Tuesday , October 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / کے چندر شیکھر راؤ پر وعدوں سے انحراف کا الزام

کے چندر شیکھر راؤ پر وعدوں سے انحراف کا الزام

کریم نگر میں کسان مورچہ بی جے پی صدر سگناکر راؤ کی پریس کانفرنس
کریم نگر /27 اکٹوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ہم سبھی تلنگانہ کے رہنے والوں نے متحدہ جدوجہد کرکے تلنگانہ حاصل کرلیا ۔ قدرتی ووسائل سے استفادہ کرنے کیلئے گوداوری کرشنا کے آبی وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے پینے کے اور زرعی اغراض کو پورا کرنے کیلئے بالخصوص سری پاداایلم پلی پراجکٹ جس میں 53 ٹی ایم سی آبی ذخیرہ کی گنجائش رکھی جاکر 2004 میں راج شیکھر ریڈی نے سنگ بنیاد رکھا تھا ۔ موجودہ صورتحال میں 7 ٹی ایم سی پانی موجود ہے ۔ اس پانی کو کریم نگر ورنگل اور سدی پیٹ کے عوام کو اس موسم گرما میں پینے کے پانی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے لیکن اس پانی کو یہاں سے حیدرآباد منتقل کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ریاستی کسان مورچہ بی جے پی صدر سگناکر راؤ نے اپنی رہائش گاہ پر پرنٹ اینڈ الکٹرانک میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس ضلع کے ایٹالہ راجندر اور کے ٹی آر کیا کر رہے ہیں ۔ کے سی آر حکومت نے اقتدار پر آنے کے بعد سے ایلم پلی پراجکٹ کے تعمیری کاموں میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا ۔ پچھلی حکومتوں پر الزام دھرتے رہے کہ ویملور کے پاس اینٹک کا کام پورا ہوجائے تو کریم نگر ورنگل اور سدی پیٹ کے عوام کو پینے کے پانی کی سربراہی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ 7 ٹی ایم سی پانی میں اگر ایک دو ٹی ایم سی ، این ٹی پی سی کو چھوڑا جائے تو 3 تا 5 ٹی ایم سی پانی ادھر لایا جاسکتا ہے ۔ یہاں کی ضرورت کو نظر انداز کرکے حیدرآباد کو پانی لے جانے نہیں دیاجایء گا ۔ ان ٹیک کے کام اندرون ایک ماہ پورے کرائے جاسکتے ہیں تو ایلم پیٹ پراجکٹ میں 15 ٹی ایم سی سے 40 ٹی ایم سی پانی کی گنجائش تک اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ دیڑھ سال سے کے ٹی آر اور ہریش راؤ خاموش ہیں ۔ کریم نگر میں اور اطراف و اکناف کے مواضعات میں پینے اور زرعی اغراض کیلئے پانی نہیں ہے ۔ کم از کم 20 ٹی ایم سی پانی سے استفادہ کیا جاسکتا تھا ۔ کاٹن کارپوریشن آف انڈیا کی جانب سے 10 اکٹوبر سے کپاس کی خریدی کی جانا طئے پایا تھا ۔ اس کیلئے ہماری قومی پارٹی نے  2 اکٹوبر کو حیدرآباد میں ایک کل جماعتی اجلاس منعقد کرتے ہوئے کاٹن کارپوریشن آف انڈیا سے معاہدہ کروایا تھا ۔ اس کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جارہی ہیں اور 4100 روپئے قیمت دی جارہی ہے جبکہ مہاراشٹرا میں کم معیاری کپاس کو 4100 روپئے دئے جارہے ہیں ۔ کسانوں کی خودکشی کے واقعات کے سدباب وجوہات کا پتہ لگانے ایک کل جماعتی ماہرین کی کمیٹی کا کے سی آر نے وعدہ کیا اور بھول گئے ۔ برائے نام بھروسہ یاترا شروع کی گئی ۔ کسانوں کی خودکشی میں ضلع کو پہلا مقام مل چکا ہے لیکن حکومت خاموش ہے ۔ کے سی آر کے سنہرے تلنگانہ کے وعدہ میں اب تلنگانہ ، تلنگانہ شمشان بن رہا ہے کہہ کر انہوں نے تنقید کی ۔ اس پریس کانفرنس میں ملیشم یادو ، کشور ، وینوگوپال شنکر سجاتا پرشانت و دیگر موجود تھے ۔

TOPPOPULARRECENT