ سیاست نے ملی مسائل پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا، بلکہ مسلم مسائل کو حکمرانوں اور ایوانوں تک پہنچانے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ جب روزنامہ سیاست نے وقف جائدادوں کی تباہی کے خلاف تحریک چلائی تو وہ کانگریس کی نظر میں کھٹکنے لگا، لیکن ٹی آر ایس قائدین اس وقت ادارہ سیاست کی واہ واہ میں مصروف تھے اور آج جب ادارہ مسلم تحفظات کے سلسلے میں تحریک چلا رہا ہے تو وہ ٹی آر ایس کی نظروں میں کھٹک رہا ہے اور کانگریس کی نظروں میں اچھا بن گیا۔ حکومت تو تبدیل ہو گئی، لیکن ادارہ سیاست نے ملی مفاد کے سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، یعنی اُس وقت بھی سیاست کو ملت کے مفادات عزیز تھے اور آج بھی اسے ملی مفادات عزیز ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہ کام مجلس کا تھا، جس کا راست تعلق حکومت اور قوم و ملت سے ہے۔

تلنگانہ حکومت سرکاری ملازمتوں کے لئے مسلسل اعلامیہ جاری کر رہی ہے۔ اگر 12 فیصد مسلم تحفظات حاصل نہیں ہوئے تو مسلمانوں کا بہت بڑا نقصان ہوگا، مگر مجلس نے اس معاملے کو اس طرح نظرانداز کردیا، جیسے یہ مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ وہ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ اسمبلی کے مانسون سیشن کے دوران کانگریس اور تلگودیشم کی جانب سے مسلم تحفظات کے بارے میں حکومت سے سوال کیا گیا، تاہم معطلی کی وجہ سے دونوں جماعتیں ایوان میں موجود نہیں تھیں، جب کہ مجلس ایوان میں ہونے کے باوجود خاموش تماشائی بنی رہی۔ ان حالات میں ادارہ سیاست کی جانب سے 12 فیصد مسلم تحفظات کا مطالبہ یا تحریک شروع کرنا کونسی غلط بات ہے؟ کیا مسلم تحفظات کا فائدہ عامر علی خاں کے بچوں کو ہوگا؟۔
ٹی آر ایس نے اپنے انتخابی منشور میں ہر گھر کے ایک نوجوان کو ملازمت فراہم کرنے، بے گھر افراد کو ڈبل بیڈروم کا فلیٹ دینے اور شہر ورنگل میں ڈرینج سسٹم نظم کا وعدہ کیا تھا، کیا ٹی آر ایس حکومت نے اپنے ان وعدوں کو پورا کیا؟۔ چیف منسٹر بننے کے بعد ورنگل کی جھونپڑ پٹی میں تین دن تک قیام کرنے والے کے سی آر نے وہاں کے عوام کو مکانات تعمیر کرکے دینے کا وعد کیا تھا۔ اسی طرح ورنگل میں کالوجی نارائن ہیلتھ یونیورسٹی کے قیام اور کسانوں کے قرضہ جات یکمشت معاف کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وعدہ پورا نہ کرنے کی وجہ سے کسان خودکشی کرتے رہے اور حکومت کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف ضلع ورنگل میں 150 کسانوں نے خودکشی کی ہے۔

نکسلائٹس ایجنڈے کو اپنا ایجنڈا بتانے والی ٹی آر ایس حکومت نے نکسلائٹس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے کوئی کوشش تو نہیں کی، لیکن ان کا اِنکاؤنٹر ضرور کردیا۔ اسی طرح پانچ زیر دریافت نوجوان مسلم قیدیوں کا بھی انکاؤنٹر کردیا گیا۔ ان نوجوانوں کے قصوروار یا بے قصور ہونے کا فیصلہ عدالت کو کرنا تھا، لیکن عدالت کے فیصلہ سے پہلے پولیس نے ہی اُن کا فیصلہ کردیا۔
حلقہ لوک سبھا ورنگل کے ایک گاؤں کے کسان نے ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری پر چپل پھینک کر اپنی برہمی کا اظہار کیا، کئی مقامات پر خواتین وزراء کو روک کر انھیں اپنے مسائل سے واقف کروا رہی ہیں اور ایک گاؤں کے عوام نے مسائل کی عدم یکسوئی پر بطور احتجاج انتخاب کے بائیکاٹ کا بینر لگادیا ہے۔ اس حلقہ کے ضمنی انتخاب میں تلگودیشم، بی جے پی امیدوار کی تائید کر رہی ہے اور دونوں جماعتوں کے قائدین مشترکہ طورپر انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ بی جے پی کے مقامی قائدین اپنے قومی قائدین کو بھی انتخابی مہم میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔ کمیونسٹ جماعتوں نے متفقہ طورپر اپنا ایک امیدوار میدان میں اُتارا ہے۔ تلنگانہ کے ضمنی انتخابات سے دُور رہنے والی وائی ایس آر کانگریس پہلی مرتبہ حلقۂ لوک سبھا ورنگل میں اپنی قسمت آزما رہی ہے، جس کی وجہ سے انتخابی مہم عروج پر پہنچ گئی اور تمام سیاسی جماعتوں کے امیدوار عوام کے درمیان پہنچ کر ان کی تائید حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ کانگریس پارٹی نے اپنے سابقہ امیدوار سرسلہ کے خلاف عوامی ناراضگی دیکھ کر سروے ستیہ نارائنا کو امیدوار بنایا ہے، تاہم یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ وہ عوامی ناراضگی دُور کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ آتشزدگی کے واقعہ میں سرسلہ کی بہو اور تین کمسن پوتروں کی ہلاکت کے بعد ان کے خلاف عوامی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ عوام کا خیال ہے کہ اس ہلاکت کا سبب سرسلہ ہیں اور وہ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT