Friday , July 28 2017
Home / Top Stories / کے ٹی آر اور جانا ریڈی میں نوک جھونک

کے ٹی آر اور جانا ریڈی میں نوک جھونک

ایوان اسمبلی میں ریاستی وزیر پر اقتدار کا گھمنڈ ہونے قائد اپوزیشن کا الزام
حیدرآباد۔ 26ڈسمبر ( سیاست نیوز) قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی اور ریاستی وزیر صنعت کے ٹی آر کے درمیان نوک جھونک ہوگئی ۔ کے ٹی آر نے جانا ریڈی کو دوٹوک انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی منتخبہ نمائندہ ہیں ۔ جاناریڈی کے احسان تلے یا مہربانی سے ایوان میں کھڑے نہیں ہیں ۔ جاناریڈی نے اقتدار کے نشہ میں نہ بہکنے کا کے ٹی آر کو مشورہ دیا ۔ اسمبلی میں ٹی ایس آئی پاس مختصر مباحث کے دوران اسپیکر اسمبلی نے کانگریس سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے رکن اسمبلی پی اجئے کو مباحث میں حصہ لینے کی اجازت دی جس پر کانگریس کے ارکان اسمبلی ناراض ہوگئے اور تمام ارکان اسمبلی نے اسپیکر پوڈیم کے قریب پہنچ کر احتجاج کیا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے اپوزیشن کے اس احتجاج کو اسپیکر کے اختیارات پر انگلی اٹھانے کے مترادف قرار دیا‘ باوجود اس کے کانگریس کے ارکان بدستور احتجاج کرتے رہے ۔ قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے پی اجئے کو مباحث میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے کانگریس کے ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کرنے کی اسپیکر سے نمائندگی کی ۔ اسپیکر ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انہیں مباحثہ میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرتے ہوئے وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں ۔ اسپیکر نے کہا کہ پی اجئے  ایک عوامی منتخبہ نمائندہ ہے اور انہیں کسی کو بھی بات کرنے کا موقع فراہم کرنے کی اجازت دینے کا حق حاصل ہے ۔ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف 4سال بعد کارروائی کی گئی تھی ۔ جانا ریڈی نے کے ٹی آر کے ریمارکس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی وزیر کا رویہ غیر جمہوری ہے ‘ اقتدار کا گھمنڈ اور تکبر ان پر سوار ہے اور وہ اپوزیشن کو مشتعل کررہے ہیں ۔ اس طرح کی بات چیت کرنا ایک وزیر کو زیب نہیں دیتا جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں ۔ وزیر کے ٹی آر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ جانا ریڈی کی مہربانی سے اسمبلی نہیں پہنچے بلکہ عوام نے انہیں منتخب  کیا ہے ۔ پارلیمانی روایت کا احترام کرتے ہوئے اپوزیشن اپنا محاسبہ کریں ۔ جانا ریڈی ایک سینئر قائد ہیں ‘ وہ ان کا احترام کرتے ہیں مگر حکومت کے خلاف وہ ہرگز غیر ضروری نکتہ چینی برداشت نہیں کرسکتے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT