Saturday , June 24 2017
Home / ہندوستان / گاؤرکشکوں پر ملک گیر امتناع عائد کرنے کا مطالبہ

گاؤرکشکوں پر ملک گیر امتناع عائد کرنے کا مطالبہ

دہلی میں طلبہ اور انسانی حقوق تنظیموں کا احتجاج ‘ اقلیتوں پر مظالم کی مذمت
نئی دہلی۔3 مئی (سیاست ڈاٹ کام) طلبہ تنظیموں اور حقوق انسانی کے کئی گروپس نے آج بیکانیر ہائوز کے باہر احتجاجی دھرنا منظم کرتے ہوئے ملک بھر میں گائو رکشکوں پر امتناع عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی ساتھ 55 سالہ دودھ فروخت کرنے والے پہلو خان کے ارکان خاندان کے ساتھ انصاف پر بھی زور دیا جنہیں راجستھان میں ہلاک کردیا گیا۔ گائو رکشکوں نے الور (راجستھان) میں 3 اپریل کو پہلو خان کو مارپیٹ کرتے ہوئے ہلاک کردیا۔ احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جواہرلال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر موہت کمار پانڈے نے کہا کہ اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور صاف ظاہر کرتا ہے کہ اقلیتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے واقعات پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں اقلیتوں کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ احتجاجیوں نے ریزیڈنٹ کمشنر راجستھان کو یادداشت بھی پیش کی۔ اس میں ان تمام کو جن کا نام ایف آئی آر میں درج ہے، گرفتار کرنے، پہلو خان کے خاندان کو ایک کروڑ روپئے ادا کرنے اور دیگر دو زخمیوں عظمت خان اور رفیق خان کو بالترتیب 25 لاکھ اور 10 لاکھ روپئے ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ احتجاجیوں نے کہا کہ گائو رکشک گروپس پر ملک بھر میں امتناع عائد کیا جانا چاہئے۔ آل انڈیا پروگریسیو ویمنس اسوسی ایشن کی صدر کویتا کرشنن نے دعوی کیا کہ پولیس اور دیگر سکیوریٹی فورسس نے ان سے دھرنا منظم نہ کرنے کی درخواست کی لیکن میں نے انہیں بتایا کہ یہ پرامن احتجاج ہے اور آپ اسے روکنے کی کوشش کیوں کررہے ہیں۔ اس کے برعکس آپ گائو رکشکوں کو کیوں نہیں روکتے؟ احتجاجیوں نے ریزیڈنٹ کمشنر سے ملاقات کی جنہوں نے فوری کارروائی کا تیقن دیا۔ آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنس اسوسی ایشن، آل انڈیا کسان سبھا، آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن اور ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔ اس موقع پر مرکزی حکومت سے اقلیتوں پر مظالم کے واقعات کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔ گائو رکشکوں پر ملک گیر امتناع عائد کرتے ہوئے ان کے ظلم کا شکار ہونے والوں کے ساتھ انصاف کرنے اور متاثرین کو خاطرخواہ امداد فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT