Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / کے ٹی آر ابھی بچہ ہے : اتم کمار ریڈی

کے ٹی آر ابھی بچہ ہے : اتم کمار ریڈی

کے سی آر کے ہر چیلنج کو قبول کرنے صدر پردیش کانگریس کمیٹی تیار
حیدرآباد ۔ 10 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے ریاستی وزیر کے ٹی آر کو ننھا بچہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے والد چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کوئی چیلنج کرتے ہیں تو وہ قبول کرنے کے لیے تیار ہے ۔ واضح رہے کہ کے ٹی آر نے پالیر اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں ٹی آر ایس امیدوار کی شکست ہونے پر وزارت سے مستعفی ہوجانے کا اعلان کرتے ہوئے کانگریس امیدوار کی شکست پر تلنگانہ پردیش کانگریس کی صدارت سے مستعفی ہوجانے کا کیپٹن اتم کمار ریڈی کو چیلنج کیا تھا ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ کے ٹی آر سیاست میں ننھا بچہ ہے ۔ ہاں اگر ان کے والد کے سی آر اس طرح کا کوئی چیلنج کرتے تو وہ اس پر ضرور غور کرتے تھے کیوں کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں 100 بلدی وارڈس پر کامیابی حاصل کرنے کا کے ٹی آر نے دعویٰ کیا تھا اگر اس سے کم حلقوں پر کامیابی کی صورت میں وزارت سے مستعفی ہوجانے کا اعلان کیا تھا لیکن ٹی آر ایس نے صرف 99 بلدی ڈیویژنس پر کامیابی حاصل کی تھی تاہم کے ٹی آر نے وزارت سے استعفیٰ دینے کے بجائے اپنے اعلان سے منحرف ہوگئے ۔ کیپٹن اتم کمار ریڈی نے کہا کہ اسمبلی حلقہ پالیر کے لیے کانگریس امیدوار کو عوامی ہمدردی ہے ۔ پارٹی امیدوار کے آنجہانی شوہر عوامی مقبول قائد تھے ان کے انتقال سے جو ہمدردی کی لہر پائی جاتی ہے اس کو ختم کرنے کے لیے حکمران ٹی آر ایس جماعت سرکاری مشنری کا بیجا استعمال دولت اور شراب کو پانی کی طرح بہا رہی ہے ۔ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے ۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر مسٹر جگن موہن ریڈی نے کانگریس کی تائید کا اعلان کیا تھا تاہم حکمران ٹی آر ایس نے وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی کو دولت اور عہدوں کا لالچ دیتے ہوئے انہیں اپنی جماعت میں شامل کرلیا ہے ۔ اس طرح کھمم کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے رکن اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کرلیا گیا ہے ۔ اگر ٹی آر ایس کو عوامی تائید حاصل ہے تو یہ سب کچھ کرنے کی ضرورت کیا ہے ۔ حکومت کی کارکردگی سے عوام ناراض ہے ۔ حکومت کی ناکامی سے عوامی توجہ ہٹانے اور رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے کے لیے کانگریس کے علاوہ دوسری جماعتوں سے منتخب عوامی نمائندوں کو ٹی آر ایس میں شامل کیا جارہا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT