Monday , April 24 2017
Home / ہندوستان / گاؤکشی، گوشت کی درآمد و برآمد پر مکمل امتناع کی تائید کا اعلان

گاؤکشی، گوشت کی درآمد و برآمد پر مکمل امتناع کی تائید کا اعلان

گاؤرکھشا کے نام پر دہشت پھیلانے والے نان اسٹیٹ ایکٹرس کا فوری نوٹ لینے کی ضرورت
صدرجمہوریہ کے نام علیگڑھ مسلم یونیورسٹی
اسٹوڈنٹس یونین کی یادداشت

علیگڑھ ۔ 12 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر نے ملک بھر میں گاؤکشی پر مکمل امتناع عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے زیراہتمام ڈسٹرکٹ کلکٹریٹ پر آج منعقدہ ریالی سے خطاب کرتے ہوئے اس کے صدر فیض الحسن نے کہا کہ ’’ہمارے ہندو بھائیوں کے جذبات و احساسات کو ملحوظ رکھتے ہوئے مرکزی حکومت ایسا کوئی امتناع عائد کرنے کا قدم اٹھاتی ہے تو ہم اس کی بھرپور تائید کریں گے‘‘۔ فیض الحسن نے کہا کہ برآمد پر مبنی تمام مسالخ کو بند کرنا اور گاؤکشی پر مکمل امتناع کے علاوہ بشمول بھینس دیگر مویشیوں کے گوشت کی درآمد و برآمدات پر مکمل پابندی کی بھی تائید کریں گے کیونکہ اس (کاروبار) سے ملک کے مختلف طبقات کے درمیان غیرضروری داخلی کشیدگی پیدا ہورہی ے۔ فیض الحسن نے کہا کہ مسلخ گاہوں کو بھینسوں کی منتقلی فرقہ وارانہ اختلاف و کشیدگی کی وجہ بن گئی ہے کیونکہ ملک کے مختلف مقامات اور عام شاہراہوں پر نام نہاد گاؤ رکھشک مسلسل قانون اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں۔ اس موقع پر صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کے نام ایک یادداشت میں کہا گیا ہیکہ ملک کو ان نان اسٹیٹ ایکٹرس (غیر سرکاری کارندوں) کے بارے میں فوری نوٹ لینے کی ضرورت ہے جو دہشت پھیلا رہے ہیں اور گائے کے تحفظ کے نام پر ارض وطن پر امن و امان کو دھمکا رہے ہیں۔ صدرجمہوریہ کے نام اس یادداشت میں جو ایڈیشنل سٹی مجسٹریٹ کو پیش کی گئی، یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کے خلاف ظالمانہ حرکات کے انسداد کیلئے ایک نیا قانون وضع کیا جائے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT