Sunday , May 28 2017
Home / Top Stories / ک 7000 کروڑ نقد اور قائد کی بے چینی

ک 7000 کروڑ نقد اور قائد کی بے چینی

منسوخ ہوگئی رقم کی تبدیلی کیلئے تگ و دو
حیدرآباد۔18نومبر(سیاست نیوز) 7000کروڑ روپئے کی تبدیلی نے سیاسی جماعت کے سرکردہ قائد کو خاموش کردیا ہے! اتنا ہی نہیں بلکہ این ڈی اے کے حلیف نہ ہوتے ہوئے بھی عوام کو ہونے والی مشکلات سے خود کو دور رکھنے کی ہدایات جاری کرنے پر وہ مجبور ہو چکے ہیں۔ قائد کے گھر میں 7ہزار کروڑ روپئے منسوخ کرنسی موجود ہے جسے تبدیل کروانے کیلئے وہ بے چین ہیں بلکہ ان کی نیندیں اڑ چکی ہیں جس کی وجہ سے وہ دہلی میں اپنے مسئلہ کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاستدانوں کے پاس موجود کالے دھن سے ہر کوئی واقف ہے کہ جن کی تنخواہوں سے زیادہ ان کے اخراجات ہوتے ہیں لیکن اس کے بعد بھی ان کے پاس دولت کی اتنی فراوانی ہوتی ہے کہ وہ ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں۔ ان کے پاس دولت کے پہنچنے کے ذرائع کے متعلق مختلف اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں لیکن اس کے بعد بھی متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے خاموشی اختیار کی جاتی ہے جس کی وجہ ان کا اقتدار ہوتا ہے۔ کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے معاملہ میں ملک بھر میں کہرام مچا ہوا ہے اور بی جے پی کی مخالف سیاسی جماعتیں اس مسئلہ پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے میں مصروف ہے جبکہ مہاراشٹرا میں تو بی جے پی کی حلیف جماعت بھی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ شامل ہو چکی ہیں اور عوام کو ہونے والی تکالیف پر احتجاجی لائحہ عمل ترتیب دینے میں مصروف ہیں لیکن این ڈی اے میں شامل نہ رہتے ہوئے عوام کو ہونے والی تکالیف پر خاموشی اختیار کرنے والی اس اہم شخصیت کی کیا مجبوری ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں فو ن پر بات کرنے کے بجائے دہلی میں ملاقات کا مشورہ دیا گیا۔ جبکہ اگر وزیر اعظم چاہیں تو 25نومبر کو اپنے دورۂ حیدرآباد کے دوران بھی ان سے ملاقات کرتے ہوئے ان 7000کرو ڑ کے متعلق تبادلہ ٔ خیال کرسکتے تھے۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر میں جاری کروڑہا روپئے کے کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کے لئے جو اطلاعات گشت کر رہی ہیں ان میں سیاسی قائدین کی دولت بھی شامل ہے جسے تبدیل کروانے کے لئے کوششیں کی جانے لگی ہیں۔ مرکزی انٹلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے بھی اس بات کا جائزہ لیا جارہا ہے کہ 7000کروڑ کے غیر محسوب رقومات رکھنے والے اس سیاسی سربراہ کی دولت کے متعلق موصول ہونے والی اطلاعات کی توثیق کی جائے۔ اسی طرح ان کے رویہ میں تیزی سے آرہی تبدیلی اور بی جے پی کی جانب جھکاؤ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ واقعی میں 7000کروڑ ایک جگہ جمع ہیں ممکن ہے کہ یہ رقم کسی مخصوص مشن کیلئے جمع رکھی گئی تھی لیکن 8نومبر کی شب بڑے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے اعلان نے ہلچل پیدا کردی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ان حالات میں جبکہ ملک وزیر اعظم کے اس فیصلہ اور طریقہ کار کی مذمت کررہا ہے ایسی صورت میں بڑھتی ہوئی قربتیں دال میں موجود کالے کی سمت نشاندہی کر رہی ہیں۔  وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد اگر اس غیر محسوب رقم کو تبدیل کروانے یا بیرون ملک بھجوانے کا کوئی راستہ نکل آتا ہے تو ایسی صورت میں ریاست تلنگانہ میں کرنسی نوٹوں کے معاملہ میں احتجاج شدت اختیار نہیں کرے گا بلکہ حالات بتدریج معمول پر آتے جائیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT