Wednesday , October 18 2017
Home / ہندوستان / گاؤدہشت گردوں کے ہاتھوں زدوکوب کے ذریعہ موت

گاؤدہشت گردوں کے ہاتھوں زدوکوب کے ذریعہ موت

کے عینی شاہدین گواہوں کی ہلاکتیں کیا صرف اتفاق ہیں؟
رانچی ۔ 13 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) گاؤ دہشت گردوں کے ہاتھوں زدوکوب کے ذریعہ ہلاکت کے واقعہ کے اہم گواہ علیم الدین انصاری کی جمعرات کے دن ضلع رام گڑھ کے ایک حادثہ میں ہلاکت واقع ہوئی۔ جلیل انصاری کی بیوی زلیخا جس کی عمر تقریباً 50 سال تھی، علیم الدین کی حقیقی بہن تھی۔ علیم الدین کے بہنوئی جلیل قتل کے اس مقدمہ میں عینی شاہد ہیں اور 12 اکٹوبر کو عدالت میں گواہی کے لئے پیش ہوئے تھے جبکہ عدالت سے کہا گیا کہ شناخت کی دستاویز اس گواہی کیلئے لازمی ہے۔ چنانچہ جلیل نے زلیخا کو روانہ کیا۔ علاوہ ازیں علیم الدین کے 22 سالہ فرزند شہزاد انصاری گھر واپس گئے تاکہ دستاویز لا سکیں۔ دونوں دستاویزات لانے کیلئے روانہ ہوکر پٹرول پمپ پہنچے جو رام گڑھ سیول کورٹ سے چند کیلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے، جبکہ ایک نامعلوم بائیک نے ان کی گاڑی کو ایک مہلک حادثہ میں ٹکر دے دی۔ زلیخا برسرموقع ہلاک ہوگئی جبکہ شہزاد کو معمولی زخم آئے اور وہ فی الحال زیرعلاج ہے۔ علیم الدین کی بیوی مریم خاتون اور جلیل کا الزام ہیکہ یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ’’قتل عمد‘‘ ہے کیونکہ جلیل علی الصبح عدالت کے احاطہ میں انتہاء پسند دائیں بازو کے چند گروپس کے سنگین نتائج کی دھمکیوں کا نشانہ بنا تھا اور اسے عدالت میں بیان دینے سے روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ 29 جون کو علیم الدین عرف اصغر علی کو دن دہاڑے عوام کے ہجوم کے سامنے ایک طاقتور ہجوم نے جس میں 100 سے زیادہ افراد شامل تھے، مبینہ طور پر اپنی ویان میں بازار تنڈ رام گڑھ قصبہ جھارکھنڈ میں بیف منتقل کرنے کے شبہ میں زدوکوب کرکے ہلاک کردیا تھا۔ 55 سالہ شخص کو ہلاک کرنے کے بعد اس گروپ نے اس کی ماروتی ویان کو پرہجوم بازار میں نذرآتش کردیا تھا۔ اس واقعہ کا مکمل ویڈیو وائرل ہوگیا تھا۔ اس کے بعد پولیس نے 12 سے زیادہ افراد بشمول 8 بجرنگ دل کارکن اور مقامی بی جے پی کے کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ مریم نے کہا کہ یہ شہری جو گہرے خوف کے سائے تلے زندگی گذار رہے ہیں، گھر سے باہر نکلنے سے بھی ڈرتے ہیں۔ زندگی مشکل اور خوفناک ہوچکی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ کیا کریں۔ ہماری حفاظت کرنے کیلئے کوئی بھی نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT