Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / کے سی آر کو ایس سی زمرہ بندی کی فکر،مسلم تحفظات کی نہیں

کے سی آر کو ایس سی زمرہ بندی کی فکر،مسلم تحفظات کی نہیں

وزیر اعظم سے ملاقات میں مسلمان یاد نہیں آئے،سیاسی فائدہ کیلئے ایس سی طبقہ کے حق میں میمورنڈم
حیدرآباد۔/10مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کی ٹی آر ایس حکومت کو 12فیصد مسلم تحفظات کی فراہمی میں کس حد تک دلچسپی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ہوئی آج ملاقات میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایس سی درجہ بندی کے لئے نمائندگی کی جبکہ مسلم تحفظات کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ تلنگانہ میں درج فہرست اقوام کی حکومت اور پارٹی کو تائید برقرار رکھنے کیلئے چیف منسٹر نے اُن کے دیرینہ مطالبہ کے حق میں وزیر اعظم کو یادداشت پیش کی۔ درج فہرست اقوام ان کے طبقات میں مزید درجہ بندی کی مانگ کررہے ہیں اور اس سلسلہ میں سابق میں اسمبلی میں قرارداد بھی منظور کی گئی تھی۔ درجہ بندی کا کام مرکزی حکومت کے تحت ہے لہذا چیف منسٹر نے وزیر اعظم نریندر مودی کو باقاعدہ یادداشت حوالے کی۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ چیف منسٹر 12فیصد مسلم تحفظات کا مسئلہ بھی وزیر اعظم سے رجوع کرتے اور اس بات کی اپیل کرتے کہ مسلم تحفظات کے مسئلہ پر سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ میں مرکزی حکومت تحفظات کی مخالفت نہ کرے۔ واضح رہے کہ متحدہ آندھرا پردیش میں مسلمانوں کو فراہم کردہ 4 فیصد تحفظات کا مسئلہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے اور یو پی اے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 4.5فیصد تحفظات کے خلاف درخواستوں کی سماعت بھی سپریم کورٹ کے اسی بنچ پر جاری ہے۔ توقع ہے کہ مقدمہ کی سماعت جون میں ہوگی۔ ایسے میں تمام کی نظریں مرکزی حکومت کے موقف پر ٹکی ہوئی ہیں کہ وہ تحفظات کے بارے میں کیا حلف نامہ داخل کرے گی۔ چونکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا موقف تحفظات کے خلاف ہے لہذا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سپریم کورٹ میں بھی مخالف حلف نامہ داخل کیا جاسکتا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ایک سے زائد مرتبہ 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے اور مرکز پر دباؤ بناتے ہوئے تحفظات کو 9 ویں شیڈول میں شامل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایسے وقت جبکہ وزیر اعظم سے ملاقات کے موقع پر اس سلسلہ میں نمائندگی کا بہترین موقع تھا چیف منسٹر نے صرف ایس سی درجہ بندی کے مسئلہ پر ہی بات چیت کی۔ اگر وہ مسلم تحفظات کے حق میں موثر انداز میں نمائندگی کرتے تو مرکز کو اپنے موقف پر نظر ثانی کیلئے یقیناً مجبور ہونا پڑتا کیونکہ آنے والے دنوں میں بی جے پی کو علاقائی جماعتوں میں ٹی آر ایس کی تائید کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے نئی دہلی میں اس بات کا انکشاف کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ایس سی زمرہ بندی کے حق میں یادداشت پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت درج فہرست اقوام کی زمرہ بندی کے سلسلہ میں سنجیدہ ہے اور ایس سی طبقات کو حکومت کی سنجیدگی پر شبہ نہیں کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کُل جماعتی وفد کے ساتھ نمائندگی سے قبل بھی چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر وزیر اعظم سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو بتایا کہ ایس سی طبقہ میں موجود تمام زمرہ جات سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ مکمل انصاف نہیں کیا گیا ہے لہذا نئی زمرہ بندی کی ضرورت ہے۔ کڈیم سری ہری نے اس مسئلہ کو وزیر اعظم سے رجوع کرنے پر چیف منسٹر سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مطالبہ کے حق میں جو افراد بھی آگے آئیں گے انہیں حکومت انہیں ساتھ لے کر کام کرے گی۔ واضح رہے کہ ایس سی طبقات نہ صرف حکومت میں اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں بلکہ انتخابی سیاست میں ان کی تائید اور مخالفت کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ سیاسی قوت ہونے کے نتیجہ میں چیف منسٹر کو وزیر اعظم سے نمائندگی کیلئے مجبور ہونا پڑا۔ مسلمانوں کو بھی سیاسی قوت بننا ہوگا تاکہ حکومت پر تحفظات کے وعدے کی تکمیل کیلئے دباؤ بنایا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT