Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کے سی آر پر جھوٹے وعدوں کے ذریعہ عوام کو دھوکہ دینے کا الزام

کے سی آر پر جھوٹے وعدوں کے ذریعہ عوام کو دھوکہ دینے کا الزام

چیف منسٹر نے تمام کمیونٹیز کے جذبات کو مجروح کیا۔ محمد علی شبیر کا خطاب
حیدرآباد 27 ڈسمبر (این ایس ایس) کانگریس پارٹی کے قائدین نے آج جھوٹا وعدہ کرنے پر چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ پر تنقید کی اور اسی مقام پر پودے لگائے جہاں انھوں نے 11 ڈسمبر 2014 ء کو بنجارہ ہلز میں بنجارہ بھون، کمرم بھیم آر واسی بھون اور بابو جگجیون رام بھون کیلئے سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اس موقع پر موجود رہنے والوں میں کانگریس کے سینئر قائدین بشمول گریٹر حیدرآباد کانگریس صدر دانم ناگیندر، سابق ارکان پارلیمنٹ ایم انجن کمار یادو اور رویندر نائک، سابق رکن اسمبلی ایم ششی دھر ریڈی، سابق ڈپٹی میئر ڈی راجکمار اور دوسرے شامل ہیں۔ اس موقع پر ایک جلسہ سے مخاطب کرتے ہوئے تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائدا پوزیشن محمد علی شبیر نے کہاکہ کے سی آر نے اس اراضی کی ملکیت کے موقف کی بھی تصدیق کئے بغیر سنگ بنیاد رکھا۔ انھوں نے یہ جانتے ہوئے کہ یہ بھونس کبھی بھی حقیقت نہیں ہوں گے پھر بھی بھونس کے نام پر قبائیلیوں اور دلتوں کو دھوکہ دیا ہے۔ کے سی آر نے جھوٹے وعدے کرتے ہوئے تمام کمیونٹیز کے عوام کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ کے سی آر نے مختلف کمیونٹیز سے کئے گئے دیگر وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا جن میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات، دلتوں اور قبائیلیوں کو 3 ایکر اراضی اور کمزور طبقات کی ترقی کے خاطر خواہ فنڈس شامل ہیں۔ کانگریس کے قائد نے ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی پر بھی الزام عائد کیاکہ انھوں نے سیاسی تقریر کیلئے میلادالنبیؐ کے دینی پلیٹ فارم کا غلط استعمال کیا۔ اویسی کے یہ کہنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہ حیدرآباد، حیدرآبادیوں کے لئے، انھوں نے اویسی برادران کے مقام کے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے کہاکہ ’’آپ کے دادا عبدالواحد اویسی، اوسا، مہاراشٹرا سے آئے تھے۔ ہم اویسی برادران سے زیادہ حیدرآبادی ہیں‘‘۔ محمد علی شبیر نے اسدالدین کو ان غریب طلبہ کی فہرست بھی پیش کرنے کا چیلنج کیا جنھیں ایم آئی ایم کی جانب سے چلائے جانے والے تعلیمی اداروں میں داخلہ دیا گیا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیاکہ ایم آئی ایم قائدین غریب مسلمانوں کے جذبات کا استحصال کرتے ہوئے بلینرس بن گئے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی نفرت اور جذبات کی سیاست نہیں کرے گی۔ ہم کارکردگی کی اساس پر ووٹ طلب کریں گے۔ انھوں نے کہاکہ کانگریس حکومت نے مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے تھے۔ ایم آئی ایم نے مسلمانوں کو تحفظات کی کھلے طور پر مخالفت کی تھی۔ ہم نے کئی قانونی کیسیس کے سلسلہ میں جدوجہد کی اور تحفظات کی برقراری کو یقینی بنایا جس سے 2004 ء سے 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ ہوا۔

TOPPOPULARRECENT