Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / کے ٹی آر کے ’ روڈ شو ‘ سے مجلس خوفزدہ

کے ٹی آر کے ’ روڈ شو ‘ سے مجلس خوفزدہ

پرانے شہر کے دورہ سے روکنے کی کوشش، ٹی آر ایس کے مسلم امیدواروں کو ’ روڈ شو ‘ کا انتظار
حیدرآباد۔/22جنوری، ( سیاست نیوز) گریٹر انتخابات میں ٹی آر ایس کے سیلاب کو روکنے کیلئے مقامی جماعت مجلس متحرک ہوچکی ہے اور وہ پرانے شہر کے بلدی حلقوں میں ٹی آر ایس کی انتخابی مہم میں نرمی کی خواہاں ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کے اسٹار کیمپینر اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے 23 جنوری سے گریٹر حیدرآباد میں روڈ شو کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے اور تمام 150 بلدی حلقوں کا احاطہ کرنے کا منصوبہ تھا تاہم مجلس کی قیادت نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ٹی آر ایس قائدین سے ربط قائم کرتے ہوئے پرانے شہر کے علاقوں کو روڈ شو سے علحدہ کرنے کی خواہش کی جس پر کے ٹی آر نے 100 ڈیویژنس میں روڈ شو کا پروگرام تیار کرلیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انتخابی مہم میں کے ٹی آر، کویتا اور دیگر وزراء کی شمولیت نے ٹی آر ایس کیڈر کے حوصلوں کو بلند کردیا ہے اور رائے دہندوں میں ٹی آر ایس کی تائید کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ برسراقتدار پارٹی اس تسلسل کو قائم رکھنے کیلئے کے ٹی آر کے روڈ شو کا سہارا لینا چاہتی ہے۔ روڈ شو میں کے ٹی آر کے علاوہ دیگر قائدین بھی شامل ہوں گے اور جگہ جگہ عوام سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے ترقیاتی ایجنڈہ کو پیش کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس کے مضبوط موقف کو دیکھتے ہوئے مقامی جماعت کو اپنے حلقوں میں شکست کا اندیشہ لاحق ہوچکا ہے اور وہ کسی طرح کے ٹی آر کو پرانے شہر کے حلقوں میں روڈ شو سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پرانے شہر میں تقریباً 38بلدی وارڈز ہیں جن میں 26وارڈز ایسے ہیں جہاں مسلم رائے دہندوں کی آبادی فیصلہ کن موقف رکھتی ہے۔ پارٹی نے ان حلقوں میں 22مسلم امیدواروں کو میدان میں اُتارا ہے اور ان کی ہرطرح سے مدد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق پرانے شہر کے بلدی حلقوں کے ٹی آر ایس امیدواروں نے پارٹی قیادت سے مطالبہ کیا کہ کے ٹی آر کے روڈ شو کو ان کے حلقہ جات تک توسیع دی جائے کیونکہ انتخابی مہم کے آغاز پر ٹی آر ایس کے حق میں رائے دہندوں کا مثبت ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ کے ٹی آر نے اگرچہ ابتداء میں 100 بلدی وارڈز میں روڈ شو کے پروگرام کو قطعیت دی تاہم دیگر وارڈز میں پارٹی امیدواروں کے موقف کو دیکھتے ہوئے اس پروگرام میں توسیع کے امکانات موجود ہیں۔ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی سے قبل ٹی آر ایس اور مقامی جماعت نے مشترکہ حکمت عملی کو قطعیت دینے کی کوشش کی تھی لیکن کارکنوں اور کیڈر میں جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے پارٹی نے تنہا مقابلہ کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ بعض نشستوں پر پارٹی نے جان بوجھ کر کمزور امیدواروں کو میدان میں اُتارا لیکن 90فیصد سے زائد حلقوں میں پارٹی پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کررہی ہے۔ چیف منسٹر نے انتخابی مہم میں مصروف وزراء اور عوامی نمائندوں کو پابند کیا ہے کہ وہ رائے دہندوں سے شخصی طور پر ربط پیدا کریں اور پرانے شہر میں بھی غیر متوقع نتائج کو یقینی بنائیں۔

TOPPOPULARRECENT